زٹل نامہ کلیاتِ جعفر زٹلی

Zattal Nama Kulyat e Jaffir Zattli By Rasheed Hassan Khan pdf free download

اردو ادب میں طنز و مزاح کی روایت بہت قدیم ہے اور اس روایت کا سب سے تابندہ نام جعفر زٹلی کا ہے۔ جعفر زٹلی مغل عہد کی دہلی کے وہ منفرد شاعر ہیں جنھوں نے اپنی تیز زبان اور بے باک لہجے سے امراء سے لے کر عام آدمی تک سب کو ہنسایا بھی اور سوچنے پر مجبور بھی کیا۔ ان کا اصل نام محمد جعفر تھا اور زٹلی ان کا تخلص تھا جو ان کی شریر اور طنزیہ طبیعت کی عکاسی کرتا ہے۔ روایت ہے کہ وہ اورنگ زیب عالمگیر کے زمانے میں دہلی میں مقیم تھے اور ان کی حاضر جوابی سے بڑے بڑے درباری بھی گھبراتے تھے۔

زٹل نامہ جعفر زٹلی کی سب سے مشہور تصنیف ہے۔ یہ ان کی طنزیہ اور مزاحیہ نظموں کا وہ مجموعہ ہے جس میں انھوں نے اپنے عہد کے معاشرتی بگاڑ، درباری چال بازیوں، مذہبی منافقت اور انسانی کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے۔ زٹل نامہ کی نظمیں صرف ہنسانے کے لیے نہیں لکھی گئیں بلکہ ان کے پیچھے ایک گہرا سماجی شعور کام کر رہا ہے۔ جعفر زٹلی ہنسی ہنسی میں وہ بات کہہ جاتے ہیں جو کوئی سنجیدہ واعظ برسوں کی نصیحت میں نہیں کہہ پاتا، اور یہی ان کے کلام کی سب سے بڑی خوبی ہے۔

کلیاتِ جعفر زٹلی میں زٹل نامہ کے علاوہ ان کا دیگر کلام بھی یکجا کر دیا گیا ہے۔ اس کلیات کی ترتیب و تدوین کا سہرا ڈاکٹر رشید حسن خان کے سر ہے جنھوں نے بڑی عرق ریزی سے جعفر زٹلی کے منتشر کلام کو جمع کیا، اس کی تحقیق و تدوین کی اور قارئین کے لیے ایک مستند متن فراہم کیا۔ کسی بھی قدیم شاعر کے کلام کو مستند صورت میں پیش کرنا آسان کام نہیں ہوتا کیونکہ قلمی نسخوں میں اختلاف پایا جاتا ہے اور بسا اوقات کلام غلط طور پر بھی منسوب کر دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر رشید حسن خان نے یہ دشوار کام نہایت دیانت داری سے سر انجام دیا ہے، اسی لیے یہ کلیات محققین اور عام قارئین دونوں کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔

جعفر زٹلی کی شاعری کی زبان عام فہم اور روزمرہ کی زبان ہے۔ وہ ثقیل الفاظ اور بھاری بھرکم ترکیبوں کے بجائے سیدھی سادی مگر دل میں اتر جانے والی بات کہتے ہیں۔ ان کے ہاں طنز محض تفریح کا سامان نہیں بلکہ اصلاح کا ذریعہ ہے۔ جب وہ کسی بخیل کا نقشہ کھینچتے ہیں یا کسی ریاکار کی خبر لیتے ہیں تو قاری ہنستا بھی ہے اور اپنے گریبان میں بھی جھانکتا ہے۔ طنز کا اصل کمال یہی ہے کہ وہ آئینہ دکھائے اور آئینہ دیکھنے والا برا بھی نہ مانے۔

آج کے دور میں جب ہر سو بے چینی اور کشیدگی کا ماحول ہے، جعفر زٹلی کا کلام پڑھنا تازہ ہوا کے جھونکے جیسا محسوس ہوتا ہے۔ ان کی نظمیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہنسنا بھی ایک سنجیدہ عمل ہے اور جو معاشرہ ہنسنا بھول جائے وہ سوچنا بھی بھول جاتا ہے۔ اردو طنزیہ و مزاحیہ شاعری کے طالب علموں کے لیے تو یہ کتاب لازمی مطالعہ ہے ہی، عام قاری بھی اسے پڑھ کر محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

اس کتاب کی ایک نمایاں خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں جعفر زٹلی کے عہد کی معاشرتی زندگی کی جھلک ملتی ہے۔ ان کی نظموں میں دہلی کے بازار، دربار کے آداب اور اس زمانے کے رسم و رواج طنزیہ انداز میں محفوظ ہو گئے ہیں۔ یوں یہ کلیات محض شاعری کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک تاریخی دستاویز بھی ہے جو ہمیں تین صدی پرانی دہلی کی سیر کراتی ہے۔

اگر آپ اردو ادب سے محبت کرتے ہیں، طنز و مزاح کے دلدادہ ہیں یا کلاسیکی شاعری کے مطالعے کا ذوق رکھتے ہیں تو کلیاتِ جعفر زٹلی آپ کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے۔ اس کتاب کی پی ڈی ایف مفت ڈاؤن لوڈ کیجیے اور جعفر زٹلی کے بے مثال طنز سے لطف اندوز ہوئیے۔ نیچے دیے گئے ڈاؤن لوڈ بٹن پر کلک کر کے آپ زٹل نامہ کلیاتِ جعفر زٹلی کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ مفت کر سکتے ہیں۔ پڑھیے، مسکرائیے اور اسے اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کیجیے تاکہ اردو کے اس عظیم مزاح گو شاعر کا کلام زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچ سکے۔

>

DOWNLOAD

OR

READ ONLINE

No comments: