علامہ اقبال نے 1915 میں "اسرارِ خودی" لکھ کر فرد کی خودی کا فلسفہ پیش کیا تھا۔ اس کے تین برس بعد 1918 میں "رموزِ بیخودی" منظر عام پر آئی جو اسی فکر کا دوسرا اور تکمیلی باب ہے۔ اگر اسرارِ خودی میں فرد کی تعمیر کا راز ہے تو رموزِ بیخودی میں ملت کی تعمیر کا راز پوشیدہ ہے۔ اقبال کے نزدیک فرد کی خودی کی تکمیل ملت کی خودی میں ہے اور یہی اس کتاب کا مرکزی پیغام ہے۔ فارسی سے ناواقف قاری کے لیے اس گہرے فلسفیانہ کلام کو سمجھنا ایک مستند شرح کے بغیر دشوار ہے۔
"رموزِ بیخودی" میں اقبال نے اجتماعی زندگی کے اصول واضح کیے ہیں۔ فرد اور ملت کا رشتہ، اسلامی اخوت و مساوات، تقلیدِ جامد کی مذمت اور اجتہاد کی ضرورت، قومی زندگی میں عشق و محبت کا کردار، یہ وہ موضوعات ہیں جن پر اقبال نے اس مثنوی میں سیر حاصل بحث کی ہے۔ ان کے نزدیک ملتِ اسلامیہ ایک زندہ وحدت ہے جس کی بنیاد کلمۂ توحید پر ہے اور اس وحدت کو قائم رکھنے کے لیے ہر فرد کو اپنی خودی کو ملت کی خودی میں ڈھالنا ہوگا۔
اردو میں اقبال کی شرحوں کے حوالے سے پروفیسر یوسف سلیم چشتی کا نام ایک معتبر حوالے کی حیثیت رکھتا ہے۔ انھوں نے بانگِ درا، ضربِ کلیم، پیامِ مشرق، زبورِ عجم اور ارمغانِ حجاز جیسی اہم کتابوں کی شرحیں لکھ کر اقبال فہمی کو عام کیا۔ "شرح رموزِ بیخودی" بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ چشتی صاحب کی خاص بات یہ ہے کہ وہ فلسفیانہ اور صوفیانہ مضامین کو بھی عام فہم زبان میں اس طرح بیان کرتے ہیں کہ قاری کو کہیں الجھن محسوس نہیں ہوتی۔
اس شرح میں ہر شعر کا سلیس اردو ترجمہ دیا گیا ہے، مشکل الفاظ اور فارسی تراکیب کے معانی واضح کیے گئے ہیں اور اقبال کے فلسفیانہ اشاروں کی پوری وضاحت کی گئی ہے۔ جہاں کسی تاریخی واقعے، قرآنی آیت یا حدیث کی طرف اشارہ ہے وہاں اس کا حوالہ بھی دے دیا گیا ہے۔ رموزِ بیخودی جیسی فکری کتاب کے لیے یہی اسلوبِ شرح موزوں ہے کیونکہ یہاں صرف لفظی ترجمہ کافی نہیں ہوتا بلکہ مطلب کی تہ تک پہنچنا ضروری ہوتا ہے اور چشتی صاحب اس میں کامیاب نظر آتے ہیں۔
آج کے دور میں "رموزِ بیخودی" کا پیغام پہلے سے بھی زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ جب امتِ مسلمہ انتشار اور فرقہ واریت کا شکار ہے، اقبال کا یہ پیغام کہ ملت کی بقا اتحاد اور خودی میں ہے، ایک نئی روشنی دیتا ہے۔ فرد کی خودی اور ملت کی خودی کا یہ فلسفہ ہر اس شخص کے لیے مشعلِ راہ ہے جو قومی زندگی کی تعمیر میں دلچسپی رکھتا ہے۔ چشتی صاحب کی شرح اس فلسفے کو ہر اردو داں تک پہنچانے کا ذریعہ بنتی ہے۔
یہ کتاب کن کے لیے مفید ہے؟ ایم اے اردو و فارسی کے طلبہ کے لیے یہ نصابی اور امتحانی دونوں اعتبارات سے اہم ہے۔ مقابلے کے امتحانات میں اقبال کے فلسفۂ خودی پر سوالات اکثر پوچھے جاتے ہیں۔ اساتذہ اسے تدریس میں حوالے کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں اور وہ قارئین جو اسلامی فکر اور اقبال شناسی سے دلچسپی رکھتے ہیں ان کے لیے یہ شرح ایک قیمتی تحفہ ہے۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ یہ شرح اب پی ڈی ایف کی صورت میں بھی میسر ہے۔ ڈیجیٹل دور میں کتاب کا آپ کے موبائل میں ہونا ایک بڑی سہولت ہے، آپ سفر میں، گھر میں، جہاں چاہیں مطالعہ کر سکتے ہیں۔ طلبہ کے لیے تو یہ سہولت دہری خوشی ہے کہ بھاری کتاب اٹھائے بغیر پورا مواد ان کی دسترس میں ہوتا ہے۔ اس صفحے پر دیے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن سے "شرح رموزِ بیخودی" کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کیجیے اور اس فکری خزانے سے فیض اٹھائیے۔
خلاصہ یہ کہ "رموزِ بیخودی" اقبال کے فکر کا وہ باب ہے جو فرد سے ملت تک کا سفر طے کرتا ہے اور پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی شرح اس سفر میں آپ کی بہترین ہم سفر ثابت ہوتی ہے۔ اگر آپ اقبال کے فلسفۂ خودی کو واقعی سمجھنا چاہتے ہیں تو اس کتاب کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ اس پی ڈی ایف کو ضرور ڈاؤن لوڈ کیجیے اور اپنے دوستوں اور احباب تک بھی پہنچائیے تاکہ یہ علمی و فکری دولت عام ہو سکے۔

No comments:
Post a Comment