علامہ محمد اقبال کا نام آتے ہی ذہن میں اردو کے بلند پایہ اشعار گونجنے لگتے ہیں، مگر کم لوگ جانتے ہیں کہ اقبال کی اصل فکری دولت ان کی فارسی شاعری میں پوشیدہ ہے۔ "زبورِ عجم" انھی فارسی مجموعوں میں سے ایک نمایاں کتاب ہے جس میں خودی، عشق، مشرق و مغرب اور انسان کی تقدیر جیسے موضوعات ایک نئے اسلوب میں سامنے آتے ہیں۔ فارسی سے ناواقف عام قاری کے لیے اس مجموعے کا براہِ راست مطالعہ آسان نہیں، اور یہیں ایک مستند اور عام فہم شرح کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔
اردو میں اقبال کی شاعری کی شرحیں لکھنے والوں میں پروفیسر یوسف سلیم چشتی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ انھوں نے اپنی عمر کا بڑا حصہ اقبال شناسی کے لیے وقف کر رکھا ہے اور بانگِ درا، ضربِ کلیم، پیامِ مشرق اور ارمغانِ حجاز جیسے اہم مجموعوں کی شرحیں لکھ کر اردو قارئین پر بڑا احسان کیا ہے۔ "شرح زبورِ عجم" بھی اسی سلسلے کی ایک قابلِ قدر کڑی ہے۔ چشتی صاحب کی شرحوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ مشکل سے مشکل شعر کو بھی اس انداز سے کھول کر بیان کرتے ہیں کہ عام طالب علم بھی اسے باآسانی سمجھ لیتا ہے۔
اس شرح میں ہر شعر کے ساتھ اس کا سلیس اردو ترجمہ دیا گیا ہے، مشکل الفاظ کے معانی واضح کیے گئے ہیں اور جہاں ضرورت محسوس ہوئی وہاں شعر کے پس منظر اور اس میں پوشیدہ فکری نکات کی بھی وضاحت کر دی گئی ہے۔ اقبال کے ہاں ایک ایک لفظ کئی معنوں کا حامل ہوتا ہے اور چشتی صاحب نے بڑی محنت سے ان معنوی تہوں کو قاری کے سامنے رکھا ہے۔ فارسی محاوروں اور تراکیب کی تشریح بھی اس شرح کا نمایاں وصف ہے جس سے فارسی سے کم واقف قاری بھی پورے اعتماد سے اس کتاب کا مطالعہ کر سکتا ہے۔
"زبورِ عجم" کے عنوان ہی میں ایک گہرا مفہوم پوشیدہ ہے۔ زبور حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل ہونے والی آسمانی کتاب کا نام ہے اور عجم سے مراد غیرِ عرب اقوام ہیں، یوں یہ عنوان گویا اہلِ عجم کے لیے ایک نئی زبور یعنی نئے پیغام کی نوید دیتا ہے۔ اس مجموعے میں اقبال نے مشرق کی روحانی بیداری کا خواب دیکھا اور مغربی تہذیب کی محض مادیّت پر گہری تنقید کی ہے۔ خودی کا تصور، مردِ مومن کی تعمیر اور عشقِ حقیقی کی طلب اس کتاب کی فکری بنیادیں ہیں جنھیں چشتی صاحب کی شرح شعر بہ شعر واضح کرتی چلی جاتی ہے۔
چشتی صاحب کا اسلوبِ شرح بھی قابلِ دید ہے۔ وہ صرف لفظی ترجمے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ شعر میں موجود تلمیحات، تاریخی حوالوں اور صوفیانہ اصطلاحات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ کہیں کہیں وہ اقبال کے دیگر اشعار سے موازنہ کر کے مطلب کو مزید روشن کرتے ہیں اور یہی بات ان کی شرح کو محض ترجمے سے بڑھ کر ایک تحقیقی کام بنا دیتی ہے۔ جو قاری اقبال کو گہرائی سے سمجھنا چاہتا ہے اس کے لیے یہ شرح ایک بہترین رہنما ثابت ہوتی ہے۔
یہ کتاب کن لوگوں کے لیے مفید ہے؟ اس کا جواب بڑا وسیع ہے۔ ایم اے اردو اور فارسی کے طلبہ اس سے امتحانی تیاری میں بھرپور مدد لے سکتے ہیں، مقابلے کے امتحانات دینے والے امیدواروں سے اقبال کے فارسی کلام کے بارے میں اکثر سوالات پوچھے جاتے ہیں، جامعات و مدارس کے اساتذہ اسے تدریسی حوالے کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں، اور وہ عام قاری جو اقبال شناسی کا شوق رکھتا ہے اس کے لیے تو یہ شرح کسی نعمت سے کم نہیں۔ الغرض ہر وہ شخص جو اقبال کے فارسی کلام سے فیض یاب ہونا چاہتا ہے اس شرح سے ضرور استفادہ کرے۔
خوش قسمتی سے اب یہ قیمتی شرح پی ڈی ایف کی صورت میں بھی دستیاب ہے۔ ڈیجیٹل دور میں کتابوں کا یہی حسن ہے کہ آپ اپنی پسندیدہ کتاب اپنے موبائل یا کمپیوٹر میں محفوظ کر کے کہیں بھی اور کبھی بھی اس کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ طلبہ کے لیے تو یہ سہولت کسی نعمت سے کم نہیں کہ بھاری کتابیں اٹھائے بغیر پورا ذخیرہ ان کی جیب میں ہوتا ہے۔ اس صفحے پر دیے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن سے آپ "شرح زبورِ عجم" کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے مطالعے کا آغاز کر سکتے ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اقبال کو سمجھنا آج کے دور کی اہم ترین فکری ضرورتوں میں سے ایک ہے اور فارسی کلام ان کے فکر کا وہ دروازہ ہے جو ایک اچھی شرح کے بغیر کھلتا نہیں۔ پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی یہ شرح اس دروازے کی کنجی ہے۔ اگر آپ اقبال کے مداح ہیں یا ان کے فکر کو سمجھنے کا عزم رکھتے ہیں تو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کیجیے اور اس پی ڈی ایف کو اپنے دوستوں تک بھی پہنچائیے تاکہ یہ علمی خزانہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔

No comments:
Post a Comment