Kalam e Johar By Moulana Muhammad Ali Johar pdf free download
کلام جوہر — ایک تعارف
مولانا محمد علی جوہر کا نام برصغیر کی تحریک آزادی کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا گیا ہے۔ انھیں "رئیس الاحرار" کہا جاتا ہے، یعنی آزاد لوگوں کا سردار۔ وہ ایک جانب تو تحریک خلافت اور تحریک آزادی کے عظیم رہنما تھے، دوسری جانب ایک قادر الکلام صحافی اور ایک پرجوش شاعر بھی تھے۔ ان کی شخصیت کے یہ تمام پہلو ان کے کلام میں جھلکتے ہیں۔
جوہر کی شاعری عام شاعری نہیں۔ اس میں ایک مجاہد کا جذبہ ہے، ایک داعی کی للکار ہے۔ ان کے اشعار پڑھ کر دل میں ایک عجیب سی حرکت پیدا ہوتی ہے۔ ان کا مشہور شعر "قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے، اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد" تو زبان زد عام ہے۔ یہ شعر ان کی فکری گہرائی اور تاریخی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
"کلام جوہر" ان کی شاعری کا مجموعہ ہے جس میں ان کی غزلیں، نظمیں اور دیگر اصناف سخن شامل ہیں۔ یہ مجموعہ ان قارئین کے لیے ایک تحفہ ہے جو جوہر کو صرف ایک سیاسی رہنما کے طور پر جانتے ہیں۔ اسے پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتنے بڑے شاعر بھی تھے۔ ان کی شاعری ان کی شخصیت کا ایک نیا رخ دکھاتی ہے۔
مولانا محمد علی جوہر 1878 میں رامپور میں پیدا ہوئے۔ علی گڑھ سے تعلیم حاصل کی اور پھر انگلستان سے بھی تعلیم حاصل کی۔ واپس آ کر انھوں نے صحافت کو اپنا میدان بنایا۔ "ہمدرد" اردو میں اور "کامریڈ" انگریزی میں ان کے مشہور اخبار تھے۔ ان اخبارات نے تحریک آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کی صحافت بھی ان کی شاعری کی طرح پرجوش تھی۔ وہ قلم کے دھنی تھے اور ان کی تحریروں میں ایک خاص قسم کی گرمی ہوتی تھی۔ انگریز حکومت ان سے خائف رہتی تھی اور انھیں کئی بار قید بھی کیا گیا۔ مگر قید ان کے حوصلے پست نہ کر سکی۔ جیل میں بھی وہ لکھتے رہے اور ان کا قلم رواں رہا۔
ان کی شاعری میں حریت کا جذبہ سب سے نمایاں ہے۔ وہ غلامی سے نفرت کرتے تھے اور آزادی کو سب سے بڑی نعمت سمجھتے تھے۔ ان کے اشعار میں یہی جذبہ جا بجا نظر آتا ہے۔ نوجوان نسل کے لیے ان کی شاعری ایک تحریک ہے، ایک پیغام ہے کہ ظلم کے آگے سر نہ جھکاؤ۔
دینی حمیت بھی ان کی شاعری کا ایک اہم موضوع ہے۔ تحریک خلافت کے رہنما کی حیثیت سے انھیں امت مسلمہ کے مسائل کا گہرا احساس تھا۔ ان کی شاعری میں مسلمانوں کی بیداری کا پیغام ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان اپنے ماضی کی عظمت کو یاد کریں اور مستقبل کی تعمیر کریں۔
ان کے کلام کی زبان میں ایک خاص قسم کی شان ہے۔ مشکل الفاظ بھی ان کے ہاں رواں لگتے ہیں۔ ان کی غزلوں میں عشق کے مضامین بھی ہیں، مگر وہ عشق بھی ایک مجاہد کا عشق ہے۔ ان کی نظموں میں قومی اور ملی موضوعات کو بڑی خوبصورتی سے باندھا گیا ہے۔
اردو ادب میں مولانا محمد علی جوہر کا مقام ایک منفرد مقام ہے۔ وہ شاعر بھی ہیں، صحافی بھی، خطیب بھی اور رہنما بھی۔ ایسی ہمہ جہت شخصیت کم ہی پیدا ہوتی ہے۔ ان کا کلام ان کی اسی ہمہ جہتی کا آئینہ دار ہے۔
آج کے دور میں جب نوجوان نسل اپنی تاریخ سے دور ہوتی جا رہی ہے، جوہر جیسے رہنماؤں کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔ ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ علم، جذبہ اور عمل جب ایک ساتھ ہوں تو تاریخ بدل جاتی ہے۔ ان کی شاعری اسی سبق کو شاعرانہ انداز میں دیتی ہے۔
مجھے ان کی شخصیت کی سب سے متاثر کن بات ان کی بے باکی لگتی ہے۔ وہ حق بات کہنے سے کبھی نہیں ڈرتے تھے، چاہے اس کی قیمت کچھ بھی ہو۔ ان کی شاعری میں بھی یہی بے باکی نظر آتی ہے۔ ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔
اگر آپ اردو شاعری کے شائق ہیں اور ایک مجاہد شاعر کا کلام پڑھنا چاہتے ہیں تو "کلام جوہر" ضرور پڑھیے۔ اس کتاب کی پی ڈی ایف مفت ڈاؤن لوڈ کیجیے اور رئیس الاحرار کے کلام سے لطف اندوز ہوئیے۔ نیچے دیے گئے ڈاؤن لوڈ بٹن پر کلک کر کے آپ "کلام جوہر" کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ مفت کر سکتے ہیں۔ پڑھیے اور اپنے دوستوں کے ساتھ بھی شیئر کیجیے۔

No comments:
Post a Comment