تاریخ ادب اردو 1700 ع تک جلد اول پروفیسر سیدہ جعفر اور پروفیسر گیان چند جین


 

Tareekh Adab e Urdu 1700 Tak Jild Awal By Professor Syeda Jaffir Aur Gian Chandd Jeen


میں نے اردو ادب کی تاریخ پڑھنے کی شروعات کسی نصابی کتاب سے نہیں کی تھی، بلکہ ایک پرانی لائبریری کی الماری میں رکھی ہوئی موٹی جلد سے کی تھی، جس کے صفحات پر وقت کی ہلکی سی زردی تھی اور حاشیوں میں کسی پرانے طالب علم کے نوٹس بھی لکھے ہوئے تھے۔ اس دن مجھے پہلی بار اندازہ ہوا کہ تاریخ صرف ناموں اور تاریخوں کا انبار نہیں ہوتی، بلکہ وہ ایک زندہ کہانی ہوتی ہے جس میں شاعر، ادیب، دربار، شہر اور عام آدمی سب اپنی اپنی جگہ موجود ہوتے ہیں۔ تاریخ ادب اردو 1700 ع تک جلد اول اسی کہانی کا پہلا دروازہ ہے، اور اسے پروفیسر سیدہ جعفر اور پروفیسر گیان چند جین نے بڑی محنت اور سلیقے سے مرتب کیا ہے۔

یہ جلد اردو کے ابتدائی دور سے لے کر سترہ سو عیسوی تک کے سفر کو سمیٹتی ہے، یعنی وہ زمانہ جب اردو ابھی اپنی شکل تلاش کر رہی تھی، جب دکن اور شمال کی بولیوں میں شاعری کے نئے تجربے ہو رہے تھے اور جب صوفی بزرگوں، درباری شاعروں اور عوامی کہانی کاروں کی آوازیں ایک دوسرے سے مل رہی تھیں۔ کتاب میں صرف مشہور نام نہیں ہیں، بلکہ ان پس منظر کی بھی خبر دی گئی ہے جن سے شاعری نے جنم لیا، جیسے سیاسی تبدیلیاں، شہروں کی رونق، زبانوں کا میل جول اور تہذیبی ماحول۔ اسی لیے یہ کتاب پڑھنے والا صرف شعر یاد نہیں کرتا، بلکہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ وہ شعر کیوں کہا گیا اور کس ماحول میں کہا گیا۔

سیدہ جعفر اور گیان چند جین کا انداز مجھے اس لیے پسند آیا کہ وہ مشکل بات کو مشکل زبان میں نہیں لکھتے۔ وہ تحقیق کے حوالے دیتے ہیں، مگر جملے سادہ رکھتے ہیں، اور جہاں کسی شاعر کے بارے میں رائے مختلف ہو، وہاں دونوں طرف کی بات سامنے رکھ کر قاری کو خود فیصلہ کرنے کا موقع دیتے ہیں۔ ایم اے اردو اور بی اے اردو کے طلبہ کے لیے یہی انداز سب سے زیادہ کام کا ہوتا ہے، کیونکہ امتحان میں صرف رٹی ہوئی سطریں نہیں چلتیں، بلکہ دلیل اور ترتیب بھی دیکھی جاتی ہے۔ جو طالب علم اس کتاب کے ابواب کو ترتیب سے پڑھتا ہے، اس کے نوٹس میں ایک تسلسل آ جاتا ہے اور وہ دور کی تصویر کے ساتھ جواب لکھ سکتا ہے۔

اس جلد کو پڑھنے کے بعد قاری کا دل خود بخود اگلی کتابوں کی طرف جاتا ہے۔ مثال کے طور پر تاریخ ادب اردو جلد چہارم پڑھنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اردو کی تاریخ آگے چل کر کس طرح نئے موڑ لیتی ہے۔ اسی طرح اردو زبان وادب کی مختصر تاریخ ایک مختصر مگر جامع نقشہ پیش کرتی ہے، جس سے پوری تاریخ کا خاکہ ذہن میں بیٹھ جاتا ہے۔ میں اکثر طلبہ کو یہی مشورہ دیتا ہوں کہ پہلے اس جلد کو آرام سے پڑھیں، پھر مختصر تاریخ سے اپنی معلومات کو دہرائیں، تاکہ تفصیل اور خلاصہ دونوں ساتھ ساتھ یاد رہیں۔

تاریخ کو صرف پڑھنا کافی نہیں ہوتا، اس پر سوال بھی اٹھانے چاہئیں، اور یہیں تنقید کا کردار شروع ہوتا ہے۔ اردو ادب کی تنقیدی تاریخ پڑھنے سے قاری کو یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ کسی دور کے ادب کو کس نظر سے دیکھا گیا اور کس شاعر کی قدر دیر سے ہوئی۔ میں نے یہ کتاب پہلی بار پی ڈی ایف کی صورت میں پڑھی تھی، اور اس صورت میں مطالعہ اور بھی آسان ہو گیا تھا، کیونکہ میں کسی بھی باب کو دوبارہ کھول سکتا تھا۔ آج بہت سے قاری تاریخ ادب اردو پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ تلاش کرتے ہیں، اور میرا مشورہ یہ ہے کہ ڈاؤن لوڈ کے بعد کتاب کو صرف محفوظ نہ کریں، بلکہ روز تھوڑا تھوڑا پڑھیں اور ہر باب کے آخر میں اپنا خلاصہ خود بنائیں۔

آخر میں یہی کہوں گا کہ یہ جلد ان کتابوں میں سے ہے جو پڑھنے کے بعد بھی ذہن میں رہتی ہیں۔ اس میں تاریخ کا خشک پن نہیں، بلکہ ایک تہذیب کی آواز ہے اور ایک زبان کے بننے کی کہانی ہے۔ اگر آپ اردو ادب سے سچی دلچسپی رکھتے ہیں، یا ایم اے اور بی اے کے طالب علم ہیں، تو اس جلد سے شروعات کرنا ایک اچھا فیصلہ ہوگا۔ اسے آرام سے پڑھیں، اس کے حوالوں کو سمجھیں اور پھر خود فیصلہ کریں کہ اردو کی یہ پرانی دنیا آپ کو کتنی اپنی لگتی ہے۔

Download

No comments: