کلیاتِ غزلیات خسرو

 

Kulyat Ghazliat Khusru pdf free download

امیر خسرو کا نام سنتے ہی میرے ذہن میں ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت ابھرتی ہے جو بیک وقت شاعر بھی تھی، موسیقار بھی، عالم بھی اور صوفی بھی۔ سات سو برس گزر جانے کے باوجود ان کا کلام آج بھی اتنا تازہ اور زندہ ہے کہ پڑھنے والا حیران رہ جاتا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں نے پہلی بار ان کی غزلیں پڑھیں تو یہ سوچ کر حیرت ہوئی کہ تیرہویں صدی کا ایک شاعر اکیسویں صدی کے قاری کے دل کے اتنا قریب کیسے محسوس ہو سکتا ہے۔ "طوطیِ ہند" کا خطاب انہیں یوں ہی نہیں ملا تھا — ان کی زبان میں واقعی ایک ایسی مٹھاس اور روانی ہے جو صدیوں پر محیط ہو کر بھی ماند نہیں پڑی۔

خسرو کی سب سے بڑی خوبی ان کی ہمہ جہتی تھی۔ وہ فارسی کے عظیم ترین شاعروں میں شمار ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ہندوی یعنی ابتدائی اردو میں بھی شاعری کرتے تھے۔ "چھاپ تلک سب چھینی رے موسے نیناں ملائے کے" پڑھیے تو ایسا لگتا ہے جیسے محبت کی کیفیتوں کو کسی نے لفظوں میں قید کر دیا ہو۔ اسی طرح "سکل بن پھول رہی سرسوں، امبوا پھولے، ٹیسو پھولے" میں بہار کی آمد کا جو دلکش منظر کھینچا گیا ہے، وہ اردو شاعری کی نایاب ترین تصویروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہی اشعار آج بھی قوالیوں اور محفلوں میں گونجتے ہیں اور سننے والوں کو وجد میں لے آتے ہیں۔

کلیاتِ غزلیات خسرو دراصل ان کے غزلیہ کلام کا مجموعہ ہے۔ ان کی غزلوں میں عشقِ مجازی اور عشقِ حقیقی کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ وہ حضرت نظام الدین اولیاء کے مریدِ خاص تھے، اسی لیے ان کی شاعری میں تصوف کی خوشبو رچی بسی ہوئی ہے۔ فارسی غزل کی کلاسیکی روایت کو انہوں نے ہندوستانی مزاج سے جوڑ کر ایک نئی راہ نکالی، اور یہی ان کی سب سے بڑی انفرادیت ہے۔ ان کے اشعار میں تشبیہیں، استعارے اور تلمیحات اس خوبصورتی سے برتے گئے ہیں کہ قاری ایک ہی شعر کو بار بار پڑھنے اور اس میں نئے معنی تلاش کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

اس کلیات کی اہمیت صرف ادبی نہیں بلکہ تاریخی بھی ہے۔ خسرو نے اردو زبان کے بالکل ابتدائی دور میں اسے شاعری کی زبان بنایا اور اسے درباروں سے نکال کر عوام تک پہنچایا۔ آج جب ہم اردو غزل کی تاریخ لکھتے ہیں تو اس کا پہلا باب خسرو ہی سے شروع ہوتا ہے۔ میر، غالب اور اقبال تک کا طویل سفر دراصل اسی مضبوط بنیاد پر کھڑا ہے جو خسرو نے رکھی تھی۔ اس لحاظ سے یہ کتاب ہر اس شخص کے لیے ناگزیر ہے جو اردو ادب کو اس کی جڑوں سے سمجھنا چاہتا ہے۔

میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ خسرو کو پڑھنا ایک روحانی تجربہ ہے۔ ان کے اشعار میں ایک عجیب سی بے قراری ہے — کبھی محبوب کی جدائی کا درد، کبھی مرشد سے والہانہ عقیدت، اور کبھی زندگی کی ناپائیداری پر گہرا غور و فکر۔ ان کی مشہور پہیلیاں اور مکریاں بھی اسی ذہانت کی مظہر ہیں جس سے وہ مشکل سے مشکل بات کو کھیل کھیل میں کہہ جاتے تھے۔ جو احباب اردو شاعری سے نئے نئے آشنا ہو رہے ہیں، ان کے لیے خسرو سے بہتر آغاز شاید ہی کوئی ہو، کیونکہ یہاں زبان بھی آسان ہے اور جذبات بھی براہِ راست دل کو چھوتے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ کلیاتِ خسرو کی متعدد جلدیں مرتب کی گئی ہیں اور یہ جلد خاص طور پر ان کے غزلیہ کلام پر مشتمل ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ پی ڈی ایف کی صورت میں یہ قیمتی کتاب اب ہر قاری کی دسترس میں ہے۔ آپ اسے فری ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے موبائل یا کمپیوٹر پر محفوظ کر سکتے ہیں اور فرصت کے لمحوں میں اس علمی و ادبی خزانے سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر اردو ادب کے طلبہ، مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرنے والے امیدواروں اور شاعری سے سچی محبت رکھنے والوں کے لیے یہ ایک نادر تحفہ ہے۔

آخر میں بس اتنا کہوں گا کہ کتابیں انسان کی بہترین دوست ہوتی ہیں، اور خسرو جیسے شاعر کی صحبت تو کسی نعمت سے کم نہیں۔ یہ پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کیجیے، غور سے پڑھیے، اور ان اشعار کی لذت سے آشنا ہوئیے جو سات سو سال سے دلوں کو گرما رہے ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ایک بار اس کلیات کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ بار بار اس کی طرف لوٹیں گے اور ہر بار کوئی نیا موتی ہاتھ آئے گا۔


DOWNLOAD

No comments: