Showing posts with label URDU POETRY. Show all posts
Showing posts with label URDU POETRY. Show all posts

دیوان ناسخ امام بخش ناسخ

Dewan e Nasikh By Imam Bakhsh Nasikh Pdf free download

 


دیوان ناسخ — ایک تعارف

اردو شاعری کی تاریخ میں لکھنؤ کے دبستان کو ایک ممتاز اور نمایاں مقام حاصل ہے، اور اس دبستان کے سب سے نامور شاعروں میں امام بخش ناسخ کا نام سر فہرست آتا ہے۔ ان کا دیوان اردو کی کلاسیکی شاعری کا ایک قیمتی اور نایاب سرمایہ ہے جس میں ان کی پوری شاعرانہ زندگی، ان کے فکری رجحانات اور ان کے عہد کی ادبی فضا کا عکس صاف دیکھا جا سکتا ہے۔

امام بخش ناسخ کا تعلق لکھنؤ سے تھا اور وہ خواجہ حیدر علی آتش کے ہم عصر تھے۔ دونوں بڑے شاعروں کے درمیان مشاعروں اور ادبی محفلوں میں جو علمی و ادبی معرکے ہوئے، وہ اردو ادب کی تاریخ کا ایک دلچسپ اور یادگار باب ہیں۔ ناسخ کی شاعری میں فارسی آمیزی اور ایک خاص قسم کی شوکت نمایاں ہے، ان کے اشعار پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ شاعر زبان پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

دیوان ناسخ میں غزلوں کے علاوہ قصائد اور دیگر اصناف سخن بھی شامل ہیں۔ ان کی غزلوں میں عشق کی نازک کیفیات، تصوف کے گہرے مضامین اور زندگی کے باریک مشاہدات جا بجا ملتے ہیں۔ زبان کی صفائی، بیان کی نزاکت اور مضمون آفرینی کی قوت ان کی شاعری کی نمایاں پہچان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل ذوق آج بھی ان کے دیوان کو چاؤ سے پڑھتے ہیں۔

ناسخ کی شاعری کی ایک خصوصیت ان کی مشکل پسندی بھی ہے۔ وہ آسان اور سطحی بات کہنے کے بجائے گہرے اور دقیق مضامین باندھنے کے شوقین تھے۔ بعض نقادوں نے اسے ان کی کمزوری قرار دیا ہے جبکہ کئی اہل نظر اسے ان کی فکری گہرائی کی علامت سمجھتے ہیں۔ بہرحال، یہی انداز ان کی شاعری کو دوسرے شاعروں سے ممتاز کرتا ہے۔

کلاسیکی اردو شاعری کے مطالعے کے بغیر اردو ادب کی تاریخ ادھوری ہے۔ میر، سودا، درد اور غالب کے ساتھ ساتھ ناسخ کا مطالعہ بھی اس لیے ضروری ہے کہ ان سے ہمیں لکھنؤ کے ادبی ماحول، وہاں کی تہذیب اور اس دور کے شعری رجحانات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ دیوان ناسخ اس لحاظ سے ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔

پرانے دیوانوں کی چھپی ہوئی جلدیں اب نایاب ہوتی جا رہی ہیں اور اچھے نسخوں کا ملنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں دیوان ناسخ کا پی ڈی ایف صورت میں دستیاب ہونا شاعری کے شائقین کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں۔ اب یہ قیمتی سرمایہ ہر اس شخص کی پہنچ میں ہے جو اردو کی کلاسیکی شاعری سے محبت رکھتا ہے۔

اردو ادب کے طلبہ و طالبات کے لیے اس دیوان کا مطالعہ نصابی ضرورت بھی ہے اور ذوقی تربیت کا ذریعہ بھی۔ کلاسیکی غزل کی ساخت، اس کی اصطلاحات اور اس کے مضامین کو سمجھنے کے لیے ناسخ کا دیوان ایک بہترین نمونہ ہے۔ اساتذہ بھی اپنے شاگردوں کو اس کے مطالعے کی تلقین کرتے ہیں۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ اب آپ دیوان ناسخ پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کر کے اسے اپنے موبائل یا کمپیوٹر میں محفوظ کر سکتے ہیں۔ دیوان ناسخ پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کی سہولت نے اس کلاسیکی شاعری کو نئی نسل تک پہنچانا بہت آسان کر دیا ہے۔ کہیں بھی، کبھی بھی آپ ناسخ کی غزلوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

جو لوگ اردو شاعری کو صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی ورثہ سمجھتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اس دیوان کا مطالعہ ضرور کریں۔ ہر غزل پڑھنے والے کو ایک نئے جہان کی سیر کراتی ہے اور زبان و بیان کے نئے رنگ دکھاتی ہے۔ یہی کلاسیکی شاعری کا اصل لطف ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ امام بخش ناسخ کا دیوان اردو شاعری کے ان خزانوں میں سے ہے جن کی قدر وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہی جائے گی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس ورثے کو پڑھیں، سمجھیں اور آنے والی نسلوں تک پہنچائیں۔

DOWNLOAD


OR


READ ONLINE

زٹل نامہ کلیاتِ جعفر زٹلی

Zattal Nama Kulyat e Jaffir Zattli By Rasheed Hassan Khan pdf free download

اردو ادب میں طنز و مزاح کی روایت بہت قدیم ہے اور اس روایت کا سب سے تابندہ نام جعفر زٹلی کا ہے۔ جعفر زٹلی مغل عہد کی دہلی کے وہ منفرد شاعر ہیں جنھوں نے اپنی تیز زبان اور بے باک لہجے سے امراء سے لے کر عام آدمی تک سب کو ہنسایا بھی اور سوچنے پر مجبور بھی کیا۔ ان کا اصل نام محمد جعفر تھا اور زٹلی ان کا تخلص تھا جو ان کی شریر اور طنزیہ طبیعت کی عکاسی کرتا ہے۔ روایت ہے کہ وہ اورنگ زیب عالمگیر کے زمانے میں دہلی میں مقیم تھے اور ان کی حاضر جوابی سے بڑے بڑے درباری بھی گھبراتے تھے۔

زٹل نامہ جعفر زٹلی کی سب سے مشہور تصنیف ہے۔ یہ ان کی طنزیہ اور مزاحیہ نظموں کا وہ مجموعہ ہے جس میں انھوں نے اپنے عہد کے معاشرتی بگاڑ، درباری چال بازیوں، مذہبی منافقت اور انسانی کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے۔ زٹل نامہ کی نظمیں صرف ہنسانے کے لیے نہیں لکھی گئیں بلکہ ان کے پیچھے ایک گہرا سماجی شعور کام کر رہا ہے۔ جعفر زٹلی ہنسی ہنسی میں وہ بات کہہ جاتے ہیں جو کوئی سنجیدہ واعظ برسوں کی نصیحت میں نہیں کہہ پاتا، اور یہی ان کے کلام کی سب سے بڑی خوبی ہے۔

کلیاتِ جعفر زٹلی میں زٹل نامہ کے علاوہ ان کا دیگر کلام بھی یکجا کر دیا گیا ہے۔ اس کلیات کی ترتیب و تدوین کا سہرا ڈاکٹر رشید حسن خان کے سر ہے جنھوں نے بڑی عرق ریزی سے جعفر زٹلی کے منتشر کلام کو جمع کیا، اس کی تحقیق و تدوین کی اور قارئین کے لیے ایک مستند متن فراہم کیا۔ کسی بھی قدیم شاعر کے کلام کو مستند صورت میں پیش کرنا آسان کام نہیں ہوتا کیونکہ قلمی نسخوں میں اختلاف پایا جاتا ہے اور بسا اوقات کلام غلط طور پر بھی منسوب کر دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر رشید حسن خان نے یہ دشوار کام نہایت دیانت داری سے سر انجام دیا ہے، اسی لیے یہ کلیات محققین اور عام قارئین دونوں کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔

جعفر زٹلی کی شاعری کی زبان عام فہم اور روزمرہ کی زبان ہے۔ وہ ثقیل الفاظ اور بھاری بھرکم ترکیبوں کے بجائے سیدھی سادی مگر دل میں اتر جانے والی بات کہتے ہیں۔ ان کے ہاں طنز محض تفریح کا سامان نہیں بلکہ اصلاح کا ذریعہ ہے۔ جب وہ کسی بخیل کا نقشہ کھینچتے ہیں یا کسی ریاکار کی خبر لیتے ہیں تو قاری ہنستا بھی ہے اور اپنے گریبان میں بھی جھانکتا ہے۔ طنز کا اصل کمال یہی ہے کہ وہ آئینہ دکھائے اور آئینہ دیکھنے والا برا بھی نہ مانے۔

آج کے دور میں جب ہر سو بے چینی اور کشیدگی کا ماحول ہے، جعفر زٹلی کا کلام پڑھنا تازہ ہوا کے جھونکے جیسا محسوس ہوتا ہے۔ ان کی نظمیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہنسنا بھی ایک سنجیدہ عمل ہے اور جو معاشرہ ہنسنا بھول جائے وہ سوچنا بھی بھول جاتا ہے۔ اردو طنزیہ و مزاحیہ شاعری کے طالب علموں کے لیے تو یہ کتاب لازمی مطالعہ ہے ہی، عام قاری بھی اسے پڑھ کر محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

اس کتاب کی ایک نمایاں خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں جعفر زٹلی کے عہد کی معاشرتی زندگی کی جھلک ملتی ہے۔ ان کی نظموں میں دہلی کے بازار، دربار کے آداب اور اس زمانے کے رسم و رواج طنزیہ انداز میں محفوظ ہو گئے ہیں۔ یوں یہ کلیات محض شاعری کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک تاریخی دستاویز بھی ہے جو ہمیں تین صدی پرانی دہلی کی سیر کراتی ہے۔

اگر آپ اردو ادب سے محبت کرتے ہیں، طنز و مزاح کے دلدادہ ہیں یا کلاسیکی شاعری کے مطالعے کا ذوق رکھتے ہیں تو کلیاتِ جعفر زٹلی آپ کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے۔ اس کتاب کی پی ڈی ایف مفت ڈاؤن لوڈ کیجیے اور جعفر زٹلی کے بے مثال طنز سے لطف اندوز ہوئیے۔ نیچے دیے گئے ڈاؤن لوڈ بٹن پر کلک کر کے آپ زٹل نامہ کلیاتِ جعفر زٹلی کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ مفت کر سکتے ہیں۔ پڑھیے، مسکرائیے اور اسے اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کیجیے تاکہ اردو کے اس عظیم مزاح گو شاعر کا کلام زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچ سکے۔

>

DOWNLOAD

OR

READ ONLINE

کلیاتِ اقبال اردو مطالب و معانی معہ فرہنگ

 

Kulyat e Iqbal Urdu Pdf Free Download

<

علامہ محمد اقبال برصغیر کے وہ عظیم شاعر، مفکر اور فلسفی ہیں جنھیں دنیا "شاعرِ مشرق" کے لقب سے یاد کرتی ہے۔ ان کی شاعری محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ ایک مکمل فلسفہ حیات ہے جو انسان کو خودی، خود اعتمادی اور عمل کا درس دیتی ہے۔ "کلیاتِ اقبال" میں ان کی اردو شاعری کو یکجا کیا گیا ہے، اور یہ وہ کتاب ہے جس میں اقبال کے اردو کلام کے مطالب و معانی کے ساتھ فرہنگ بھی شامل ہے تاکہ ہر قاری ان کے کلام کو پوری طرح سمجھ سکے۔

اقبال کی زبان عام شاعروں سے مختلف ہے۔ ان کے ہاں فارسی آمیز اردو، فلسفیانہ اصطلاحات اور قرآنی تلمیحات اس کثرت سے ملتی ہیں کہ عام قاری بسا اوقات ان کے اشعار کے صحیح مطالب تک نہیں پہنچ پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال کی شاعری کے ساتھ شرح اور فرہنگ کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ اس میں مشکل الفاظ کے معانی اور اشعار کی تشریح ساتھ ساتھ دی گئی ہے۔ فرہنگ میں نہ صرف مشکل الفاظ کے معانی دیے گئے ہیں بلکہ تلمیحات اور تاریخی حوالوں کی وضاحت بھی موجود ہے۔ یوں قاری کو لغت کھولنے کی زحمت نہیں کرنی پڑتی اور وہ اقبال کے فکر سے براہ راست مستفید ہو سکتا ہے۔

اقبال کی اردو شاعری کے تین بڑے مجموعے بانگِ درا، بالِ جبریل اور ضربِ کلیم ہیں۔ بانگِ درا ان کے ابتدائی دور کی شاعری پر مشتمل ہے جس میں حبِ وطن اور قومی درد نمایاں ہے۔ بالِ جبریل ان کی فکری پختگی کا مظہر ہے جس میں خودی کا فلسفہ اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔ ضربِ کلیم میں انھوں نے اپنے عہد کے سیاسی و سماجی مسائل پر گہری نظر ڈالی ہے۔ اس کلیات میں ان تینوں مجموعوں کی اردو شاعری شامل ہے۔

اقبال کی شاعری کا مرکزی پیغام "خودی" ہے۔ وہ انسان کو اپنی ذات کی پہچان اور اپنی صلاحیتوں پر یقین کا درس دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک مردِ مومن وہ ہے جو تقدیر کے شکوے کے بجائے اپنی تقدیر آپ بناتا ہے۔ عشق، چاہے مجازی ہو یا حقیقی، ان کی شاعری میں زندگی کی سب سے بڑی قوت کے طور پر ابھرتا ہے۔ انھوں نے مسلمانوں کو ان کے شاندار ماضی کی یاد دلائی اور ان میں ایک نئی روح پھونکنے کی کوشش کی۔ ان کی نظموں میں مشرق و مغرب کی تہذیبوں کا تقابلی جائزہ بھی ملتا ہے۔ نوجوانوں کے لیے تو اقبال کی شاعری ایک مشعلِ راہ ہے جو انھیں سستی اور مایوسی سے نکال کر عمل کے میدان میں لاتی ہے۔

طلبہ کے لیے یہ کتاب خاص طور پر مفید ہے۔ اردو ادب کے نصاب میں اقبال کی شاعری کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، اور امتحانات میں ان کے اشعار کی تشریح اکثر پوچھی جاتی ہے۔ اس کتاب میں دیے گئے مطالب و معانی اور فرہنگ طلبہ کو امتحان کی تیاری میں غیر معمولی مدد فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح سی ایس ایس، پی ایم ایس اور لیکچرر کے ٹیسٹوں کی تیاری کرنے والوں کے لیے بھی یہ ایک قابلِ اعتماد ذریعہ ہے۔

اقبال کو پڑھنا دراصل اپنے آپ کو پڑھنا ہے۔ ان کی شاعری میں وہ گہرائی ہے جو ہر دور کے قاری کو اپنا عکس دکھاتی ہے۔ ان کے اشعار دلوں میں امید کی شمع روشن کرتے ہیں اور انسان کو اس کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں۔ یہی اقبال کی شاعری کا معجزہ ہے کہ وہ صدیوں پرانی ہو کر بھی نئی لگتی ہے۔ آج جب نوجوان نسل مایوسی اور بے مقصدیت کا شکار ہے، اقبال کا پیغام پہلے سے زیادہ زندہ اور موثر محسوس ہوتا ہے۔

اگر آپ اردو شاعری سے محبت کرتے ہیں اور اقبال کے کلام کو صحیح معنوں میں سمجھنا چاہتے ہیں تو "کلیاتِ اقبال اردو مطالب و معانی معہ فرہنگ" آپ کے لیے بہترین انتخاب ہے۔ اس کتاب کی پی ڈی ایف مفت ڈاؤن لوڈ کیجیے اور شاعرِ مشرق کے فکر انگیز کلام سے لطف اندوز ہوئیے۔ نیچے دیے گئے ڈاؤن لوڈ بٹن پر کلک کر کے آپ کلیاتِ اقبال کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ مفت کر سکتے ہیں۔ پڑھیے، غور کیجیے اور اسے اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کیجیے۔

p>

DOWNLOAD


OR


READ ONLINE

ساری نظمیں ذی شان ساحل pdf

 

Sari Nazmin By Zeshan Sahil pdf free download


ساری نظمیں — ایک تعارف

اردو شاعری میں غزل کو تو سب جانتے ہیں، مگر نظم کی صنف کا اپنا ایک الگ ہی لطف ہے۔ غزل میں شاعر ایک ایک شعر میں ایک ایک دنیا بساتا ہے، جبکہ نظم میں وہ ایک ہی موضوع کو لے کر اسے پوری طرح کھولتا ہے، اس کے ہر پہلو کو چھوتا ہے۔ جو لوگ شاعری کو گہرائی سے پڑھنا چاہتے ہیں، ان کے لیے نظم ایک خزانہ ہے۔ اور جدید اردو نظم کے شاعروں میں ذی شان ساحل کا نام ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔

ذی شان ساحل اردو کے ان شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے نظم کو اپنی پہچان بنایا۔ ان کی شاعری میں آج کے عہد کی دھڑکن صاف سنائی دیتی ہے۔ وہ اپنے ارد گرد کی دنیا کو بڑی گہرائی سے دیکھتے ہیں اور پھر اسے ایسے الفاظ میں ڈھالتے ہیں کہ پڑھنے والا حیران رہ جاتا ہے۔ ان کی نظمیں نہ تو بوجھل ہیں اور نہ ہی سطحی — ان میں ایک خاص قسم کا توازن ہے جو کم ہی شاعروں کے نصیب میں آتا ہے۔

"ساری نظمیں" ان کی نظموں کا مجموعہ ہے جس میں ان کی تمام یادگار نظمیں ایک جگہ جمع کر دی گئی ہیں۔ یہ کتاب ان قارئین کے لیے ایک تحفہ ہے جو ذی شان ساحل کی شاعری کو ایک ساتھ پڑھنا چاہتے ہیں۔ الگ الگ رسائل میں بکھری ہوئی نظموں کو ایک جلد میں دیکھنا ایک خوشی کی بات ہے، اور یہ مجموعہ وہی خوشی فراہم کرتا ہے۔

ان کی نظموں کے موضوعات ہماری روزمرہ زندگی سے لیے گئے ہیں۔ محبت، تنہائی، شہر کی بے چینی، وقت کا گزرنا، یادوں کا بوجھ — یہ وہ موضوعات ہیں جن سے ہر انسان کا واسطہ پڑتا ہے۔ مگر ذی شان ساحل ان عام موضوعات کو بھی ایک نئے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ان کی نظم پڑھتے ہوئے آپ کو لگتا ہے جیسے شاعر آپ کے دل کی بات کہہ رہا ہو۔

ان کے اسلوب کی سب سے بڑی خوبی ان کی زبان ہے۔ سادہ، رواں اور عام فہم زبان میں وہ گہرے مضامین باندھتے ہیں۔ ان کی نظموں میں مشکل الفاظ کا انبار نہیں ہوتا، مگر معنی کی گہرائی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری نوجوان نسل میں بھی مقبول ہے۔ آج کے نوجوان جو کلاسیکی شاعری سے دور بھاگتے ہیں، وہ ذی شان ساحل کی نظمیں شوق سے پڑھتے ہیں۔

شہر، خاص طور پر کراچی کی زندگی ان کی شاعری میں جا بجا جھلکتی ہے۔ شہر کی بھیڑ، اس کی روشنیاں، اس کی تنہائیاں — یہ سب ان کی نظموں کا حصہ ہیں۔ جو لوگ بڑے شہروں میں رہتے ہیں، وہ ان کی نظموں میں اپنی زندگی کا عکس دیکھتے ہیں۔ یہی ایک بڑے شاعر کی پہچان ہے کہ وہ اپنے عہد کی تصویر کھینچے۔

نظم پڑھنے کا اپنا ایک الگ تجربہ ہے۔ غزل کے شعر تو زبان زد ہو جاتے ہیں، مگر نظم کو پورا پڑھنا پڑتا ہے۔ اس میں صبر چاہیے، توجہ چاہیے۔ مگر جو لوگ یہ صبر کرتے ہیں، انھیں ایک ایسا لطف ملتا ہے جو غزل میں نہیں ملتا۔ "ساری نظمیں" اسی لطف کا دروازہ ہے۔

ادبی حلقوں میں ذی شان ساحل کی نظموں کو سراہا گیا ہے۔ نقادوں نے ان کی جدیدیت، ان کے استعاروں کی تازگی اور ان کے لہجے کی صداقت کی تعریف کی ہے۔ ان کی نظمیں ادبی رسائل میں شائع ہوتی رہی ہیں اور مشاعروں میں بھی انھیں داد ملی ہے۔ یہ مجموعہ ان کی اسی ادبی سفر کی دستاویز ہے۔

مجھے ان کی شاعری کی ایک بات بہت پسند ہے کہ وہ دکھ کو بھی خوبصورتی سے پیش کرتے ہیں۔ ان کی نظموں میں اداسی ہے، مگر وہ اداسی مایوسی میں نہیں بدلتی۔ ایک امید، ایک روشنی کہیں نہ کہیں موجود رہتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی نظمیں پڑھ کر دل ہلکا محسوس ہوتا ہے۔

شاعری کے طالب علموں کے لیے یہ مجموعہ ایک بہترین نمونہ ہے۔ جدید اردو نظم کی ساخت، اس کے استعارے، اس کا لہجہ — یہ سب اس مجموعے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اساتذہ اپنے شاگردوں کو جدید نظم سمجھانے کے لیے اس کی مثالیں دے سکتے ہیں۔

جو لوگ اردو شاعری سے محبت رکھتے ہیں، انھیں چاہیے کہ وہ نظم کی صنف کو بھی اتنی ہی توجہ دیں جتنی غزل کو دیتے ہیں۔ "ساری نظمیں" اس سفر کا ایک خوبصورت آغاز ہو سکتا ہے۔ ایک ایک نظم کو ٹھہر کر پڑھیے، اس کے معنی پر غور کیجیے، اور پھر دیکھیے کہ شاعری آپ سے کیا کیا باتیں کرتی ہے۔

خوش قسمتی سے اب یہ مجموعہ پی ڈی ایف کی صورت میں دستیاب ہے۔ اس کتاب کی پی ڈی ایف مفت ڈاؤن لوڈ کیجیے اور ذی شان ساحل کی نظموں سے لطف اندوز ہوئیے۔ نیچے دیے گئے ڈاؤن لوڈ بٹن پر کلک کر کے آپ "ساری نظمیں" کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ مفت کر سکتے ہیں۔ پڑھیے اور اپنے دوستوں کے ساتھ بھی شیئر کیجیے۔

DOWNLOAD

دیوان میر فارسی مع اردو ترجمہ افضال احمد سید


Dewan e Mir with urdu Translation By Afzaal Ahmad Syed pdf free download


دیوان میر فارسی مع اردو ترجمہ — ایک تعارف

میر تقی میر کا نام اردو شاعری میں ایک ایسی بلندی پر ہے جہاں کم ہی شاعر پہنچ سکے ہیں۔ انھیں "خداے سخن" کہا جاتا ہے، اور یہ خطاب بے جا نہیں۔ ان کی اردو غزلوں نے دلوں پر جو راج کیا ہے، وہ آج بھی قائم ہے۔ مگر کم لوگ جانتے ہیں کہ میر نے اردو کے علاوہ فارسی میں بھی ایک مکمل دیوان چھوڑا ہے۔ یہ فارسی دیوان ان کے فن کا ایک اور روشن پہلو ہے۔

اٹھارویں صدی میں فارسی ابھی علمی و ادبی زبان تھی۔ بڑے شاعر اردو کے ساتھ ساتھ فارسی میں بھی شعر کہتے تھے۔ میر بھی اس روایت سے الگ نہیں تھے۔ انھوں نے فارسی میں غزلیں، قصیدے اور دیگر اصناف میں طبع آزمائی کی۔ ان کا فارسی دیوان اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ صرف اردو کے نہیں بلکہ فارسی کے بھی قادر الکلام شاعر تھے۔

میر کے فارسی دیوان کی اہمیت کئی لحاظ سے ہے۔ پہلی تو یہ کہ اس سے میر کی شاعرانہ شخصیت کا مکمل خاکہ سامنے آتا ہے۔ دوسری یہ کہ اس سے ہمیں اس دور کی ادبی فضا کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے جب اردو اور فارسی دونوں زبانیں ایک ساتھ پروان چڑھ رہی تھیں۔ تیسری یہ کہ ان کی فارسی شاعری میں بھی وہی درد، وہی سوز اور وہی گہرائی ہے جو ان کی اردو شاعری کی پہچان ہے۔

مسئلہ یہ تھا کہ فارسی سے ناواقف قارئین اس خزانے سے محروم رہ جاتے تھے۔ افضال احمد سید نے اس کمی کو پورا کیا۔ انھوں نے میر کے فارسی دیوان کا اردو ترجمہ کیا اور یوں یہ قیمتی سرمایہ ہر اردو دان کی پہنچ میں آ گیا۔ ترجمہ کرنا آسان کام نہیں، خاص طور پر شاعری کا ترجمہ۔ اس کے لیے دونوں زبانوں پر عبور کے ساتھ ساتھ شاعرانہ ذوق بھی درکار ہوتا ہے۔

افضال احمد سید اردو کے معروف اہل قلم ہیں۔ انھوں نے ترجمے کے فن میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ میر کے فارسی دیوان کا ان کا ترجمہ بڑی محنت اور دیانت سے کیا گیا ہے۔ انھوں نے صرف لفظی ترجمہ نہیں کیا بلکہ شعر کی روح کو اردو میں منتقل کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہی ایک اچھے مترجم کی پہچان ہے۔

ترجمے کی سب سے بڑی خوبی اس کی روانی ہے۔ پڑھتے ہوئے کہیں یہ محسوس نہیں ہوتا کہ یہ ترجمہ ہے۔ اشعار اردو میں بھی اتنے ہی پراثر لگتے ہیں جتنے فارسی میں ہوں گے۔ مترجم نے مشکل فارسی ترکیبوں کو آسان اردو میں اس خوبصورتی سے ڈھالا ہے کہ قاری بے تکلف پڑھتا چلا جاتا ہے۔

میر کی فارسی شاعری میں غزل کے علاوہ دیگر اصناف بھی شامل ہیں۔ ان کی فارسی غزلوں میں عشق کے وہی نازک مضامین ہیں جو ان کی اردو غزلوں میں ملتے ہیں۔ مگر فارسی میں ان کا لہجہ کچھ اور ہی رنگ دکھاتا ہے۔ دونوں زبانوں کی شاعری کا موازنہ کرنا ایک دلچسپ ادبی تجربہ ہے۔

اس ایڈیشن کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں اصل فارسی متن کے ساتھ اردو ترجمہ دیا گیا ہے۔ جو لوگ فارسی جانتے ہیں، وہ اصل سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں، اور جو نہیں جانتے، وہ ترجمے سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ یہ دوہرا فائدہ اس کتاب کو خاص بناتا ہے۔

تحقیق کے طالب علموں کے لیے یہ کتاب ایک قیمتی ماخذ ہے۔ میر کی شاعری پر کام کرنے والوں کے لیے فارسی دیوان کا مطالعہ ناگزیر ہے، اور اردو ترجمے کی موجودگی میں یہ کام بہت آسان ہو گیا ہے۔ ایم اے اور ایم فل کے طلبہ اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

مجھے ذاتی طور پر میر کی شاعری میں جو بات سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے، وہ ان کا سوز ہے۔ ان کے اشعار میں ایک ایسا درد ہے جو دل کو چھو لیتا ہے۔ فارسی میں بھی یہی سوز موجود ہے۔ پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ شاعر نے جو کچھ کہا ہے، وہ دل سے کہا ہے۔

کلاسیکی شاعری کے شائقین کے لیے یہ کتاب ایک نعمت ہے۔ میر کو صرف اردو کے شاعر کے طور پر جاننا ان کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ ان کا فارسی دیوان ان کی عظمت کا ایک اور ثبوت ہے۔ ہر اردو دان کو اس کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

خوش قسمتی سے اب یہ کتاب پی ڈی ایف کی صورت میں دستیاب ہے۔ اس کتاب کی پی ڈی ایف مفت ڈاؤن لوڈ کیجیے اور میر کے فارسی کلام کا اردو ترجمے کے ساتھ مطالعہ کیجیے۔ نیچے دیے گئے ڈاؤن لوڈ بٹن پر کلک کر کے آپ "دیوان میر فارسی مع اردو ترجمہ" کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ مفت کر سکتے ہیں۔ پڑھیے اور اپنے دوستوں کے ساتھ بھی شیئر کیجیے۔

 DOWNLOAD

کلام جوہر رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر

 

Kalam e Johar By Moulana Muhammad Ali Johar pdf free download


کلام جوہر — ایک تعارف

مولانا محمد علی جوہر کا نام برصغیر کی تحریک آزادی کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا گیا ہے۔ انھیں "رئیس الاحرار" کہا جاتا ہے، یعنی آزاد لوگوں کا سردار۔ وہ ایک جانب تو تحریک خلافت اور تحریک آزادی کے عظیم رہنما تھے، دوسری جانب ایک قادر الکلام صحافی اور ایک پرجوش شاعر بھی تھے۔ ان کی شخصیت کے یہ تمام پہلو ان کے کلام میں جھلکتے ہیں۔

جوہر کی شاعری عام شاعری نہیں۔ اس میں ایک مجاہد کا جذبہ ہے، ایک داعی کی للکار ہے۔ ان کے اشعار پڑھ کر دل میں ایک عجیب سی حرکت پیدا ہوتی ہے۔ ان کا مشہور شعر "قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے، اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد" تو زبان زد عام ہے۔ یہ شعر ان کی فکری گہرائی اور تاریخی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

"کلام جوہر" ان کی شاعری کا مجموعہ ہے جس میں ان کی غزلیں، نظمیں اور دیگر اصناف سخن شامل ہیں۔ یہ مجموعہ ان قارئین کے لیے ایک تحفہ ہے جو جوہر کو صرف ایک سیاسی رہنما کے طور پر جانتے ہیں۔ اسے پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتنے بڑے شاعر بھی تھے۔ ان کی شاعری ان کی شخصیت کا ایک نیا رخ دکھاتی ہے۔

مولانا محمد علی جوہر 1878 میں رامپور میں پیدا ہوئے۔ علی گڑھ سے تعلیم حاصل کی اور پھر انگلستان سے بھی تعلیم حاصل کی۔ واپس آ کر انھوں نے صحافت کو اپنا میدان بنایا۔ "ہمدرد" اردو میں اور "کامریڈ" انگریزی میں ان کے مشہور اخبار تھے۔ ان اخبارات نے تحریک آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔

ان کی صحافت بھی ان کی شاعری کی طرح پرجوش تھی۔ وہ قلم کے دھنی تھے اور ان کی تحریروں میں ایک خاص قسم کی گرمی ہوتی تھی۔ انگریز حکومت ان سے خائف رہتی تھی اور انھیں کئی بار قید بھی کیا گیا۔ مگر قید ان کے حوصلے پست نہ کر سکی۔ جیل میں بھی وہ لکھتے رہے اور ان کا قلم رواں رہا۔

ان کی شاعری میں حریت کا جذبہ سب سے نمایاں ہے۔ وہ غلامی سے نفرت کرتے تھے اور آزادی کو سب سے بڑی نعمت سمجھتے تھے۔ ان کے اشعار میں یہی جذبہ جا بجا نظر آتا ہے۔ نوجوان نسل کے لیے ان کی شاعری ایک تحریک ہے، ایک پیغام ہے کہ ظلم کے آگے سر نہ جھکاؤ۔

دینی حمیت بھی ان کی شاعری کا ایک اہم موضوع ہے۔ تحریک خلافت کے رہنما کی حیثیت سے انھیں امت مسلمہ کے مسائل کا گہرا احساس تھا۔ ان کی شاعری میں مسلمانوں کی بیداری کا پیغام ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان اپنے ماضی کی عظمت کو یاد کریں اور مستقبل کی تعمیر کریں۔

ان کے کلام کی زبان میں ایک خاص قسم کی شان ہے۔ مشکل الفاظ بھی ان کے ہاں رواں لگتے ہیں۔ ان کی غزلوں میں عشق کے مضامین بھی ہیں، مگر وہ عشق بھی ایک مجاہد کا عشق ہے۔ ان کی نظموں میں قومی اور ملی موضوعات کو بڑی خوبصورتی سے باندھا گیا ہے۔

اردو ادب میں مولانا محمد علی جوہر کا مقام ایک منفرد مقام ہے۔ وہ شاعر بھی ہیں، صحافی بھی، خطیب بھی اور رہنما بھی۔ ایسی ہمہ جہت شخصیت کم ہی پیدا ہوتی ہے۔ ان کا کلام ان کی اسی ہمہ جہتی کا آئینہ دار ہے۔

آج کے دور میں جب نوجوان نسل اپنی تاریخ سے دور ہوتی جا رہی ہے، جوہر جیسے رہنماؤں کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔ ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ علم، جذبہ اور عمل جب ایک ساتھ ہوں تو تاریخ بدل جاتی ہے۔ ان کی شاعری اسی سبق کو شاعرانہ انداز میں دیتی ہے۔

مجھے ان کی شخصیت کی سب سے متاثر کن بات ان کی بے باکی لگتی ہے۔ وہ حق بات کہنے سے کبھی نہیں ڈرتے تھے، چاہے اس کی قیمت کچھ بھی ہو۔ ان کی شاعری میں بھی یہی بے باکی نظر آتی ہے۔ ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔

اگر آپ اردو شاعری کے شائق ہیں اور ایک مجاہد شاعر کا کلام پڑھنا چاہتے ہیں تو "کلام جوہر" ضرور پڑھیے۔ اس کتاب کی پی ڈی ایف مفت ڈاؤن لوڈ کیجیے اور رئیس الاحرار کے کلام سے لطف اندوز ہوئیے۔ نیچے دیے گئے ڈاؤن لوڈ بٹن پر کلک کر کے آپ "کلام جوہر" کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ مفت کر سکتے ہیں۔ پڑھیے اور اپنے دوستوں کے ساتھ بھی شیئر کیجیے۔

DOWNLOAD

کلیاتِ جمال جمال احسانی

دوستو، اردو شاعری سے سچی محبت کرنے والوں کے لیے آج ایک نہایت خاص تحفہ لایا ہوں۔ کلیاتِ جمال یعنی معروف شاعر جمال احسانی کی مکمل شاعری ایک ہی جلد میں جمع کر دی گئی ہے۔ سچ پوچھیں تو جب میں نے پہلی بار یہ کتاب ہاتھ میں لی تو مجھے خود پر حیرت ہوئی کہ اتنے عمدہ شاعر سے میں اب تک کیوں ناآشنا رہا۔ ہم اکثر چند مشہور ناموں تک ہی محدود رہ جاتے ہیں، حالانکہ اردو ادب کا خزانہ بہت وسیع ہے، اور جمال احسانی اسی خزانے کا ایک قیمتی موتی ہیں۔

جمال احسانی کا شمار اردو کے ان منفرد شاعروں میں ہوتا ہے جنھوں نے غزل کو نئے رنگ اور نئی معنویت عطا کی۔ ان کی شاعری میں ایک عجیب سی سادگی اور گہرائی ہے جو پڑھنے والے کو فوراً اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ ان کے اشعار پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی اپنا دکھڑا سنا رہا ہو، کوئی اپنے دل کی بات کہہ رہا ہو۔ یہی ان کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ ان کی شاعری کتابی اور بے روح نہیں لگتی بلکہ زندگی سے جڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔

اس کلیات کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں جمال احسانی کے تمام شعری مجموعے یکجا کر دیے گئے ہیں۔ یعنی آپ کو ایک ہی جلد میں ان کی پوری شاعرانہ زندگی کا سفر مل جاتا ہے۔ غزل ہو یا نظم، ہر صنفِ سخن میں انھوں نے اپنا لوہا منوایا ہے۔ ان کی غزلوں میں عشق و محبت کی وہ نازک کیفیات ملتی ہیں جو دل کو چھو جائیں، اور نظموں میں زندگی کے وہ پہلو اجاگر ہوئے ہیں جن پر ہم عام طور پر توجہ نہیں دیتے۔

جمال احسانی کی شاعری کا ایک نمایاں پہلو ان کے موضوعات کی وسعت اور تنوع ہے۔ محبت، جدائی، تنہائی، وقت کی بے رخی اور انسان کی بے بسی جیسے موضوعات ان کے ہاں بڑے فنکارانہ انداز میں ملتے ہیں۔ ان کے کئی اشعار زبان زدِ عام ہو چکے ہیں اور آج بھی مشاعروں اور ادبی محفلوں میں بڑے شوق سے پڑھے جاتے ہیں۔ جو احباب غزل کی باریکیوں اور اس کے فنی محاسن کو سمجھنا چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ کلیات کسی خزانے سے کم نہیں ہے۔

ان کی زبان سادہ مگر پراثر ہے۔ مشکل اور ثقیل الفاظ کا بے جا استعمال ان کے ہاں نہیں ملتا، پھر بھی معنویت کی گہرائی پڑھنے والے کو حیران کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاعری سے نیا تعلق قائم کرنے والے بھی ان کے کلام سے جلد مانوس ہو جاتے ہیں، اور پرانے قاری بھی ہر بار کوئی نیا نکتہ اور نیا معنی دریافت کرتے ہیں۔ ایسی شاعری بہت کم ملتی ہے جو ہر عمر اور ہر ذوق کے قاری کو یکساں طور پر متاثر کر سکے۔

اگر آپ اردو ادب کے طالب علم ہیں یا مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کر رہے ہیں تو یہ کتاب آپ کے لیے بے حد مفید ثابت ہوگی۔ اسی طرح جو دوست مشاعروں میں شعر پڑھنے کا شوق رکھتے ہیں، انھیں بھی اس کلیات سے بہت کچھ حاصل ہوگا۔ اور اگر آپ محض اچھی شاعری پڑھ کر اپنے دل کو بہلانا چاہتے ہیں تب بھی یہ کتاب آپ کو مایوس نہیں کرے گی۔ ہر طرح کے قاری کے لیے اس میں کچھ نہ کچھ ضرور موجود ہے۔

آپ کی سہولت کے لیے ہم نے کلیاتِ جمال کی پی ڈی ایف یہاں فراہم کر دی ہے تاکہ آپ اسے آسانی سے ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے موبائل یا کمپیوٹر پر پڑھ سکیں۔ پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کرنا بالکل مفت ہے، بس نیچے دیے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پر کلک کیجیے اور کتاب آپ کے پاس محفوظ ہو جائے گی۔ ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد آپ اسے انٹرنیٹ کے بغیر بھی پڑھ سکتے ہیں، سفر میں ہوں یا گھر میں، فرصت کے ہر لمحے کو شاعری سے معمور کر سکتے ہیں۔

آخر میں بس یہی عرض کروں گا کہ اچھی کتابیں انسان کی زندگی بدل دیتی ہیں، اور کلیاتِ جمال ایسی ہی ایک کتاب ہے۔ جمال احسانی کی شاعری پڑھیے، اسے محسوس کیجیے اور اپنے عزیزوں اور دوستوں تک بھی پہنچائیے۔ اگر آپ کو یہ کتاب پسند آئے تو اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیجیے گا۔ ایسی ہی مزید نایاب اردو کتابوں کے لیے ہماری ویب سائٹ وزٹ کرتے رہیے۔ اللہ حافظ!

Kulyat e Jamal By Jamal Ehsani Pdf free download


DOWNLOAD

کلیاتِ آل احمد سرور مرتب محی بخش قادری kulyat aal Ahmad suroor pdf free download

 

کلیاتِ آل احمد سرور — اردو تنقید کا روشن چراغ

ادب کی دنیا میں شاعروں اور افسانہ نگاروں کے نام تو سب کو یاد رہتے ہیں، مگر ان کے پیچھے ایک ایسا طبقہ بھی ہوتا ہے جس کے بغیر ادب کی عمارت کھڑی نہیں ہو سکتی — اور وہ ہیں نقاد۔ نقاد وہ شخص ہوتا ہے جو ادب کو پرکھتا ہے، اس کی خوبیاں اور خامیاں واضح کرتا ہے، اور قاری کو بتاتا ہے کہ کسی تخلیق کو کیسے پڑھا جائے۔ اردو میں اگر کسی ایک نام کو جدید تنقید کا بانی کہا جا سکتا ہے تو وہ آل احمد سرور ہیں۔ ان کی کلیات پڑھنا دراصل اردو ادب کو ایک نئی آنکھ سے دیکھنا ہے۔

آل احمد سرور بیسویں صدی کے اردو کے عظیم ترین نقادوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے تنقید کو محض تعریف یا تنقیص کے دائرے سے نکال کر ایک سنجیدہ علمی فن بنا دیا۔ ان کی تحریروں میں مغربی تنقیدی نظریات کی گہری سمجھ بھی ہے اور مشرقی ادبی روایت کا احترام بھی۔ وہ ادب کو زندگی سے جوڑ کر دیکھتے تھے، اور ان کا ماننا تھا کہ اچھا ادب وہی ہے جو انسان کو انسان بنائے۔ ان کے مضامین پڑھ کر قاری کو محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی دانا استاد اس کا ہاتھ پکڑ کر ادب کی گلیوں میں لیے پھر رہا ہو۔

یہ کلیات محی بخش قادری کی مرتب کردہ ہے، جس میں آل احمد سرور کی نمایاں تنقیدی تحریریں یکجا کر دی گئی ہیں۔ اس مجموعے میں ان کے وہ مشہور مضامین شامل ہیں جنہوں نے اردو تنقید کی سمت متعین کی۔ ان تحریروں میں غالب اور اقبال پر ان کے گہرے مطالعے کی جھلک بھی ملتی ہے، اور جدید اردو شاعری و نثر پر ان کی بے لاگ رائے بھی۔ جو قاری اردو ادب کو سطحی طور پر نہیں بلکہ گہرائی سے سمجھنا چاہتا ہے، اس کے لیے یہ کلیات ایک لازمی مطالعہ ہے۔

آل احمد سرور کی تنقید کی سب سے بڑی خوبی ان کا توازن ہے۔ وہ نہ اندھی تعریف کرتے تھے، نہ بے جا تنقیص۔ ان کے ہاں ہر تخلیق کو اس کے اپنے معیار پر پرکھا جاتا تھا۔ ان کی زبان شستہ اور باوقار ہے، مگر کہیں بھی ثقیل یا بے روح نہیں لگتی۔ پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی صاحبِ علم دوست آپ سے باتیں کر رہا ہو — باتیں جو آپ کی سوچ کے نئے دروازے کھول دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی اردو کے جامعات میں ان کی تحریریں پڑھائی جاتی ہیں اور ان پر تحقیقی مقالے لکھے جاتے ہیں۔

اگر آپ اردو ادب کے طالب علم ہیں تو یہ کتاب آپ کے لیے ناگزیر ہے۔ ایم اے اردو کے نصاب میں تنقید ایک اہم پرچہ ہے، اور آل احمد سرور اس پرچے کی تیاری کا بنیادی حوالہ ہیں۔ مقابلہ جاتی امتحانات میں بھی ان کے تنقیدی نظریات پر سوالات آتے ہیں۔ اساتذہ اور محققین کے لیے بھی یہ کلیات ایک قیمتی ذخیرہ ہے، کیونکہ اس میں وہ تمام اہم مضامین ایک جگہ جمع ہیں جو پہلے مختلف رسالوں اور کتابوں میں بکھرے ہوئے تھے۔

آپ کی سہولت کے لیے ہم نے کلیاتِ آل احمد سرور کی پی ڈی ایف یہاں فراہم کر دی ہے۔ پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کرنا بالکل مفت ہے — بس نیچے دیے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پر کلک کیجیے اور یہ علمی خزانہ آپ کے موبائل یا کمپیوٹر میں محفوظ ہو جائے گا۔ ڈاؤن لوڈ کے بعد آپ اسے انٹرنیٹ کے بغیر بھی پڑھ سکتے ہیں، چاہے گھر ہوں یا سفر میں۔ اچھی کتابیں وقت کی قید سے آزاد ہوتی ہیں، اور یہ کتاب ان ہی میں سے ایک ہے۔

آخر میں یہی عرض کروں گا کہ ادب سے محبت کرنے والا ہر شخص آل احمد سرور کو ضرور پڑھے۔ یہ کلیات آپ کے ادبی ذوق کو نکھارے گی، آپ کی تنقیدی بصیرت کو تیز کرے گی، اور آپ کو اردو ادب کی گہرائیوں سے روشناس کرائے گی۔ اگر آپ کو یہ کتاب پسند آئے تو اپنی رائے ضرور لکھیے گا اور اسے اپنے دوستوں تک بھی پہنچائیے۔ ایسی ہی مزید نایاب اردو کتابوں کے لیے ہماری ویب سائٹ وزٹ کرتے رہیے۔ اللہ حافظ!

کلیاتِ آل احمد سرور مرتب محی بخش قادری kulyat aal Ahmad suroor pdf free download 


DOWNLOAD

Have a question about this book?

Book request ya kisi sawal ke liye hum se rabta karein.

✉ Email Us

کلیاتِ صوفی غلام مصطفیٰ تبسم

 

کلیاتِ صوفی غلام مصطفیٰ تبسم — میٹھی اور سادہ شاعری کا خزانہ

کچھ شاعر ایسے ہوتے ہیں جن کی شاعری پڑھ کر بڑے بھی بچے بن جاتے ہیں۔ صوفی غلام مصطفیٰ تبسم انہی شاعروں میں سے ایک ہیں۔ ان کی شاعری میں ایک ایسی مٹھاس اور سادگی ہے جو دل کو چھو لیتی ہے — نہ مشکل الفاظ، نہ الجھے ہوئے مضمون، بس سیدھے دل سے نکلے ہوئے وہ جذبات جو ہر قاری کو اپنے لگتے ہیں۔ بچوں کے ادب میں ان کا نام سنہرے حروف سے لکھا جاتا ہے، مگر ان کی شاعری صرف بچوں تک محدود نہیں؛ بڑوں کے لیے بھی اس میں بہت کچھ ہے۔

صوفی تبسم اردو کے ان خوش نصیب ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ بچوں کے ادب کی بھی بھرپور خدمت کی۔ ان کی نظمیں اسکولوں کے نصاب میں شامل رہی ہیں، اور نسلوں نے ان کی شاعری پڑھ کر اردو سے محبت سیکھی ہے۔ ان کی زبان اتنی سادہ اور رواں ہے کہ چھوٹا بچہ بھی اسے سمجھ لیتا ہے، اور اتنی پراثر ہے کہ بڑا قاری بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ یہی ان کی شاعری کا کمال ہے — سادگی میں گہرائی۔

اس کلیات میں صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کی مکمل شاعری یکجا کر دی گئی ہے۔ ان کی غزلوں میں محبت اور انسانیت کے نرم جذبات ملتے ہیں، اور ان کی نظموں میں زندگی کے وہ خوبصورت پہلو اجاگر ہوئے ہیں جنہیں ہم روزمرہ کی بھاگ دوڑ میں بھول جاتے ہیں۔ بچوں کے لیے لکھی گئی ان کی نظمیں آج بھی اتنی ہی تازہ اور دلچسپ ہیں جتنی برسوں پہلے تھیں۔ یہ کلیات پڑھ کر قاری کو اردو شاعری کی اس روایت سے روشناسی ہوتی ہے جو دل کو بہلاتی بھی ہے اور سنوارتی بھی ہے۔

صوفی تبسم کی شاعری کی ایک نمایاں خوبی ان کا اخلاقی اور تربیتی پہلو ہے۔ وہ شاعری کو محض تفریح نہیں سمجھتے تھے، بلکہ اسے کردار سازی کا ذریعہ بناتے تھے۔ ان کی نظمیں بچوں میں اچھے اخلاق، محنت، سچائی اور محبت کے جذبات پیدا کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ والدین اور اساتذہ آج بھی بچوں کو ان کی شاعری پڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ایسی شاعری جو تفریح کے ساتھ تربیت بھی کرے، اردو ادب میں کم ہی ملتی ہے۔

اگر آپ اردو شاعری سے محبت کرتے ہیں تو یہ کلیات آپ کی لائبریری کا لازمی حصہ ہونی چاہیے۔ جو احباب بچوں کے لیے اچھی اور معیاری شاعری تلاش کر رہے ہیں، ان کے لیے تو یہ کتاب کسی تحفے سے کم نہیں۔ اساتذہ اس سے اپنے طلبہ کے لیے منتخب کلام نکال سکتے ہیں، اور والدین اپنے بچوں کو سوتے وقت ان کی نظمیں سنا سکتے ہیں۔ ہر عمر کے قاری کے لیے اس میں کچھ نہ کچھ ضرور موجود ہے — یہی اس کلیات کی سب سے بڑی خوبی ہے۔

آپ کی سہولت کے لیے ہم نے کلیاتِ صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کی پی ڈی ایف یہاں فراہم کر دی ہے۔ پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کرنا بالکل مفت ہے — بس نیچے دیے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پر کلک کیجیے اور یہ میٹھا خزانہ آپ کے موبائل یا کمپیوٹر میں محفوظ ہو جائے گا۔ ڈاؤن لوڈ کے بعد آپ اسے انٹرنیٹ کے بغیر بھی پڑھ سکتے ہیں، اور اپنے بچوں کو بھی پڑھ کر سنا سکتے ہیں۔ اچھی شاعری نسل در نسل منتقل ہوتی ہے — اس روایت کو آگے بڑھائیے۔

آخر میں بس یہی کہوں گا کہ صوفی تبسم کی شاعری پڑھیے، اسے محسوس کیجیے، اور اسے اپنے گھر کے چھوٹے بڑوں تک پہنچائیے۔ یہ کلیات آپ کے دل کو سکون بھی دے گی اور آپ کے ادبی ذوق کو بھی نکھارے گی۔ اگر آپ کو یہ کتاب پسند آئے تو اپنی رائے ضرور لکھیے گا۔ ایسی ہی مزید نایاب اردو کتابوں کے لیے ہماری ویب سائٹ وزٹ کرتے رہیے۔ اللہ حافظ!

Kulyat Sufi Ghulam Mustufa Tabassam pdf free download


DOWNLOAD

Have a question about this book?

Book request ya kisi sawal ke liye hum se rabta karein.

✉ Email Us

کلیاتِ غزلیات خسرو

 

Kulyat Ghazliat Khusru pdf free download

امیر خسرو کا نام سنتے ہی میرے ذہن میں ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت ابھرتی ہے جو بیک وقت شاعر بھی تھی، موسیقار بھی، عالم بھی اور صوفی بھی۔ سات سو برس گزر جانے کے باوجود ان کا کلام آج بھی اتنا تازہ اور زندہ ہے کہ پڑھنے والا حیران رہ جاتا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں نے پہلی بار ان کی غزلیں پڑھیں تو یہ سوچ کر حیرت ہوئی کہ تیرہویں صدی کا ایک شاعر اکیسویں صدی کے قاری کے دل کے اتنا قریب کیسے محسوس ہو سکتا ہے۔ "طوطیِ ہند" کا خطاب انہیں یوں ہی نہیں ملا تھا — ان کی زبان میں واقعی ایک ایسی مٹھاس اور روانی ہے جو صدیوں پر محیط ہو کر بھی ماند نہیں پڑی۔

خسرو کی سب سے بڑی خوبی ان کی ہمہ جہتی تھی۔ وہ فارسی کے عظیم ترین شاعروں میں شمار ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ہندوی یعنی ابتدائی اردو میں بھی شاعری کرتے تھے۔ "چھاپ تلک سب چھینی رے موسے نیناں ملائے کے" پڑھیے تو ایسا لگتا ہے جیسے محبت کی کیفیتوں کو کسی نے لفظوں میں قید کر دیا ہو۔ اسی طرح "سکل بن پھول رہی سرسوں، امبوا پھولے، ٹیسو پھولے" میں بہار کی آمد کا جو دلکش منظر کھینچا گیا ہے، وہ اردو شاعری کی نایاب ترین تصویروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہی اشعار آج بھی قوالیوں اور محفلوں میں گونجتے ہیں اور سننے والوں کو وجد میں لے آتے ہیں۔

کلیاتِ غزلیات خسرو دراصل ان کے غزلیہ کلام کا مجموعہ ہے۔ ان کی غزلوں میں عشقِ مجازی اور عشقِ حقیقی کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ وہ حضرت نظام الدین اولیاء کے مریدِ خاص تھے، اسی لیے ان کی شاعری میں تصوف کی خوشبو رچی بسی ہوئی ہے۔ فارسی غزل کی کلاسیکی روایت کو انہوں نے ہندوستانی مزاج سے جوڑ کر ایک نئی راہ نکالی، اور یہی ان کی سب سے بڑی انفرادیت ہے۔ ان کے اشعار میں تشبیہیں، استعارے اور تلمیحات اس خوبصورتی سے برتے گئے ہیں کہ قاری ایک ہی شعر کو بار بار پڑھنے اور اس میں نئے معنی تلاش کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

اس کلیات کی اہمیت صرف ادبی نہیں بلکہ تاریخی بھی ہے۔ خسرو نے اردو زبان کے بالکل ابتدائی دور میں اسے شاعری کی زبان بنایا اور اسے درباروں سے نکال کر عوام تک پہنچایا۔ آج جب ہم اردو غزل کی تاریخ لکھتے ہیں تو اس کا پہلا باب خسرو ہی سے شروع ہوتا ہے۔ میر، غالب اور اقبال تک کا طویل سفر دراصل اسی مضبوط بنیاد پر کھڑا ہے جو خسرو نے رکھی تھی۔ اس لحاظ سے یہ کتاب ہر اس شخص کے لیے ناگزیر ہے جو اردو ادب کو اس کی جڑوں سے سمجھنا چاہتا ہے۔

میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ خسرو کو پڑھنا ایک روحانی تجربہ ہے۔ ان کے اشعار میں ایک عجیب سی بے قراری ہے — کبھی محبوب کی جدائی کا درد، کبھی مرشد سے والہانہ عقیدت، اور کبھی زندگی کی ناپائیداری پر گہرا غور و فکر۔ ان کی مشہور پہیلیاں اور مکریاں بھی اسی ذہانت کی مظہر ہیں جس سے وہ مشکل سے مشکل بات کو کھیل کھیل میں کہہ جاتے تھے۔ جو احباب اردو شاعری سے نئے نئے آشنا ہو رہے ہیں، ان کے لیے خسرو سے بہتر آغاز شاید ہی کوئی ہو، کیونکہ یہاں زبان بھی آسان ہے اور جذبات بھی براہِ راست دل کو چھوتے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ کلیاتِ خسرو کی متعدد جلدیں مرتب کی گئی ہیں اور یہ جلد خاص طور پر ان کے غزلیہ کلام پر مشتمل ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ پی ڈی ایف کی صورت میں یہ قیمتی کتاب اب ہر قاری کی دسترس میں ہے۔ آپ اسے فری ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے موبائل یا کمپیوٹر پر محفوظ کر سکتے ہیں اور فرصت کے لمحوں میں اس علمی و ادبی خزانے سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر اردو ادب کے طلبہ، مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرنے والے امیدواروں اور شاعری سے سچی محبت رکھنے والوں کے لیے یہ ایک نادر تحفہ ہے۔

آخر میں بس اتنا کہوں گا کہ کتابیں انسان کی بہترین دوست ہوتی ہیں، اور خسرو جیسے شاعر کی صحبت تو کسی نعمت سے کم نہیں۔ یہ پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کیجیے، غور سے پڑھیے، اور ان اشعار کی لذت سے آشنا ہوئیے جو سات سو سال سے دلوں کو گرما رہے ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ایک بار اس کلیات کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ بار بار اس کی طرف لوٹیں گے اور ہر بار کوئی نیا موتی ہاتھ آئے گا۔


DOWNLOAD

کلیاتِ غزلیات خسرو

 

Kulyat e Ghazliat Khasru pdf free download


کبھی کبھی کوئی کتاب ہاتھ لگتی ہے جو محض کتاب نہیں رہتی بلکہ ایک پورے زمانے کا دروازہ بن جاتی ہے۔ کلیاتِ غزلیات خسرو میرے لیے ایسی ہی کتاب ثابت ہوئی ہے۔ کلیات کا مطلب ہی یہ ہے کہ شاعر کا بکھرا ہوا کلام ایک جگہ سمٹ کر آ جائے، اور جب وہ شاعر امیر خسرو جیسا ہو تو پھر اس مجموعے کی قیمت کا اندازہ لگانا واقعی مشکل ہو جاتا ہے۔ میں نے جب اسے پڑھنا شروع کیا تو وقت کا احساس ہی نہ رہا۔

غزلوں کو تسلسل سے ایک ساتھ پڑھنے کا اپنا ہی لطف ہے۔ عام طور پر ہم خسرو کے چند مشہور اشعار سے واقف ہوتے ہیں جو قوالیوں میں سنتے ہیں، لیکن جب ان کی غزلیں ایک ترتیب سے پڑھتے ہیں تو ان کے فکری و جذباتی سفر کا پورا نقشہ سامنے آ جاتا ہے — کہیں جوانی کا جوش و جذبہ ہے، کہیں عشق کی گہرائی، اور کہیں تصوف کی بلندی۔ یہی اس کلیات کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ یہ شاعر کو اس کی تمام تر وسعتوں کے ساتھ پیش کرتی ہے۔

خسرو کی غزل کی زبان دیکھ کر بے اختیار حیرت ہوتی ہے۔ فارسی کے مشکل سے مشکل الفاظ بھی ان کے ہاں اس روانی سے آتے ہیں کہ قاری کو کوئی دشواری محسوس نہیں ہوتی، اور پھر وہیں ہندوی کے میٹھے اور مانوس الفاظ بھی مل جاتے ہیں۔ یہی امتزاج ان کی شاعری کو ان کے ہم عصروں سے ممتاز کرتا ہے۔ ان کی غزلوں میں ردیف و قافیہ کی پابندی کے ساتھ ساتھ معنوی گہرائی بھی ہے، اور ہر شعر اپنے اندر ایک مکمل کیفیت سموئے ہوئے ہے۔

ان کی مشہور غزلوں میں وہ رنگ ہے جو سات صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی دلوں کو چھوتا ہے۔ محبوب کی تعریف، فراق کا درد، وصال کی خوشی — یہ سب مضامین ان کے ہاں نئے اور تازہ انداز میں ملتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ان کے اشعار میں کوئی تصنع نہیں، ایک فطری روانی ہے۔ پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے جیسے شاعر آپ سے براہِ راست مخاطب ہو اور اپنے دل کا حال کہہ رہا ہو۔ یہی بے ساختگی خسرو کی غزل کی جان ہے۔

تصوف کا رنگ بھی ان کی غزلوں میں نمایاں ہے۔ خسرو حضرت نظام الدین اولیاء کے مریدِ خاص تھے اور ان کی غزلوں میں یہ والہانہ عقیدت جا بجا جھلکتی ہے۔ ان کے ہاں عشقِ مجازی اکثر عشقِ حقیقی میں ڈھل جاتا ہے، اور قاری خود فیصلہ نہیں کر پاتا کہ یہ محبوبِ زمینی کی بات ہو رہی ہے یا محبوبِ حقیقی کی۔ یہی خوبصورت ابہام ان کی شاعری کو ایک روحانی بلندی عطا کرتا ہے۔

یہ کلیات کن لوگوں کے لیے ہے؟ اردو ادب کے طلبہ کے لیے تو یہ ایک بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے، لیکن عام قاری کے لیے بھی یہ کسی خزانے سے کم نہیں۔ جو احباب غزل کی تاریخ کو اس کی جڑوں سے سمجھنا چاہتے ہیں، انہیں خسرو ہی سے آغاز کرنا چاہیے۔ مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرنے والے امیدواروں کے لیے بھی یہ کتاب نہایت مفید ثابت ہوگی، کیونکہ اس میں اردو شاعری کے ابتدائی دور کی مکمل تصویر ملتی ہے۔

خوش قسمتی سے اب یہ قیمتی کتاب پی ڈی ایف کی صورت میں دستیاب ہے اور آپ اسے فری ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ پہلے زمانے میں ایسی کتابیں تلاش کرنا اور حاصل کرنا ایک مشکل کام تھا، لیکن اب یہ سہولت ہے کہ ایک کلک پر یہ خزانہ آپ کے موبائل یا کمپیوٹر میں محفوظ ہو جاتا ہے۔ میری رائے میں ہر اردو دوست کے فون میں اس کلیات کا ہونا ضروری ہے۔

آخر میں یہی کہوں گا کہ شاعری سے محبت کرنے والوں کے لیے کلیاتِ غزلیات خسرو کا مطالعہ ایک یادگار تجربہ ثابت ہوگا۔ یہ پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کیجیے، فرصت کے لمحوں میں پڑھیے، اور اس لطف سے آشنا ہوئیے جو صدیوں سے اہلِ ذوق کے دلوں کو مسخر کیے ہوئے ہے۔

DOWNLOAD

کلیاتِ دشت قیس میں لیلیٰ کشور ناہید pdf free download

 

Kulyat Dasht e Qais Me Laila By Kishwar Naheed pdf free download


اردو شاعری میں کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت کے دھارے میں دبنے کے بجائے اور بلند ہوتی جاتی ہیں۔ کشور ناہید کی آواز انہی میں سے ایک ہے۔ جب میں نے پہلی بار ان کی نظمیں پڑھیں تو مجھے احساس ہوا کہ یہ شاعرہ صرف الفاظ نہیں بُنتی بلکہ ایک پورے عہد کی عورت کے دل کی دھڑکن کو شعر میں ڈھال دیتی ہے۔ ان کی شاعری میں ایک ایسی جرات اور سچائی ہے جو قاری کو پہلے چونکاتی ہے اور پھر اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے۔

کشور ناہید کا شمار اردو کی ان چند شاعرات میں ہوتا ہے جنہوں نے عورت کے جذبات، اس کے دکھ اور اس کی بغاوت کو کھل کر بیان کیا۔ ان کی مشہور نظم "ہم گنہگار عورتیں" آج بھی اردو ادب کی سب سے جرأت مندانہ نظموں میں شمار ہوتی ہے۔ انہوں نے اس سماج کے خلاف آواز اٹھائی جو عورت کو صرف ایک مخصوص خانے میں دیکھنا چاہتا تھا۔ ان کی شاعری پڑھ کر لگتا ہے جیسے کوئی آپ کے دل کی وہ بات کہہ رہا ہو جو آپ خود کہنے سے ڈرتے تھے۔

"دشتِ قیس میں لیلیٰ" کا عنوان خود ایک شاعرانہ استعارہ ہے۔ قیس یعنی مجنوں کا دشت وہ بیابان ہے جہاں عشق کی انتہا آزمائی جاتی ہے، اور لیلیٰ اس دشت میں ایک نئی علامت بن کر ابھرتی ہے — وہ عورت جو محض محبوبہ نہیں بلکہ خود ایک مسافر ہے، ایک متلاشی ہے۔ اس مجموعے کی نظموں اور غزلوں میں یہی کیفیت ملتی ہے: عشق بھی ہے، بغاوت بھی، اور زندگی کے تلخ حقائق کا سامنا بھی۔

کشور ناہید کی شاعری کی ایک بڑی خوبی ان کی زبان ہے۔ وہ مشکل اور بھاری بھرکم الفاظ کے بجائے سادہ اور براہِ راست زبان استعمال کرتی ہیں، لیکن ان کے اشعار کا اثر دیرپا ہوتا ہے۔ ان کی نظموں میں روزمرہ کی زندگی کے مناظر، گھر کی چار دیواری، اور عورت کے اندرونی کرب کو اس خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے کہ قاری حیران رہ جاتا ہے۔ ان کی غزلوں میں بھی یہی سچائی اور بے باکی نظر آتی ہے۔

میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ کشور ناہید کو پڑھنا صرف ادبی تجربہ نہیں بلکہ ایک فکری بیداری بھی ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے ان موضوعات کو چھوا جن پر بات کرنا اس وقت تو کیا آج بھی مشکل سمجھا جاتا ہے۔ ان کی زندگی خود ایک جدوجہد کی داستان ہے — انہوں نے سماجی دباؤ، مالی مشکلات اور ادبی مخالفت کے باوجود اپنا راستہ نہیں چھوڑا۔ یہی استقامت ان کی شاعری میں بھی جھلکتی ہے۔

یہ کلیات ان کے شعری سرمایے کا مجموعہ ہے اور شاعری سے محبت رکھنے والوں کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے۔ خاص طور پر وہ قارئین جو اردو نظم کی ترقی کو سمجھنا چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ کتاب ناگزیر ہے۔ اس میں آپ کو وہ نظمیں ملیں گی جنہوں نے اردو شاعری میں عورت کی آواز کو ایک نئی پہچان دی۔ یونیورسٹیوں کے طلبہ اور ادب کے محققین کے لیے بھی یہ ایک اہم ماخذ ہے۔

خوش قسمتی سے یہ کتاب اب پی ڈی ایف کی صورت میں دستیاب ہے اور آپ اسے فری ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ ایک کلک پر یہ پوری کلیات آپ کے موبائل یا کمپیوٹر میں محفوظ ہو جاتی ہے۔ میری رائے میں ہر اس شخص کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے جو سمجھنا چاہتا ہے کہ شاعری صرف حسن و عشق کا نام نہیں بلکہ سماج کو بدلنے کا ایک ذریعہ بھی ہو سکتی ہے۔

آخر میں یہی کہوں گا کہ کشور ناہید کی شاعری دلوں کو جھنجھوڑتی ہے اور ذہنوں کو روشن کرتی ہے۔ یہ پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کیجیے، ان کی نظموں کو غور سے پڑھیے، اور اس آواز سے آشنا ہوئیے جس نے اردو شاعری میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔ مجھے یقین ہے کہ یہ مجموعہ آپ کی فکر کو ایک نئی جہت دے گا۔

4%25D8%25AA_%25D9%2582%25DB%258C%25D8%25B3_%25D9%2585%25DB%258C%25DA%25BA_%25D9%2584%25DB%258C%25D9%2584%25DB%258C%25D9%25B0_%25DA%25A9%25D9%2584%25DB%258C%25D8%25A7%25D8%25AA_%25DA%25A9%25D8%25B4%25D9%2588%25D8%25B1_%25D9%2586%25D8%25A7%25DB%2581%25DB%258C%25D8%25AF.pdf/file">DOWNLOAD

شرح جاویدنامہ پروفیسر یوسف سلیم چشتیpdf free download

 

Sharah Javed Nama By Professor Yousuf Saleem Chishti pdf free download


علامہ اقبال کی فارسی مثنوی "جاوید نامہ" اردو ادب کی ان چند کتابوں میں شمار ہوتی ہے جو پڑھنے والے کو زمین سے اٹھا کر آسمانوں کی سیر کراتی ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ یہ سیر ہر کسی کے بس کی بات نہیں، کیونکہ اقبال کی فارسی شاعری میں فلسفہ، تصوف اور تاریخ کا ایسا گہرا امتزاج ہے کہ بغیر کسی رہنما کے اس کا پورا لطف حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی شرح ایک قیمتی رہنما بن کر سامنے آتی ہے۔

جاوید نامہ اقبال کی وہ عظیم مثنوی ہے جس میں وہ "زندہ رود" کے نام سے روحانی سفر کرتے ہیں اور مولانا رومی کی رہنمائی میں فلک کے مختلف طبقوں کی سیر کرتے ہیں۔ اس سفر میں ان کی ملاقات تاریخ کی بڑی شخصیات سے ہوتی ہے اور ہر ملاقات میں کوئی نہ کوئی گہرا فلسفیانہ نکتہ سامنے آتا ہے۔ خودی کا تصور، مشرق و مغرب کا موازنہ، اور مسلمانوں کی بیداری کا پیغام — یہ سب موضوعات اس مثنوی میں ایک نئے انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ اقبال نے یہ مثنوی فارسی میں لکھی ہے اور ان کی فارسی بھی عام فہم نہیں۔ اس میں قرآنی آیات کے تلمیحات ہیں، رومی کی مثنوی کے حوالے ہیں، اور یورپی فلسفے کی اصطلاحات بھی ہیں۔ ایک عام قاری جب اسے کھولتا ہے تو چند صفحات کے بعد ہی ہمت ہار بیٹھتا ہے۔ میں خود بھی پہلی بار اسی مشکل سے دوچار ہوا تھا، اور تبھی مجھے احساس ہوا کہ ایک اچھی شرح کے بغیر جاوید نامہ کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی کا نام اقبال شناسی میں ایک معتبر حوالے کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اقبال کی فارسی کتب کی شروحات لکھ کر ایک عظیم علمی خدمت انجام دی ہے۔ ان کی شرح کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ مشکل سے مشکل شعر کو بھی آسان اور عام فہم زبان میں کھول کر بیان کر دیتے ہیں۔ وہ صرف لفظی ترجمہ نہیں کرتے بلکہ شعر کے پس منظر، اس میں پوشیدہ فلسفیانہ بحث اور اقبال کے مقصود کو بھی واضح کرتے ہیں۔

اس شرح کو پڑھتے ہوئے قاری کو ایسا لگتا ہے جیسے کوئی شفیق استاد ساتھ بیٹھا ہر شعر کی تہہ کھول رہا ہو۔ جہاں اقبال نے کسی تاریخی شخصیت کا ذکر کیا ہے، وہاں اس کا تعارف بھی ملتا ہے۔ جہاں کوئی فلسفیانہ اصطلاح آئی ہے، وہاں اس کی وضاحت بھی موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹیوں کے طلبہ اور مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرنے والے امیدوار اس شرح کو بنیادی ماخذ سمجھتے ہیں۔

میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ شرح کے ساتھ جاوید نامہ پڑھنا ایک بالکل مختلف تجربہ ہے۔ وہ اشعار جو پہلے محض الفاظ کا مجموعہ لگتے تھے، شرح کی روشنی میں معنی کے خزانے بن جاتے ہیں۔ اقبال کا پیغامِ خودی، ان کا عشقِ رسول، اور ان کی فکری بلندی — یہ سب اس شرح کے ذریعے قاری کے دل میں اتر جاتے ہیں۔ کئی بار تو ایسا ہوا کہ ایک شعر کی شرح پڑھ کر میں دیر تک سوچتا رہ گیا۔

یہ کتاب خاص طور پر ان احباب کے لیے ناگزیر ہے جو اقبال کو گہرائی سے سمجھنا چاہتے ہیں۔ ایم اے اردو کے طلبہ، لیکچرر اور سی ایس ایس کے امیدوار، اور اقبال کے شائقین — سب کے لیے یہ شرح ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ فارسی سے ناواقف قاری بھی اس شرح کی مدد سے جاوید نامہ کے فیوض سے مستفید ہو سکتا ہے، اور یہی اس کی سب سے بڑی خدمت ہے۔

خوش قسمتی سے یہ شرح اب پی ڈی ایف کی صورت میں دستیاب ہے اور آپ اسے فری ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ پہلے ایسی علمی کتابیں تلاش کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا، لیکن اب یہ سہولت ہے کہ ایک کلک پر یہ خزانہ آپ کے موبائل یا کمپیوٹر میں محفوظ ہو جاتا ہے۔ علم کے متلاشیوں کے لیے یہ سہولت کسی نعمت سے کم نہیں۔

آخر میں یہی کہوں گا کہ جاوید نامہ اقبال کے فکری سفر کی معراج ہے اور پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی شرح اس معراج تک پہنچنے کی سیڑھی ہے۔ یہ پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کیجیے، غور و فکر کے ساتھ پڑھیے، اور اقبال کے اس پیغام کو اپنے دل میں اتاریے جو آج بھی اتنا ہی زندہ ہے جتنا کل تھا۔

center;">DOWNLOAD

اسرارِ خودی شرح پروفیسر یوسف سلیم چشتیpdf free download

 

Asrar e Khudi Sharah By Professor Yousuf Saleem Chishti pdf free download

enter;font-family:'Jameel Noori Nastaleeq','Noto Nastaliq Urdu','Urdu Typesetting',serif">

"اسرارِ خودی" وہ کتاب ہے جس نے علامہ اقبال کو اقبال بنایا۔ یہ وہ عظیم فارسی مثنوی ہے جس میں اقبال نے پہلی بار اپنے فلسفۂ خودی کو مکمل صورت میں پیش کیا۔ لیکن سچ پوچھیے تو یہ کتاب پڑھنا آسان نہیں — اس کی فارسی گہری ہے، اس کے مفاہیم بلند ہیں، اور اس کے مخاطب کو غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی شرح اس کتاب کے قارئین کے لیے ایک انمول تحفہ ہے۔

اسرارِ خودی انیس سو پندرہ میں شائع ہوئی اور اشاعت کے ساتھ ہی اس نے علمی و ادبی حلقوں میں تہلکہ مچا دیا۔ اس مثنوی کا مرکزی خیال "خودی" ہے — یعنی انسان کی اپنی ذات کی پہچان، اس کی پوشیدہ قوتوں کا ادراک، اور ان قوتوں کو عمل میں لانے کا جذبہ۔ اقبال کے نزدیک خودی کو مٹانا نہیں بلکہ اسے مستحکم کرنا ہی انسان کی نجات کا راستہ ہے۔ یہ وہ پیغام تھا جس نے سوئی ہوئی امت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اقبال نے یہ سب کچھ فارسی میں کہا ہے، اور ایسی فارسی میں جو فلسفیانہ اصطلاحات، قرآنی تلمیحات اور صوفیانہ رموز سے بھری ہوئی ہے۔ عام قاری جب اسے کھولتا ہے تو اکثر پہلے ہی باب میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے بھی پہلی بار جب اسے پڑھنے کی کوشش کی تو کئی اشعار سمجھ ہی نہ آئے۔ تب مجھے احساس ہوا کہ اس سفر میں کسی رہنما کی ضرورت ہے، اور وہ رہنما مجھے پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی شرح کی صورت میں ملا۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی اقبال شناسی کے ان ممتاز علماء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اقبال کی فارسی کتب کی شروحات لکھ کر اردو قارئین پر بڑا احسان کیا ہے۔ ان کی شرح کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہر شعر کو کھول کر رکھ دیتے ہیں — پہلے مشکل الفاظ کے معنی، پھر شعر کا مفہوم، اور پھر اس میں پوشیدہ فلسفیانہ نکتے کی وضاحت۔ ان کا اندازِ بیان سادہ اور عام فہم ہے، اس لیے فارسی سے ناواقف قاری بھی اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

خودی کا فلسفہ سمجھنے کے لیے یہ شرح خاص طور پر مفید ہے۔ اقبال نے خودی کے تین مراحل بیان کیے ہیں — اطاعت، ضبطِ نفس اور نیابتِ الٰہی — اور ان مراحل کی وضاحت شرح میں بڑی تفصیل سے ملتی ہے۔ اسی طرح عشق اور عقل کا موازنہ، مردِ مومن کا تصور، اور تقدیر و تدبیر کی بحث — یہ سب موضوعات شرح کی روشنی میں واضح ہو جاتے ہیں۔ پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی دانا استاد ہر مشکل مقام پر آپ کا ہاتھ تھامے ہوئے ہے۔

میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ شرح کے ساتھ اسرارِ خودی پڑھنا ایک فکری انقلاب سے کم نہیں۔ وہ اشعار جو پہلے محض وزن اور قافیے کا کھیل لگتے تھے، شرح کے بعد زندگی کے رہنما اصول بن جاتے ہیں۔ اقبال کا یہ پیغام کہ انسان اپنی خودی کو پہچانے اور اسے بلند کرے، آج کے نوجوان کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا سو سال پہلے تھا۔ کئی بار ایک شعر کی شرح پڑھ کر میں دیر تک اس کے معنی میں کھویا رہا۔

یہ کتاب ان تمام احباب کے لیے ناگزیر ہے جو اقبال کے فکر کو اس کی اصل صورت میں سمجھنا چاہتے ہیں۔ ایم اے اردو اور اسلامیات کے طلبہ، مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرنے والے امیدوار، اور فلسفۂ اقبال کے شائقین — سب کے لیے یہ شرح ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ جو لوگ اقبال پر تحقیقی کام کر رہے ہیں، ان کے لیے تو یہ ایک بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔

خوش قسمتی سے یہ شرح اب پی ڈی ایف کی صورت میں دستیاب ہے اور آپ اسے فری ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ پہلے ایسی علمی کتابوں تک رسائی مشکل تھی، لیکن اب ایک کلک پر یہ پوری شرح آپ کے موبائل یا کمپیوٹر میں محفوظ ہو جاتی ہے۔ علم و حکمت کے متلاشیوں کے لیے یہ سہولت کسی نعمت سے کم نہیں۔

آخر میں یہی کہوں گا کہ اسرارِ خودی اقبال کے فکر کا سرچشمہ ہے اور پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی شرح اس سرچشمے تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ یہ پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کیجیے، غور و تدبر کے ساتھ پڑھیے، اور خودی کے اس پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیے جو اقبال نے پوری امت کے لیے چھوڑا تھا۔

p>


DOWNLOAD

شرح زبور عجم پروفیسر یوسف سلیم چشتی pdf free download

 

علامہ محمد اقبال کا نام آتے ہی ذہن میں اردو کے بلند پایہ اشعار گونجنے لگتے ہیں، مگر کم لوگ جانتے ہیں کہ اقبال کی اصل فکری دولت ان کی فارسی شاعری میں پوشیدہ ہے۔ "زبورِ عجم" انھی فارسی مجموعوں میں سے ایک نمایاں کتاب ہے جس میں خودی، عشق، مشرق و مغرب اور انسان کی تقدیر جیسے موضوعات ایک نئے اسلوب میں سامنے آتے ہیں۔ فارسی سے ناواقف عام قاری کے لیے اس مجموعے کا براہِ راست مطالعہ آسان نہیں، اور یہیں ایک مستند اور عام فہم شرح کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔

اردو میں اقبال کی شاعری کی شرحیں لکھنے والوں میں پروفیسر یوسف سلیم چشتی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ انھوں نے اپنی عمر کا بڑا حصہ اقبال شناسی کے لیے وقف کر رکھا ہے اور بانگِ درا، ضربِ کلیم، پیامِ مشرق اور ارمغانِ حجاز جیسے اہم مجموعوں کی شرحیں لکھ کر اردو قارئین پر بڑا احسان کیا ہے۔ "شرح زبورِ عجم" بھی اسی سلسلے کی ایک قابلِ قدر کڑی ہے۔ چشتی صاحب کی شرحوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ مشکل سے مشکل شعر کو بھی اس انداز سے کھول کر بیان کرتے ہیں کہ عام طالب علم بھی اسے باآسانی سمجھ لیتا ہے۔

اس شرح میں ہر شعر کے ساتھ اس کا سلیس اردو ترجمہ دیا گیا ہے، مشکل الفاظ کے معانی واضح کیے گئے ہیں اور جہاں ضرورت محسوس ہوئی وہاں شعر کے پس منظر اور اس میں پوشیدہ فکری نکات کی بھی وضاحت کر دی گئی ہے۔ اقبال کے ہاں ایک ایک لفظ کئی معنوں کا حامل ہوتا ہے اور چشتی صاحب نے بڑی محنت سے ان معنوی تہوں کو قاری کے سامنے رکھا ہے۔ فارسی محاوروں اور تراکیب کی تشریح بھی اس شرح کا نمایاں وصف ہے جس سے فارسی سے کم واقف قاری بھی پورے اعتماد سے اس کتاب کا مطالعہ کر سکتا ہے۔

"زبورِ عجم" کے عنوان ہی میں ایک گہرا مفہوم پوشیدہ ہے۔ زبور حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل ہونے والی آسمانی کتاب کا نام ہے اور عجم سے مراد غیرِ عرب اقوام ہیں، یوں یہ عنوان گویا اہلِ عجم کے لیے ایک نئی زبور یعنی نئے پیغام کی نوید دیتا ہے۔ اس مجموعے میں اقبال نے مشرق کی روحانی بیداری کا خواب دیکھا اور مغربی تہذیب کی محض مادیّت پر گہری تنقید کی ہے۔ خودی کا تصور، مردِ مومن کی تعمیر اور عشقِ حقیقی کی طلب اس کتاب کی فکری بنیادیں ہیں جنھیں چشتی صاحب کی شرح شعر بہ شعر واضح کرتی چلی جاتی ہے۔

چشتی صاحب کا اسلوبِ شرح بھی قابلِ دید ہے۔ وہ صرف لفظی ترجمے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ شعر میں موجود تلمیحات، تاریخی حوالوں اور صوفیانہ اصطلاحات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ کہیں کہیں وہ اقبال کے دیگر اشعار سے موازنہ کر کے مطلب کو مزید روشن کرتے ہیں اور یہی بات ان کی شرح کو محض ترجمے سے بڑھ کر ایک تحقیقی کام بنا دیتی ہے۔ جو قاری اقبال کو گہرائی سے سمجھنا چاہتا ہے اس کے لیے یہ شرح ایک بہترین رہنما ثابت ہوتی ہے۔

یہ کتاب کن لوگوں کے لیے مفید ہے؟ اس کا جواب بڑا وسیع ہے۔ ایم اے اردو اور فارسی کے طلبہ اس سے امتحانی تیاری میں بھرپور مدد لے سکتے ہیں، مقابلے کے امتحانات دینے والے امیدواروں سے اقبال کے فارسی کلام کے بارے میں اکثر سوالات پوچھے جاتے ہیں، جامعات و مدارس کے اساتذہ اسے تدریسی حوالے کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں، اور وہ عام قاری جو اقبال شناسی کا شوق رکھتا ہے اس کے لیے تو یہ شرح کسی نعمت سے کم نہیں۔ الغرض ہر وہ شخص جو اقبال کے فارسی کلام سے فیض یاب ہونا چاہتا ہے اس شرح سے ضرور استفادہ کرے۔

خوش قسمتی سے اب یہ قیمتی شرح پی ڈی ایف کی صورت میں بھی دستیاب ہے۔ ڈیجیٹل دور میں کتابوں کا یہی حسن ہے کہ آپ اپنی پسندیدہ کتاب اپنے موبائل یا کمپیوٹر میں محفوظ کر کے کہیں بھی اور کبھی بھی اس کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ طلبہ کے لیے تو یہ سہولت کسی نعمت سے کم نہیں کہ بھاری کتابیں اٹھائے بغیر پورا ذخیرہ ان کی جیب میں ہوتا ہے۔ اس صفحے پر دیے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن سے آپ "شرح زبورِ عجم" کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے مطالعے کا آغاز کر سکتے ہیں۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اقبال کو سمجھنا آج کے دور کی اہم ترین فکری ضرورتوں میں سے ایک ہے اور فارسی کلام ان کے فکر کا وہ دروازہ ہے جو ایک اچھی شرح کے بغیر کھلتا نہیں۔ پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی یہ شرح اس دروازے کی کنجی ہے۔ اگر آپ اقبال کے مداح ہیں یا ان کے فکر کو سمجھنے کا عزم رکھتے ہیں تو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کیجیے اور اس پی ڈی ایف کو اپنے دوستوں تک بھی پہنچائیے تاکہ یہ علمی خزانہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔

Sharah Zabur e Ajam By Yousuf Saleem Chishti pdf free download


DOWNLOAD

پیام مشرق مع شرح پروفیسر یوسف سلیم چشتی pdf free download

 

جرمن شاعر گوئٹے نے جب "دیوانِ مغربی" لکھ کر مشرق کی شاعری کو خراج پیش کیا تو علامہ اقبال نے اس کے جواب میں "پیامِ مشرق" تحریر کی، گویا مغرب کے پیغام کا جواب مشرق کی زبان میں دیا۔ یہ کتاب 1923 میں منظر عام پر آئی اور اقبال کے فارسی کلام کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ اس مجموعے میں اقبال نے مغربی تہذیب کا گہرا مطالعہ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ مشرق کی روحانی اور فکری برتری کا مقدمہ بھی لڑا ہے۔ فارسی سے ناآشنا قاری کے لیے اس کتاب کی گہرائیوں تک پہنچنا ایک اچھی شرح کے بغیر ممکن نہیں۔

"پیامِ مشرق" میں موضوعات کا ایک وسیع جہان آباد ہے۔ خودی کا فلسفہ، عشق کی حقیقت، مشرق و مغرب کی فکری کشمکش اور انسان کی تقدیر، یہ وہ بنیادی نغمے ہیں جو اس مجموعے کی ہر نظم میں گونجتے ہیں۔ اقبال نے یہاں مغرب کی مادی ترقی کو سراہنے کے ساتھ اس کی روحانی تہی دامنی پر بھی کڑی تنقید کی ہے اور اہلِ مشرق کو ان کی کھوئی ہوئی عظمت کی یاد دلائی ہے۔ یہ کتاب دراصل ایک فکری مکالمہ ہے جو دو تہذیبوں کے درمیان جاری ہے۔

اردو میں اقبال فہمی کی روایت کو پروفیسر یوسف سلیم چشتی نے جس انہماک سے آگے بڑھایا ہے اس کی مثال کم ملتی ہے۔ انھوں نے بانگِ درا، ضربِ کلیم، زبورِ عجم اور ارمغانِ حجاز سمیت اقبال کے بڑے مجموعوں کی شرحیں لکھیں اور ہر شرح میں یہی کوشش کی کہ مشکل سے مشکل شعر بھی عام قاری کی سمجھ میں آ جائے۔ "شرح پیامِ مشرق" بھی اسی محنت اور دیانت کا ثمر ہے۔ چشتی صاحب کی شرح پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی شفیق استاد آپ کے سامنے بیٹھا ایک ایک شعر کھول کر سمجھا رہا ہو۔

اس شرح کی نمایاں خوبی یہ ہے کہ اس میں ہر شعر کا سلیس اردو ترجمہ موجود ہے، مشکل الفاظ اور فارسی تراکیب کے معانی واضح کیے گئے ہیں اور جہاں کسی تاریخی واقعے یا تلمیح کا ذکر آیا ہے وہاں اس کی پوری وضاحت کر دی گئی ہے۔ اقبال کی فارسی میں صوفیانہ اصطلاحات اور فلسفیانہ اشارے جا بجا ملتے ہیں اور چشتی صاحب نے انھیں بڑی خوش اسلوبی سے عام فہم بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شرح صرف ترجمہ نہیں بلکہ ایک مکمل تحقیقی رہنمائی کی حیثیت رکھتی ہے۔

"پیامِ مشرق" کی ادبی ساخت بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ اس میں غزلیں بھی ہیں، رباعیاں بھی، قطعے بھی اور مثنوی کے انداز میں لکھی گئی طویل نظمیں بھی۔ ہر صنف میں اقبال کا اپنا رنگ جھلکتا ہے، کہیں عشق کی مستی ہے تو کہیں فکر کی گہرائی۔ چشتی صاحب نے ہر صنف کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے شرح کی ہے اور بعض مقامات پر اوزان و بحور کی طرف بھی اشارہ کیا ہے جو ادب کے طالب علموں کے لیے خاصا مفید ہے۔

یہ شرح کن لوگوں کے کام آ سکتی ہے؟ ایم اے اردو و فارسی کے طلبہ اس سے بھرپور استفادہ کر سکتے ہیں کیونکہ اقبال کا فارسی کلام نصاب اور امتحانات دونوں میں اہمیت رکھتا ہے۔ مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرنے والوں کے لیے بھی یہ کتاب ناگزیر ہے۔ اساتذہ اسے درس و تدریس میں حوالے کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں اور عام قاری جو اقبال کے فکر سے دلچسپی رکھتا ہے وہ بھی اس شرح کی مدد سے "پیامِ مشرق" کی سیر کر سکتا ہے۔

اچھی خبر یہ ہے کہ یہ قیمتی شرح اب پی ڈی ایف کی صورت میں دستیاب ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں کتاب کا موبائل میں موجود ہونا کسی نعمت سے کم نہیں، سفر میں ہوں یا گھر میں، آپ جب چاہیں مطالعہ کر سکتے ہیں۔ طلبہ کے لیے یہ سہولت اور بھی قیمتی ہے کہ وہ بھاری کتابیں اٹھائے بغیر اپنا پورا ذخیرہ ساتھ رکھ سکتے ہیں۔ اس صفحے پر موجود ڈاؤن لوڈ کے بٹن سے "شرح پیامِ مشرق" کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کیجیے اور اقبال کے اس عظیم پیغام سے فیض یاب ہوئیے۔

بات یہ ہے کہ "پیامِ مشرق" صرف ایک شعری مجموعہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی دستاویز ہے، اس میں ایک ایسے مفکر کی آواز ہے جو مشرق و مغرب دونوں کو سمجھتا تھا اور انسانیت کے مستقبل کے لیے فکرمند تھا۔ پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی شرح اس دستاویز کو ہر اردو داں کے لیے کھول دیتی ہے۔ اگر آپ اقبال کو واقعی سمجھنا چاہتے ہیں تو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کیجیے اور اس پی ڈی ایف کو اپنے احباب تک بھی پہنچائیے۔

Payam e Mushriq By Professor Yousuf Saleem Chishti pdf free download


DOWNLOAD

رموز بیخودی مع شرح پروفیسر یوسف سلیم چشتی Pdf free download

 

علامہ اقبال نے 1915 میں "اسرارِ خودی" لکھ کر فرد کی خودی کا فلسفہ پیش کیا تھا۔ اس کے تین برس بعد 1918 میں "رموزِ بیخودی" منظر عام پر آئی جو اسی فکر کا دوسرا اور تکمیلی باب ہے۔ اگر اسرارِ خودی میں فرد کی تعمیر کا راز ہے تو رموزِ بیخودی میں ملت کی تعمیر کا راز پوشیدہ ہے۔ اقبال کے نزدیک فرد کی خودی کی تکمیل ملت کی خودی میں ہے اور یہی اس کتاب کا مرکزی پیغام ہے۔ فارسی سے ناواقف قاری کے لیے اس گہرے فلسفیانہ کلام کو سمجھنا ایک مستند شرح کے بغیر دشوار ہے۔

"رموزِ بیخودی" میں اقبال نے اجتماعی زندگی کے اصول واضح کیے ہیں۔ فرد اور ملت کا رشتہ، اسلامی اخوت و مساوات، تقلیدِ جامد کی مذمت اور اجتہاد کی ضرورت، قومی زندگی میں عشق و محبت کا کردار، یہ وہ موضوعات ہیں جن پر اقبال نے اس مثنوی میں سیر حاصل بحث کی ہے۔ ان کے نزدیک ملتِ اسلامیہ ایک زندہ وحدت ہے جس کی بنیاد کلمۂ توحید پر ہے اور اس وحدت کو قائم رکھنے کے لیے ہر فرد کو اپنی خودی کو ملت کی خودی میں ڈھالنا ہوگا۔

اردو میں اقبال کی شرحوں کے حوالے سے پروفیسر یوسف سلیم چشتی کا نام ایک معتبر حوالے کی حیثیت رکھتا ہے۔ انھوں نے بانگِ درا، ضربِ کلیم، پیامِ مشرق، زبورِ عجم اور ارمغانِ حجاز جیسی اہم کتابوں کی شرحیں لکھ کر اقبال فہمی کو عام کیا۔ "شرح رموزِ بیخودی" بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ چشتی صاحب کی خاص بات یہ ہے کہ وہ فلسفیانہ اور صوفیانہ مضامین کو بھی عام فہم زبان میں اس طرح بیان کرتے ہیں کہ قاری کو کہیں الجھن محسوس نہیں ہوتی۔

اس شرح میں ہر شعر کا سلیس اردو ترجمہ دیا گیا ہے، مشکل الفاظ اور فارسی تراکیب کے معانی واضح کیے گئے ہیں اور اقبال کے فلسفیانہ اشاروں کی پوری وضاحت کی گئی ہے۔ جہاں کسی تاریخی واقعے، قرآنی آیت یا حدیث کی طرف اشارہ ہے وہاں اس کا حوالہ بھی دے دیا گیا ہے۔ رموزِ بیخودی جیسی فکری کتاب کے لیے یہی اسلوبِ شرح موزوں ہے کیونکہ یہاں صرف لفظی ترجمہ کافی نہیں ہوتا بلکہ مطلب کی تہ تک پہنچنا ضروری ہوتا ہے اور چشتی صاحب اس میں کامیاب نظر آتے ہیں۔

آج کے دور میں "رموزِ بیخودی" کا پیغام پہلے سے بھی زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ جب امتِ مسلمہ انتشار اور فرقہ واریت کا شکار ہے، اقبال کا یہ پیغام کہ ملت کی بقا اتحاد اور خودی میں ہے، ایک نئی روشنی دیتا ہے۔ فرد کی خودی اور ملت کی خودی کا یہ فلسفہ ہر اس شخص کے لیے مشعلِ راہ ہے جو قومی زندگی کی تعمیر میں دلچسپی رکھتا ہے۔ چشتی صاحب کی شرح اس فلسفے کو ہر اردو داں تک پہنچانے کا ذریعہ بنتی ہے۔

یہ کتاب کن کے لیے مفید ہے؟ ایم اے اردو و فارسی کے طلبہ کے لیے یہ نصابی اور امتحانی دونوں اعتبارات سے اہم ہے۔ مقابلے کے امتحانات میں اقبال کے فلسفۂ خودی پر سوالات اکثر پوچھے جاتے ہیں۔ اساتذہ اسے تدریس میں حوالے کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں اور وہ قارئین جو اسلامی فکر اور اقبال شناسی سے دلچسپی رکھتے ہیں ان کے لیے یہ شرح ایک قیمتی تحفہ ہے۔

خوشی کی بات یہ ہے کہ یہ شرح اب پی ڈی ایف کی صورت میں بھی میسر ہے۔ ڈیجیٹل دور میں کتاب کا آپ کے موبائل میں ہونا ایک بڑی سہولت ہے، آپ سفر میں، گھر میں، جہاں چاہیں مطالعہ کر سکتے ہیں۔ طلبہ کے لیے تو یہ سہولت دہری خوشی ہے کہ بھاری کتاب اٹھائے بغیر پورا مواد ان کی دسترس میں ہوتا ہے۔ اس صفحے پر دیے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن سے "شرح رموزِ بیخودی" کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کیجیے اور اس فکری خزانے سے فیض اٹھائیے۔

خلاصہ یہ کہ "رموزِ بیخودی" اقبال کے فکر کا وہ باب ہے جو فرد سے ملت تک کا سفر طے کرتا ہے اور پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی شرح اس سفر میں آپ کی بہترین ہم سفر ثابت ہوتی ہے۔ اگر آپ اقبال کے فلسفۂ خودی کو واقعی سمجھنا چاہتے ہیں تو اس کتاب کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ اس پی ڈی ایف کو ضرور ڈاؤن لوڈ کیجیے اور اپنے دوستوں اور احباب تک بھی پہنچائیے تاکہ یہ علمی و فکری دولت عام ہو سکے۔

Ramooz e Bekhudi By professor Yousuf Saleem Chishti pdf free download


DOWNLOAD

شرح بانگ درا پروفیسر یوسف سلیم چشتی

 

"بانگِ درا" کے معنی قافلے کی گھنٹی کے ہیں، وہ گھنٹی جو قافلے کی روانگی کا اعلان کرتی ہے۔ علامہ اقبال نے اپنے پہلے اردو شعری مجموعے کا یہی نام رکھا جو 1924 میں شائع ہوا۔ یہ کتاب ان کی شاعری کے ابتدائی دور سے لے کر فکری پختگی تک کا سفر اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ مجموعہ تین حصوں میں تقسیم ہے: پہلا حصہ 1905 سے پہلے کی شاعری، دوسرا 1905 سے 1908 تک یورپ کے قیام کے دوران کی نظمیں، اور تیسرا 1908 کے بعد کی تخلیقات پر مشتمل ہے۔ اردو داں طبقے کے لیے یہ کتاب اقبال سے روشناس ہونے کا پہلا دروازہ ہے۔

بانگِ درا کی شہرت کا ایک بڑا سبب اس میں شامل وہ لازوال نظمیں ہیں جو آج بھی ہر اردو داں کی زبان پر ہیں۔ "شکوہ" اور "جوابِ شکوہ" میں امت کی حالتِ زار پر فریاد اور پھر اس کا الہامی جواب، "خضرِ راہ" میں مسلمان کی تقدیر پر غور، "طلوعِ اسلام" میں ملت کی بیداری کی نوید، یہ نظمیں اردو شاعری کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان نظموں میں قومی درد، خودی کا پیغام اور عشقِ حقیقی کی طلب ایک ساتھ جلوہ گر ہیں۔

اس عظیم کتاب کو سمجھنے کے لیے پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی شرح ایک نعمت سے کم نہیں۔ چشتی صاحب نے اقبال کے اردو و فارسی دونوں طرح کے کلام کی شرحیں لکھی ہیں اور ان کا شمار اردو کے ممتاز اقبال شناسوں میں ہوتا ہے۔ "شرح بانگِ درا" میں انھوں نے ہر نظم کے پس منظر، اس کے فکری محرکات اور اشعار کے دقیق مطالب کو اس سادگی سے بیان کیا ہے کہ عام قاری بھی مستفید ہو سکتا ہے اور محقق بھی۔

شرح کی نمایاں خصوصیات میں مشکل الفاظ کے معانی، تراکیب کی وضاحت، تلمیحات و اشارات کی تشریح اور نظم کے مجموعی مفہوم کا بیان شامل ہے۔ اقبال کی شاعری میں تاریخی، قرآنی اور صوفیانہ حوالے جا بجا آتے ہیں اور چشتی صاحب نے ان سب کی نشاندہی بڑی دیانت سے کی ہے۔ بعض مقامات پر وہ مختلف شارحین کی آراء کا موازنہ بھی پیش کرتے ہیں جس سے قاری کو مطلب کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہی اسلوب ان کی شرح کو محض ترجمے سے ممتاز کرتا ہے۔

بانگِ درا اردو ادب کی وہ کتاب ہے جو ہر گھر میں ہونی چاہیے۔ یہ نصابوں میں شامل ہے، مقابلے کے امتحانات میں اس سے سوالات پوچھے جاتے ہیں اور اردو ادب کے ہر طالب علم کے لیے اس کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ شکوہ اور جوابِ شکوہ جیسی نظمیں تو ہماری تہذیبی شناخت کا حصہ بن چکی ہیں۔ ایسی کتاب کی شرح کا ہونا اس لیے بھی ضروری ہے کہ نئی نسل اقبال کے پیغام کو صحیح تناظر میں سمجھ سکے۔

یہ شرح کن کے لیے مفید ہے؟ اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ اس سے امتحانی تیاری کر سکتے ہیں، ایم اے اردو کے طلبہ کے لیے یہ ایک مستند حوالہ ہے، مقابلے کے امتحانات دینے والوں کے لیے ناگزیر ہے اور اساتذہ اسے تدریس میں بطور معاون کتاب استعمال کر سکتے ہیں۔ عام قاری جو اقبال سے محبت کرتا ہے وہ بھی اس شرح کی مدد سے بانگِ درا کی گہرائیوں سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔

اچھی خبر یہ ہے کہ یہ شرح اب پی ڈی ایف کی صورت میں دستیاب ہے۔ ڈیجیٹل دور میں اپنی پسندیدہ کتاب کا موبائل میں ہونا ایک بڑی سہولت ہے، آپ جہاں چاہیں، جب چاہیں مطالعہ کر سکتے ہیں۔ طلبہ کے لیے یہ سہولت خاصی اہم ہے کہ بھاری کتابیں اٹھائے بغیر ان کا پورا ذخیرہ ان کی جیب میں ہوتا ہے۔ اس صفحے پر دیے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن سے "شرح بانگِ درا" کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کیجیے اور اقبال کے اس لافانی کلام سے فیض یاب ہوئیے۔

آخر میں یہی عرض ہے کہ بانگِ درا اقبال کے فکر کا پہلا باقاعدہ دروازہ ہے اور پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی شرح اس دروازے کی کنجی۔ جو شخص اقبال کو سمجھنا چاہتا ہے اسے یہیں سے آغاز کرنا چاہیے۔ اس پی ڈی ایف کو ضرور ڈاؤن لوڈ کیجیے، اس کا مطالعہ کیجیے اور اپنے عزیزوں اور دوستوں تک بھی پہنچائیے تاکہ اقبال کا پیغام ہر گھر تک پہنچ سکے۔

Sharah Bang e Dara By Yousuf Saleem Chishti pdf free download


DOWNLOAD

شرح ضرب کلیم پروفیسر یوسف سلیم چشتی

 

"کلیم" حضرت موسیٰ علیہ السلام کا لقب ہے، وہ پیغمبر جو اللہ سے ہم کلام ہوئے۔ علامہ اقبال نے اپنے اردو شعری مجموعے "ضربِ کلیم" کا یہ نام اسی مناسبت سے رکھا جو 1936 میں شائع ہوا۔ جس طرح حضرت موسیٰ کے عصا نے فرعون کے جادو کا مقابلہ کیا تھا، اسی طرح اقبال کی یہ کتاب اپنے دور کے باطل افکار اور گمراہ کن نظریات کا مقابلہ کرتی ہے۔ یہ اقبال کی زندگی کے آخری دور کی تخلیق ہے جس میں ان کا فکر پوری پختگی کے ساتھ جلوہ گر ہے۔

ضربِ کلیم میں موضوعات کا ایک وسیع سلسلہ ہے۔ مغربی تہذیب کی مادیّت پر تنقید، مسلمانوں کی زبوں حالی پر نوحہ، خودی اور عشق کا پیغام، سیاست و تصوف پر گہری نظر، یہ سب اس مجموعے کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ "ابلیس کی مجلسِ شوریٰ" جیسی مشہور نظم اسی کتاب میں شامل ہے جس میں اقبال نے استعماری طاقتوں کے عزائم کو بے نقاب کیا ہے۔ ہر نظم میں ایک جہانِ معنی آباد ہے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔

اس گہرے اور فکری کلام کو سمجھنے کے لیے پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی شرح بہترین رہنما ہے۔ چشتی صاحب اردو کے ممتاز اقبال شناس ہیں جنھوں نے بانگِ درا، پیامِ مشرق، زبورِ عجم، رموزِ بیخودی اور ارمغانِ حجاز سمیت اقبال کے اہم مجموعوں کی شرحیں لکھی ہیں۔ "شرح ضربِ کلیم" میں انھوں نے ہر نظم کے پس منظر اور اشعار کے دقیق مطالب کو عام فہم انداز میں بیان کیا ہے۔

شرح کی خصوصیات میں مشکل الفاظ کے معانی، فارسی و عربی تراکیب کی وضاحت، تلمیحات و اشارات کی تشریح اور نظم کے مجموعی مفہوم کا بیان شامل ہے۔ اقبال کی شاعری میں تاریخی واقعات، قرآنی آیات اور صوفیانہ اصطلاحات جا بجا آتی ہیں اور چشتی صاحب نے ان سب کی وضاحت بڑی محنت سے کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شرح صرف لفظی ترجمہ نہیں بلکہ ایک مکمل فکری رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

ضربِ کلیم اقبال کے پختہ فکر کا آئینہ ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں شاعر نے اپنی زندگی بھر کے تجربات اور مشاہدات کا نچوڑ پیش کیا ہے۔ اردو ادب میں اسے ایک انقلابی کتاب کی حیثیت حاصل ہے کیونکہ اس میں روایتی شاعری سے ہٹ کر ایک نئی فکری دنیا آباد کی گئی ہے۔ نصابوں میں اس کی شمولیت اور مقابلے کے امتحانات میں اس سے پوچھے جانے والے سوالات اس کی اہمیت کے گواہ ہیں۔

یہ شرح کن کے لیے مفید ہے؟ ایم اے اردو کے طلبہ کے لیے یہ ایک مستند حوالہ ہے، مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرنے والوں کے لیے ناگزیر ہے، اساتذہ اسے تدریس میں معاون کتاب کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں اور عام قاری جو اقبال کے فکر سے دلچسپی رکھتا ہے وہ بھی اس شرح کی مدد سے ضربِ کلیم کی گہرائیوں تک پہنچ سکتا ہے۔

خوشی کی بات یہ ہے کہ یہ قیمتی شرح اب پی ڈی ایف کی صورت میں دستیاب ہے۔ ڈیجیٹل دور میں کتاب کا آپ کے موبائل میں ہونا ایک بڑی سہولت ہے، آپ سفر میں ہوں یا گھر میں، جب چاہیں مطالعہ کر سکتے ہیں۔ طلبہ کے لیے یہ سہولت خاصی قیمتی ہے کہ بھاری کتابیں اٹھائے بغیر ان کا پورا ذخیرہ ان کی دسترس میں ہوتا ہے۔ اس صفحے پر دیے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن سے "شرح ضربِ کلیم" کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کیجیے اور اس فکری خزانے سے فیض اٹھائیے۔

بات مختصر یہ کہ ضربِ کلیم اقبال کا وہ پیغام ہے جو ہر دور کے لیے تازہ ہے اور پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی شرح اس پیغام کو ہر اردو داں تک پہنچانے کا ذریعہ۔ اگر آپ اقبال کے فکر کو اس کی پوری گہرائی کے ساتھ سمجھنا چاہتے ہیں تو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کیجیے۔ اس پی ڈی ایف کو ڈاؤن لوڈ کیجیے اور اپنے احباب تک بھی پہنچائیے تاکہ یہ علمی دولت زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔

Sharah Zarb e Kaleem By professor Yousuf Saleem Chishti pdf free download


DOWNLOAD

شرح ارمغانِ حجاز حصہ فارسی پروفیسر یوسف سلیم چشتی

 

علامہ اقبال کی وفات 21 اپریل 1938 کو ہوئی اور اسی برس ان کا آخری شعری مجموعہ "ارمغانِ حجاز" شائع ہوا۔ "ارمغان" کے معنی ہیں تحفہ یا سوغات، اور حجاز سے مراد وہ مقدس سرزمین ہے جہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ واقع ہیں۔ یوں یہ کتاب گویا حجاز کی مقدس سرزمین کا تحفہ ہے جو اقبال نے امتِ مسلمہ کے نام کیا۔ یہ مجموعہ دو حصوں میں تقسیم ہے: حصہ اردو اور حصہ فارسی۔

اس صفحے پر جس شرح کا پی ڈی ایف پیش کیا جا رہا ہے وہ "ارمغانِ حجاز" کے فارسی حصے کی شرح ہے۔ فارسی حصے میں اقبال نے حجاز کے سفر کی روحانی یادوں، عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تڑپ اور اپنی فکری زندگی کے نچوڑ کو مثنوی اور غزل کے قالب میں ڈھالا ہے۔ یہ وہ کلام ہے جس میں اقبال کا فکر اپنے عروج پر نظر آتا ہے، خودی کا فلسفہ یہاں عشقِ حقیقی میں ڈھل کر ایک نئی بلندی حاصل کرتا ہے۔

فارسی کلام کی گہرائیوں تک پہنچنا عام قاری کے لیے آسان نہیں، اسی لیے پروفیسر یوسف سلیم چشتی جیسے مستند شارح کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ چشتی صاحب نے اقبال کے اردو و فارسی دونوں طرح کے مجموعوں کی شرحیں لکھ کر اردو قارئین پر بڑا احسان کیا ہے۔ "شرح ارمغانِ حجاز (حصہ فارسی)" میں انھوں نے ہر شعر کا سلیس اردو ترجمہ اور مطلب اس انداز سے بیان کیا ہے کہ فارسی سے ناواقف قاری بھی اس سے پوری طرح مستفید ہو سکتا ہے۔

اس شرح کی نمایاں خصوصیات میں مشکل الفاظ کے معانی، فارسی تراکیب کی وضاحت، تلمیحات و اشارات کی تشریح اور اشعار کے پس منظر کا بیان شامل ہے۔ ارمغانِ حجاز کے فارسی حصے میں صوفیانہ اصطلاحات اور فلسفیانہ اشارے جا بجا ملتے ہیں اور چشتی صاحب نے انھیں بڑی خوش اسلوبی سے عام فہم بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شرح محض ترجمے سے بڑھ کر ایک تحقیقی و تنقیدی رہنمائی کی حیثیت رکھتی ہے۔

ارمغانِ حجاز کو اقبال کے فکر کا خلاصہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ یہ ان کی زندگی کا آخری پیغام ہے، گویا ایک وصیت جو وہ آنے والی نسلوں کے نام چھوڑ گئے۔ اس کتاب میں ان کے تمام بنیادی افکار، خودی، عشق، ملت کی وحدت اور مشرق کی بیداری، اپنے آخری اور پختہ ترین روپ میں سامنے آتے ہیں۔ ایسی کتاب کی مستند شرح کا ہونا ہر اقبال شناس کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔

یہ شرح کن کے لیے مفید ہے؟ ایم اے اردو و فارسی کے طلبہ اس سے امتحانی تیاری میں بھرپور مدد لے سکتے ہیں، مقابلے کے امتحانات دینے والوں کے لیے اقبال کا یہ آخری مجموعہ خاص اہمیت رکھتا ہے، اساتذہ اسے تدریس میں حوالے کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں اور عام قاری جو اقبال کے فکر سے محبت کرتا ہے وہ بھی اس شرح کی مدد سے ارمغانِ حجاز کے فارسی حصے کی سیر کر سکتا ہے۔

اچھی خبر یہ ہے کہ یہ قیمتی شرح اب پی ڈی ایف کی صورت میں دستیاب ہے۔ ڈیجیٹل دور میں کتاب کا آپ کے موبائل میں ہونا ایک بڑی سہولت ہے، آپ سفر میں ہوں یا گھر میں، جب چاہیں مطالعہ کر سکتے ہیں۔ طلبہ کے لیے یہ سہولت خاصی قیمتی ہے کہ بھاری کتابیں اٹھائے بغیر ان کا پورا ذخیرہ ان کی دسترس میں ہوتا ہے۔ اس صفحے پر دیے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن سے "شرح ارمغانِ حجاز (حصہ فارسی)" کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کیجیے اور اس روحانی و فکری خزانے سے فیض اٹھائیے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ارمغانِ حجاز اقبال کا امت کے نام آخری تحفہ ہے اور پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی شرح اس تحفے کو کھولنے کی کنجی۔ اگر آپ اقبال کو ان کے آخری پیغام کی روشنی میں سمجھنا چاہتے ہیں تو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کیجیے۔ اس پی ڈی ایف کو ڈاؤن لوڈ کیجیے اور اپنے عزیزوں اور دوستوں تک بھی پہنچائیے تاکہ یہ علمی و روحانی دولت عام ہو سکے۔

Sharah Armaghan e Hijaz Farsi By professor Yousuf Saleem Chishti pdf free download




DOWNLOAD