علامہ اقبال کی وفات 21 اپریل 1938 کو ہوئی اور اسی برس ان کا آخری شعری مجموعہ "ارمغانِ حجاز" شائع ہوا۔ "ارمغان" کے معنی ہیں تحفہ یا سوغات، اور حجاز سے مراد وہ مقدس سرزمین ہے جہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ واقع ہیں۔ یوں یہ کتاب گویا حجاز کی مقدس سرزمین کا تحفہ ہے جو اقبال نے امتِ مسلمہ کے نام کیا۔ یہ مجموعہ دو حصوں میں تقسیم ہے: حصہ اردو اور حصہ فارسی۔
اس صفحے پر جس شرح کا پی ڈی ایف پیش کیا جا رہا ہے وہ "ارمغانِ حجاز" کے فارسی حصے کی شرح ہے۔ فارسی حصے میں اقبال نے حجاز کے سفر کی روحانی یادوں، عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تڑپ اور اپنی فکری زندگی کے نچوڑ کو مثنوی اور غزل کے قالب میں ڈھالا ہے۔ یہ وہ کلام ہے جس میں اقبال کا فکر اپنے عروج پر نظر آتا ہے، خودی کا فلسفہ یہاں عشقِ حقیقی میں ڈھل کر ایک نئی بلندی حاصل کرتا ہے۔
فارسی کلام کی گہرائیوں تک پہنچنا عام قاری کے لیے آسان نہیں، اسی لیے پروفیسر یوسف سلیم چشتی جیسے مستند شارح کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ چشتی صاحب نے اقبال کے اردو و فارسی دونوں طرح کے مجموعوں کی شرحیں لکھ کر اردو قارئین پر بڑا احسان کیا ہے۔ "شرح ارمغانِ حجاز (حصہ فارسی)" میں انھوں نے ہر شعر کا سلیس اردو ترجمہ اور مطلب اس انداز سے بیان کیا ہے کہ فارسی سے ناواقف قاری بھی اس سے پوری طرح مستفید ہو سکتا ہے۔
اس شرح کی نمایاں خصوصیات میں مشکل الفاظ کے معانی، فارسی تراکیب کی وضاحت، تلمیحات و اشارات کی تشریح اور اشعار کے پس منظر کا بیان شامل ہے۔ ارمغانِ حجاز کے فارسی حصے میں صوفیانہ اصطلاحات اور فلسفیانہ اشارے جا بجا ملتے ہیں اور چشتی صاحب نے انھیں بڑی خوش اسلوبی سے عام فہم بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شرح محض ترجمے سے بڑھ کر ایک تحقیقی و تنقیدی رہنمائی کی حیثیت رکھتی ہے۔
ارمغانِ حجاز کو اقبال کے فکر کا خلاصہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ یہ ان کی زندگی کا آخری پیغام ہے، گویا ایک وصیت جو وہ آنے والی نسلوں کے نام چھوڑ گئے۔ اس کتاب میں ان کے تمام بنیادی افکار، خودی، عشق، ملت کی وحدت اور مشرق کی بیداری، اپنے آخری اور پختہ ترین روپ میں سامنے آتے ہیں۔ ایسی کتاب کی مستند شرح کا ہونا ہر اقبال شناس کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔
یہ شرح کن کے لیے مفید ہے؟ ایم اے اردو و فارسی کے طلبہ اس سے امتحانی تیاری میں بھرپور مدد لے سکتے ہیں، مقابلے کے امتحانات دینے والوں کے لیے اقبال کا یہ آخری مجموعہ خاص اہمیت رکھتا ہے، اساتذہ اسے تدریس میں حوالے کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں اور عام قاری جو اقبال کے فکر سے محبت کرتا ہے وہ بھی اس شرح کی مدد سے ارمغانِ حجاز کے فارسی حصے کی سیر کر سکتا ہے۔
اچھی خبر یہ ہے کہ یہ قیمتی شرح اب پی ڈی ایف کی صورت میں دستیاب ہے۔ ڈیجیٹل دور میں کتاب کا آپ کے موبائل میں ہونا ایک بڑی سہولت ہے، آپ سفر میں ہوں یا گھر میں، جب چاہیں مطالعہ کر سکتے ہیں۔ طلبہ کے لیے یہ سہولت خاصی قیمتی ہے کہ بھاری کتابیں اٹھائے بغیر ان کا پورا ذخیرہ ان کی دسترس میں ہوتا ہے۔ اس صفحے پر دیے گئے ڈاؤن لوڈ کے بٹن سے "شرح ارمغانِ حجاز (حصہ فارسی)" کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کیجیے اور اس روحانی و فکری خزانے سے فیض اٹھائیے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ارمغانِ حجاز اقبال کا امت کے نام آخری تحفہ ہے اور پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی شرح اس تحفے کو کھولنے کی کنجی۔ اگر آپ اقبال کو ان کے آخری پیغام کی روشنی میں سمجھنا چاہتے ہیں تو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کیجیے۔ اس پی ڈی ایف کو ڈاؤن لوڈ کیجیے اور اپنے عزیزوں اور دوستوں تک بھی پہنچائیے تاکہ یہ علمی و روحانی دولت عام ہو سکے۔

No comments:
Post a Comment