دیوان درد خواجہ میر درد دہلوی

 

Dewan e Dard ,Mir Dard Dehlvi Pdf Free Download


دیوانِ درد — ایک تعارف

اردو شاعری میں کچھ نام ایسے ہیں جنہیں پڑھ کر انسان کا دل دہل جاتا ہے — خواجہ میر درد انہی میں سے ایک ہیں۔ ان کا "دیوانِ درد" اردو غزل کی وہ کتاب ہے جس میں عشقِ حقیقی، تصوف اور انسانی درد کی ایسی ترجمانی ملتی ہے کہ قاری ہر شعر پر رک کر سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ محض اشعار کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک صوفی بزرگ کی روحانی واردات کا آئینہ ہے۔

خواجہ میر درد دہلوی اٹھارویں صدی کے دہلی کے ایک نامور صوفی شاعر تھے۔ وہ میر تقی میر کے ہم عصر تھے، مگر ان کی شاعری کا رنگ میر سے بالکل مختلف ہے۔ درد صاحب کا تعلق ایک صوفی سلسلے سے تھا اور انہوں نے اپنی زندگی زہد و تقویٰ، عبادت اور خلقِ خدا کی خدمت میں گزاری۔ ان کی شخصیت میں شاعر اور صوفی اس طرح گھل مل گئے تھے کہ ان کے ہر شعر سے عرفان کی خوشبو آتی ہے۔

"دیوانِ درد" میں ان کی اردو غزلیں شامل ہیں۔ یہ دیوان حجم کے اعتبار سے بہت بڑا نہیں، مگر معنویت کے اعتبار سے اردو شاعری کے چند عظیم سرمایوں میں شمار ہوتا ہے۔ ان کا فارسی میں بھی دیوان ہے، لیکن اردو دیوان کی بات ہی کچھ اور ہے — اس میں وہ گہرے فلسفیانہ اور صوفیانہ مضامین کو اتنی سادہ اور دلنشین زبان میں بیان کرتے ہیں کہ عام قاری بھی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔

ان کا وہ مشہور شعر تو ہر اردو دان کی زبان پر ہے: "درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو / ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کر و بیاں"۔ اس ایک شعر میں انسان کی تخلیق کا پورا فلسفہ سما گیا ہے — کہ انسان کو فرشتوں سے ممتاز کرنے والی چیز اس کا دردِ دل ہے، اس کی عاجزی ہے، اس کی بندگی میں چھپی ہوئی محبت ہے۔ ایسے اشعار پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ شاعر نے زندگی کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔

دیوانِ درد کے مضامین میں وحدت الوجود، فقر و استغنا، دنیا کی بے ثباتی اور عشقِ الٰہی نمایاں ہیں۔ درد صاحب دنیاوی حرص و ہوس سے بے نیاز ہو کر قاری کو باطن کی دنیا کی سیر کراتے ہیں۔ ان کے ہاں غم بھی ہے مگر وہ غم مایوسی کا نہیں بلکہ ایک روحانی کیفیت کا نام ہے — وہ غم جو انسان کو اس کے خالق سے جوڑ دیتا ہے۔

زبان و بیان کے لحاظ سے درد کی شاعری سادگی اور گہرائی کا حسین امتزاج ہے۔ ان کے مصرعے رواں ہیں، الفاظ منتخب اور ترکیبیں پُراثر۔ فارسی آمیزش ان کے علمی مرتبے کی گواہ ہے، مگر یہ کبھی بوجھ نہیں بنتی۔ ان کا اسلوب ایسا ہے کہ شعر پہلی نظر میں سادہ لگتا ہے، مگر ذرا ٹھہر کر سوچیے تو اس میں معنوں کے کئی جہان آباد نظر آتے ہیں۔

اردو غزل کے اسی دور کے ایک اور بڑے نام امام بخش ناسخ ہیں جن کا دیوانِ ناسخ بھی غزل گوئی کی روایت کا ایک اہم ستون ہے۔ ناسخ اور درد دونوں نے اپنے اپنے رنگ میں غزل کو نئی بلندی دی — ایک نے لفظیات کی نفاست سے اور دوسرے نے معنویت کی گہرائی سے۔ دونوں دیوانوں کا مطالعہ اردو غزل کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ناگزیر ہے۔

درد صاحب میر تقی میر کے ہم عصر تھے اور دونوں کی دوستی بھی مشہور ہے۔ میر کی فارسی شاعری سے دلچسپی رکھنے والے قارئین دیوانِ میر فارسی مع اردو ترجمہ ضرور دیکھیں۔ اس ترجمے کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دور کے شعرا فارسی اور اردو دونوں زبانوں میں کس مہارت سے طبع آزمائی کرتے تھے۔

تصوف اور فلسفے کی یہی روایت بعد میں علامہ اقبال کے ہاں ایک نئے انداز میں جلوہ گر ہوئی۔ اگر آپ درد کے صوفیانہ افکار کو جدید دور کے تناظر میں سمجھنا چاہتے ہیں تو کلیاتِ اقبال اردو مطالب و معانی معہ فرہنگ آپ کے لیے بہترین رہنما ہے۔ اقبال کے کلام میں بھی وہی خودی اور باطن کی تلاش ہے جس کی بنیاد درد جیسے صوفی شعرا نے رکھی تھی۔

یہ کتاب ان تمام قارئین کے لیے ہے جو شاعری میں صرف لفظوں کی آرائش نہیں بلکہ روح کی غذا تلاش کرتے ہیں۔ اردو ادب کے طلبہ اور محققین کے لیے دیوانِ درد اس لیے بھی اہم ہے کہ اس میں اٹھارویں صدی کی دہلی کی ادبی اور روحانی فضا محفوظ ہے۔ مشاعروں اور ادبی مجلسوں میں درد کے اشعار آج بھی بڑے احترام سے پڑھے جاتے ہیں۔

فائل اردو پر "دیوانِ درد خواجہ میر درد دہلوی" کی پی ڈی ایف آپ مفت ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ نیچے دیے گئے ڈاؤن لوڈ بٹن سے یہ عظیم سرمایہ حاصل کیجیے اور اپنی لائبریری کو اس روحانی خزانے سے مالا مال کیجیے۔

DOWNLOAD


OR


READ ONLINE

No comments: