Asrar e Khudi Sharah By Professor Yousuf Saleem Chishti pdf free download
"اسرارِ خودی" وہ کتاب ہے جس نے علامہ اقبال کو اقبال بنایا۔ یہ وہ عظیم فارسی مثنوی ہے جس میں اقبال نے پہلی بار اپنے فلسفۂ خودی کو مکمل صورت میں پیش کیا۔ لیکن سچ پوچھیے تو یہ کتاب پڑھنا آسان نہیں — اس کی فارسی گہری ہے، اس کے مفاہیم بلند ہیں، اور اس کے مخاطب کو غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی شرح اس کتاب کے قارئین کے لیے ایک انمول تحفہ ہے۔
اسرارِ خودی انیس سو پندرہ میں شائع ہوئی اور اشاعت کے ساتھ ہی اس نے علمی و ادبی حلقوں میں تہلکہ مچا دیا۔ اس مثنوی کا مرکزی خیال "خودی" ہے — یعنی انسان کی اپنی ذات کی پہچان، اس کی پوشیدہ قوتوں کا ادراک، اور ان قوتوں کو عمل میں لانے کا جذبہ۔ اقبال کے نزدیک خودی کو مٹانا نہیں بلکہ اسے مستحکم کرنا ہی انسان کی نجات کا راستہ ہے۔ یہ وہ پیغام تھا جس نے سوئی ہوئی امت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اقبال نے یہ سب کچھ فارسی میں کہا ہے، اور ایسی فارسی میں جو فلسفیانہ اصطلاحات، قرآنی تلمیحات اور صوفیانہ رموز سے بھری ہوئی ہے۔ عام قاری جب اسے کھولتا ہے تو اکثر پہلے ہی باب میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے بھی پہلی بار جب اسے پڑھنے کی کوشش کی تو کئی اشعار سمجھ ہی نہ آئے۔ تب مجھے احساس ہوا کہ اس سفر میں کسی رہنما کی ضرورت ہے، اور وہ رہنما مجھے پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی شرح کی صورت میں ملا۔
پروفیسر یوسف سلیم چشتی اقبال شناسی کے ان ممتاز علماء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اقبال کی فارسی کتب کی شروحات لکھ کر اردو قارئین پر بڑا احسان کیا ہے۔ ان کی شرح کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہر شعر کو کھول کر رکھ دیتے ہیں — پہلے مشکل الفاظ کے معنی، پھر شعر کا مفہوم، اور پھر اس میں پوشیدہ فلسفیانہ نکتے کی وضاحت۔ ان کا اندازِ بیان سادہ اور عام فہم ہے، اس لیے فارسی سے ناواقف قاری بھی اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
خودی کا فلسفہ سمجھنے کے لیے یہ شرح خاص طور پر مفید ہے۔ اقبال نے خودی کے تین مراحل بیان کیے ہیں — اطاعت، ضبطِ نفس اور نیابتِ الٰہی — اور ان مراحل کی وضاحت شرح میں بڑی تفصیل سے ملتی ہے۔ اسی طرح عشق اور عقل کا موازنہ، مردِ مومن کا تصور، اور تقدیر و تدبیر کی بحث — یہ سب موضوعات شرح کی روشنی میں واضح ہو جاتے ہیں۔ پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی دانا استاد ہر مشکل مقام پر آپ کا ہاتھ تھامے ہوئے ہے۔
میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ شرح کے ساتھ اسرارِ خودی پڑھنا ایک فکری انقلاب سے کم نہیں۔ وہ اشعار جو پہلے محض وزن اور قافیے کا کھیل لگتے تھے، شرح کے بعد زندگی کے رہنما اصول بن جاتے ہیں۔ اقبال کا یہ پیغام کہ انسان اپنی خودی کو پہچانے اور اسے بلند کرے، آج کے نوجوان کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا سو سال پہلے تھا۔ کئی بار ایک شعر کی شرح پڑھ کر میں دیر تک اس کے معنی میں کھویا رہا۔
یہ کتاب ان تمام احباب کے لیے ناگزیر ہے جو اقبال کے فکر کو اس کی اصل صورت میں سمجھنا چاہتے ہیں۔ ایم اے اردو اور اسلامیات کے طلبہ، مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرنے والے امیدوار، اور فلسفۂ اقبال کے شائقین — سب کے لیے یہ شرح ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ جو لوگ اقبال پر تحقیقی کام کر رہے ہیں، ان کے لیے تو یہ ایک بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔
خوش قسمتی سے یہ شرح اب پی ڈی ایف کی صورت میں دستیاب ہے اور آپ اسے فری ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ پہلے ایسی علمی کتابوں تک رسائی مشکل تھی، لیکن اب ایک کلک پر یہ پوری شرح آپ کے موبائل یا کمپیوٹر میں محفوظ ہو جاتی ہے۔ علم و حکمت کے متلاشیوں کے لیے یہ سہولت کسی نعمت سے کم نہیں۔
آخر میں یہی کہوں گا کہ اسرارِ خودی اقبال کے فکر کا سرچشمہ ہے اور پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی شرح اس سرچشمے تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ یہ پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کیجیے، غور و تدبر کے ساتھ پڑھیے، اور خودی کے اس پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیے جو اقبال نے پوری امت کے لیے چھوڑا تھا۔

No comments:
Post a Comment