پیام مشرق مع شرح پروفیسر یوسف سلیم چشتی pdf free download

 

جرمن شاعر گوئٹے نے جب "دیوانِ مغربی" لکھ کر مشرق کی شاعری کو خراج پیش کیا تو علامہ اقبال نے اس کے جواب میں "پیامِ مشرق" تحریر کی، گویا مغرب کے پیغام کا جواب مشرق کی زبان میں دیا۔ یہ کتاب 1923 میں منظر عام پر آئی اور اقبال کے فارسی کلام کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ اس مجموعے میں اقبال نے مغربی تہذیب کا گہرا مطالعہ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ مشرق کی روحانی اور فکری برتری کا مقدمہ بھی لڑا ہے۔ فارسی سے ناآشنا قاری کے لیے اس کتاب کی گہرائیوں تک پہنچنا ایک اچھی شرح کے بغیر ممکن نہیں۔

"پیامِ مشرق" میں موضوعات کا ایک وسیع جہان آباد ہے۔ خودی کا فلسفہ، عشق کی حقیقت، مشرق و مغرب کی فکری کشمکش اور انسان کی تقدیر، یہ وہ بنیادی نغمے ہیں جو اس مجموعے کی ہر نظم میں گونجتے ہیں۔ اقبال نے یہاں مغرب کی مادی ترقی کو سراہنے کے ساتھ اس کی روحانی تہی دامنی پر بھی کڑی تنقید کی ہے اور اہلِ مشرق کو ان کی کھوئی ہوئی عظمت کی یاد دلائی ہے۔ یہ کتاب دراصل ایک فکری مکالمہ ہے جو دو تہذیبوں کے درمیان جاری ہے۔

اردو میں اقبال فہمی کی روایت کو پروفیسر یوسف سلیم چشتی نے جس انہماک سے آگے بڑھایا ہے اس کی مثال کم ملتی ہے۔ انھوں نے بانگِ درا، ضربِ کلیم، زبورِ عجم اور ارمغانِ حجاز سمیت اقبال کے بڑے مجموعوں کی شرحیں لکھیں اور ہر شرح میں یہی کوشش کی کہ مشکل سے مشکل شعر بھی عام قاری کی سمجھ میں آ جائے۔ "شرح پیامِ مشرق" بھی اسی محنت اور دیانت کا ثمر ہے۔ چشتی صاحب کی شرح پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی شفیق استاد آپ کے سامنے بیٹھا ایک ایک شعر کھول کر سمجھا رہا ہو۔

اس شرح کی نمایاں خوبی یہ ہے کہ اس میں ہر شعر کا سلیس اردو ترجمہ موجود ہے، مشکل الفاظ اور فارسی تراکیب کے معانی واضح کیے گئے ہیں اور جہاں کسی تاریخی واقعے یا تلمیح کا ذکر آیا ہے وہاں اس کی پوری وضاحت کر دی گئی ہے۔ اقبال کی فارسی میں صوفیانہ اصطلاحات اور فلسفیانہ اشارے جا بجا ملتے ہیں اور چشتی صاحب نے انھیں بڑی خوش اسلوبی سے عام فہم بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شرح صرف ترجمہ نہیں بلکہ ایک مکمل تحقیقی رہنمائی کی حیثیت رکھتی ہے۔

"پیامِ مشرق" کی ادبی ساخت بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ اس میں غزلیں بھی ہیں، رباعیاں بھی، قطعے بھی اور مثنوی کے انداز میں لکھی گئی طویل نظمیں بھی۔ ہر صنف میں اقبال کا اپنا رنگ جھلکتا ہے، کہیں عشق کی مستی ہے تو کہیں فکر کی گہرائی۔ چشتی صاحب نے ہر صنف کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے شرح کی ہے اور بعض مقامات پر اوزان و بحور کی طرف بھی اشارہ کیا ہے جو ادب کے طالب علموں کے لیے خاصا مفید ہے۔

یہ شرح کن لوگوں کے کام آ سکتی ہے؟ ایم اے اردو و فارسی کے طلبہ اس سے بھرپور استفادہ کر سکتے ہیں کیونکہ اقبال کا فارسی کلام نصاب اور امتحانات دونوں میں اہمیت رکھتا ہے۔ مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرنے والوں کے لیے بھی یہ کتاب ناگزیر ہے۔ اساتذہ اسے درس و تدریس میں حوالے کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں اور عام قاری جو اقبال کے فکر سے دلچسپی رکھتا ہے وہ بھی اس شرح کی مدد سے "پیامِ مشرق" کی سیر کر سکتا ہے۔

اچھی خبر یہ ہے کہ یہ قیمتی شرح اب پی ڈی ایف کی صورت میں دستیاب ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں کتاب کا موبائل میں موجود ہونا کسی نعمت سے کم نہیں، سفر میں ہوں یا گھر میں، آپ جب چاہیں مطالعہ کر سکتے ہیں۔ طلبہ کے لیے یہ سہولت اور بھی قیمتی ہے کہ وہ بھاری کتابیں اٹھائے بغیر اپنا پورا ذخیرہ ساتھ رکھ سکتے ہیں۔ اس صفحے پر موجود ڈاؤن لوڈ کے بٹن سے "شرح پیامِ مشرق" کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کیجیے اور اقبال کے اس عظیم پیغام سے فیض یاب ہوئیے۔

بات یہ ہے کہ "پیامِ مشرق" صرف ایک شعری مجموعہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی دستاویز ہے، اس میں ایک ایسے مفکر کی آواز ہے جو مشرق و مغرب دونوں کو سمجھتا تھا اور انسانیت کے مستقبل کے لیے فکرمند تھا۔ پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی شرح اس دستاویز کو ہر اردو داں کے لیے کھول دیتی ہے۔ اگر آپ اقبال کو واقعی سمجھنا چاہتے ہیں تو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کیجیے اور اس پی ڈی ایف کو اپنے احباب تک بھی پہنچائیے۔

Payam e Mushriq By Professor Yousuf Saleem Chishti pdf free download


DOWNLOAD

No comments: