شرح ارمغان حجاز حصہ اردو پروفیسر یوسف سلیم چشتی

 

Sharah Armaghan e Hijaz Urdu By Yousuf Saleem Chishti pdf free download

علامہ اقبال کی ارمغانِ حجاز اردو ادب کی ان کتابوں میں سے ایک ہے جن کا نام سنتے ہی ایک خاص کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ یہ اقبال کے آخری دور کی تصنیف ہے، جس میں ان کی فکر اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔ لیکن سچ پوچھیے تو اس کتاب کو پڑھنا آسان کام نہیں — اقبال کی شاعری میں فلسفے، تصوف اور تاریخ کے ایسے گہرے موتی پنہاں ہیں جن تک ہر قاری کی رسائی ممکن نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی شرح ایک انمول رہنما بن کر سامنے آتی ہے۔

ارمغانِ حجاز دو حصوں پر مشتمل ہے — ایک حصہ فارسی زبان میں اور دوسرا اردو میں۔ اس کتاب میں اقبال نے حجاز کی مقدس سرزمین کی یادوں، عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور امتِ مسلمہ کے درد کو شعر کا روپ دیا ہے۔ اردو والا حصہ ان قارئین کے لیے ایک خاص تحفہ ہے جو فارسی سے واقف نہیں لیکن اقبال کی فکر سے فیض یاب ہونا چاہتے ہیں۔ اس حصے کی نظموں میں ایک عجیب سوز و گداز ہے جو پڑھنے والے کے دل کو چھو جاتا ہے۔

میں نے جب پہلی بار ارمغانِ حجاز کا اردو حصہ کھولا تو کئی اشعار ایسے تھے جن کا مفہوم مجھ پر واضح نہ ہو سکا۔ بظاہر سادہ الفاظ میں بھی اقبال نے ایسے معانی پوشیدہ کیے ہیں کہ بغیر کسی رہنما کے ان تک پہنچنا مشکل ہے۔ پھر مجھے پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی شرح ملی اور یوں لگا جیسے کسی نے اندھیرے میں چراغ جلا دیا ہو۔ انہوں نے ہر شعر کو کھول کر بیان کیا ہے — مشکل الفاظ کے معنی، شعر کا مفہوم، اور پھر اس میں پنہاں فکری نکتے کی وضاحت۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی کا نام اقبال شناسی میں ایک معتبر حوالے کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اقبال کی فارسی کتب کی شروحات لکھ کر اردو قارئین پر بڑا احسان کیا ہے۔ ان کی شرح کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ صرف لفظی ترجمہ نہیں کرتے بلکہ شعر کے پس منظر، تاریخی حوالوں اور فلسفیانہ مباحث کو بھی عام فہم زبان میں سمجھا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹیوں کے طلبہ اور مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرنے والے امیدوار ان کی شروحات کو بنیادی ماخذ سمجھتے ہیں۔

جو احباب ارمغانِ حجاز کے فارسی حصے کا بھی مطالعہ کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ اس حصے کی شرح بھی اسی مصنف کی قلم سے موجود ہے — شرح ارمغانِ حجاز حصہ فارسی پروفیسر یوسف سلیم چشتی۔ دونوں حصوں کو ملا کر پڑھنے سے اقبال کے اس آخری پیغام کی مکمل تصویر سامنے آتی ہے۔ فارسی حصے میں اقبال کے روحانی تجربات ہیں جبکہ اردو حصہ ان جذبات کا ترجمان ہے جو ہر اردو داں کے دل میں گھر کرتے ہیں۔

اقبال کے فکر کو اس کی وسعت میں سمجھنے کے لیے ان کی کلیات کا مطالعہ بھی ناگزیر ہے۔ کلیاتِ اقبال مع شرح میں آپ کو اقبال کی اردو اور فارسی شاعری ایک جگہ مل جاتی ہے، اور جو قارئین اردو مطالب و معانی کے ساتھ پڑھنا چاہیں ان کے لیے کلیاتِ اقبال اردو مطالب و معانی معہ فرہنگ بھی ایک قیمتی ماخذ ہے۔ ارمغانِ حجاز کی یہ شرح ان کتب کے ساتھ آپ کے مطالعۂ اقبال کو مکمل کر دیتی ہے۔

میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ شرح کے ساتھ ارمغانِ حجاز پڑھنا ایک روحانی تجربہ ہے۔ وہ اشعار جو پہلے محض الفاظ کا مجموعہ لگتے تھے، شرح کی روشنی میں معنی کے خزانے بن جاتے ہیں۔ اقبال کا عشقِ رسول، ان کا دردِ امت اور ان کی فکری بلندی — یہ سب اس شرح کے ذریعے قاری کے دل میں اتر جاتے ہیں۔ کئی بار ایک شعر کی شرح پڑھ کر میں دیر تک سوچتا رہ گیا کہ اقبال نے امت کے زخموں کو کس قدر گہرائی سے محسوس کیا تھا۔

یہ کتاب خاص طور پر ان احباب کے لیے ناگزیر ہے جو اقبال کو گہرائی سے سمجھنا چاہتے ہیں۔ ایم اے اردو کے طلبہ، لیکچرر اور سی ایس ایس کے امیدوار، اور فلسفۂ اقبال کے شائقین — سب کے لیے یہ شرح ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ فارسی سے ناواقف قاری بھی اس شرح کی مدد سے ارمغانِ حجاز کے فیوض سے مستفید ہو سکتا ہے، اور یہی اس کی سب سے بڑی خدمت ہے۔

خوش قسمتی سے یہ شرح اب پی ڈی ایف کی صورت میں دستیاب ہے اور آپ اسے فری ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ پہلے ایسی علمی کتابوں تک رسائی مشکل تھی، لیکن اب ایک کلک پر یہ خزانہ آپ کے موبائل یا کمپیوٹر میں محفوظ ہو جاتا ہے۔ علم کے متلاشیوں کے لیے یہ سہولت کسی نعمت سے کم نہیں۔ یہ پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کیجیے، غور و فکر کے ساتھ پڑھیے، اور اقبال کے اس آخری پیغام کو اپنے دل میں اتاریے جو آج بھی اتنا ہی زندہ ہے جتنا کل تھا۔


DOWNLOAD

No comments: