شرح بانگ درا پروفیسر یوسف سلیم چشتی

 

"بانگِ درا" کے معنی قافلے کی گھنٹی کے ہیں، وہ گھنٹی جو قافلے کی روانگی کا اعلان کرتی ہے۔ علامہ اقبال نے اپنے پہلے اردو شعری مجموعے کا یہی نام رکھا جو 1924 میں شائع ہوا۔ یہ کتاب ان کی شاعری کے ابتدائی دور سے لے کر فکری پختگی تک کا سفر اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ مجموعہ تین حصوں میں تقسیم ہے: پہلا حصہ 1905 سے پہلے کی شاعری، دوسرا 1905 سے 1908 تک یورپ کے قیام کے دوران کی نظمیں، اور تیسرا 1908 کے بعد کی تخلیقات پر مشتمل ہے۔ اردو داں طبقے کے لیے یہ کتاب اقبال سے روشناس ہونے کا پہلا دروازہ ہے۔

بانگِ درا کی شہرت کا ایک بڑا سبب اس میں شامل وہ لازوال نظمیں ہیں جو آج بھی ہر اردو داں کی زبان پر ہیں۔ "شکوہ" اور "جوابِ شکوہ" میں امت کی حالتِ زار پر فریاد اور پھر اس کا الہامی جواب، "خضرِ راہ" میں مسلمان کی تقدیر پر غور، "طلوعِ اسلام" میں ملت کی بیداری کی نوید، یہ نظمیں اردو شاعری کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان نظموں میں قومی درد، خودی کا پیغام اور عشقِ حقیقی کی طلب ایک ساتھ جلوہ گر ہیں۔

اس عظیم کتاب کو سمجھنے کے لیے پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی شرح ایک نعمت سے کم نہیں۔ چشتی صاحب نے اقبال کے اردو و فارسی دونوں طرح کے کلام کی شرحیں لکھی ہیں اور ان کا شمار اردو کے ممتاز اقبال شناسوں میں ہوتا ہے۔ "شرح بانگِ درا" میں انھوں نے ہر نظم کے پس منظر، اس کے فکری محرکات اور اشعار کے دقیق مطالب کو اس سادگی سے بیان کیا ہے کہ عام قاری بھی مستفید ہو سکتا ہے اور محقق بھی۔

شرح کی نمایاں خصوصیات میں مشکل الفاظ کے معانی، تراکیب کی وضاحت، تلمیحات و اشارات کی تشریح اور نظم کے مجموعی مفہوم کا بیان شامل ہے۔ اقبال کی شاعری میں تاریخی، قرآنی اور صوفیانہ حوالے جا بجا آتے ہیں اور چشتی صاحب نے ان سب کی نشاندہی بڑی دیانت سے کی ہے۔ بعض مقامات پر وہ مختلف شارحین کی آراء کا موازنہ بھی پیش کرتے ہیں جس سے قاری کو مطلب کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہی اسلوب ان کی شرح کو محض ترجمے سے ممتاز کرتا ہے۔

بانگِ درا اردو ادب کی وہ کتاب ہے جو ہر گھر میں ہونی چاہیے۔ یہ نصابوں میں شامل ہے، مقابلے کے امتحانات میں اس سے سوالات پوچھے جاتے ہیں اور اردو ادب کے ہر طالب علم کے لیے اس کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ شکوہ اور جوابِ شکوہ جیسی نظمیں تو ہماری تہذیبی شناخت کا حصہ بن چکی ہیں۔ ایسی کتاب کی شرح کا ہونا اس لیے بھی ضروری ہے کہ نئی نسل اقبال کے پیغام کو صحیح تناظر میں سمجھ سکے۔

یہ شرح کن کے لیے مفید ہے؟ اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ اس سے امتحانی تیاری کر سکتے ہیں، ایم اے اردو کے طلبہ کے لیے یہ ایک مستند حوالہ ہے، مقابلے کے امتحانات دینے والوں کے لیے ناگزیر ہے اور اساتذہ اسے تدریس میں بطور معاون کتاب استعمال کر سکتے ہیں۔ عام قاری جو اقبال سے محبت کرتا ہے وہ بھی اس شرح کی مدد سے بانگِ درا کی گہرائیوں سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔

اچھی خبر یہ ہے کہ یہ شرح اب پی ڈی ایف کی صورت میں دستیاب ہے۔ ڈیجیٹل دور میں اپنی پسندیدہ کتاب کا موبائل میں ہونا ایک بڑی سہولت ہے، آپ جہاں چاہیں، جب چاہیں مطالعہ کر سکتے ہیں۔ طلبہ کے لیے یہ سہولت خاصی اہم ہے کہ بھاری کتابیں اٹھائے بغیر ان کا پورا ذخیرہ ان کی جیب میں ہوتا ہے۔ اس صفحے پر دیے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن سے "شرح بانگِ درا" کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کیجیے اور اقبال کے اس لافانی کلام سے فیض یاب ہوئیے۔

آخر میں یہی عرض ہے کہ بانگِ درا اقبال کے فکر کا پہلا باقاعدہ دروازہ ہے اور پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی شرح اس دروازے کی کنجی۔ جو شخص اقبال کو سمجھنا چاہتا ہے اسے یہیں سے آغاز کرنا چاہیے۔ اس پی ڈی ایف کو ضرور ڈاؤن لوڈ کیجیے، اس کا مطالعہ کیجیے اور اپنے عزیزوں اور دوستوں تک بھی پہنچائیے تاکہ اقبال کا پیغام ہر گھر تک پہنچ سکے۔

Sharah Bang e Dara By Yousuf Saleem Chishti pdf free download


DOWNLOAD

No comments: