Urdu Ki Akhri Kitaab By Ibn e Insha Pdf free download
اردو کی آخری کتاب — ایک تعارف
ابنِ انشا کا نام سنتے ہی اردو دانوں کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ وہ اردو کے وہ چند خوش نصیب ادیبوں میں سے ہیں جنہیں پڑھ کر انسان ہنستے ہنستے سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ان کی مشہور کتاب "اردو کی آخری کتاب" انشائیوں کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو طنز و مزاح کے ساتھ ساتھ اردو ادب کی تاریخ پر ایک انوکھی اور دلچسپ نظر بھی پیش کرتا ہے۔
ابنِ انشا کا اصل نام شیر محمد خان تھا۔ وہ 1927ء میں جالندھر میں پیدا ہوئے اور 1978ء میں لندن میں وفات پائی۔ وہ بیک وقت شاعر، مزاح نگار، سفرنامہ نگار اور صحافی تھے۔ ان کے سفرنامے "چلتے ہو تو چین کو چلیے" اور "ابنِ بطوطہ کے تعاقب میں" اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں، اور ان کی ہلکی پھلکی نظمیں آج بھی زبان زدِ عام ہیں۔ مگر ان کی اصل شہرت ان کے انشائیوں کی وجہ سے ہے۔
"اردو کی آخری کتاب" دراصل اردو ادب کی ایک طنزیہ تاریخ ہے۔ ابنِ انشا نے اس میں ادبی تحریکوں، مشہور ادیبوں اور ادبی رسموں کو اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں پیش کیا ہے۔ کتاب کا عنوان ہی اتنا دلچسپ ہے کہ قاری فوراً متوجہ ہو جاتا ہے — گویا اردو کی یہ "آخری" کتاب ہے جس کے بعد کچھ کہنے کو باقی نہ رہے گا۔ مگر پڑھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو اردو سے محبت کا ایک انوکھا اظہار ہے۔
ابنِ انشا کے اسلوب کی سب سے بڑی خوبی اس کی بے تکلفی ہے۔ وہ قاری سے ایسے بات کرتے ہیں جیسے کوئی پرانا دوست گپ شپ لگا رہا ہو۔ لفظوں کا کھیل، جملوں کی چستی اور موقع محل کی مناسبت سے چٹکلے — یہ سب مل کر ان کی تحریر کو زندہ و جاوید بنا دیتے ہیں۔ ان کا طنز کبھی تلخ نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ ایک نرم مسکراہٹ کے ساتھ دل میں اترتا ہے۔
انشائیہ اردو نثر کی وہ صنف ہے جس میں مصنف کسی موضوع پر آزادانہ اور بے تکلفانہ انداز میں اظہارِ خیال کرتا ہے۔ اس میں مضمون کی سنجیدگی بھی ہوتی ہے اور بات چیت کی روانی بھی۔ ابنِ انشا کو اردو کے بہترین انشائیہ نگاروں میں شمار کیا جاتا ہے، اور "اردو کی آخری کتاب" اس صنف کی ایک روشن مثال ہے۔
اردو ادب میں طنز و مزاح کی روایت بہت پرانی ہے۔ پطرس بخاری، رشید احمد صدیقی، کنہیا لال کپور اور مشتاق احمد یوسفی جیسے نام اس روایت کے روشن ستارے ہیں۔ ابنِ انشا اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہیں جنہوں نے مزاح کو محض ہنسانے کا ذریعہ نہیں بلکہ سوچنے پر آمادہ کرنے والا ہتھیار بنایا۔ ان کے ہاں ہنسی کے پیچھے اکثر ایک گہرا سماجی اور ادبی نکتہ چھپا ہوتا ہے۔
انشائیے کی صنف کو گہرائی سے سمجھنے کے خواہش مند قارئین انشائیہ کی بنیاد ضرور دیکھیں۔ ڈاکٹر سلیم اختر کی یہ کتاب انشائیے کے فن اور اس کی تاریخ پر روشنی ڈالتی ہے، اور اس کے مطالعے سے ابنِ انشا کے انشائیوں کی قدر و قیمت اور بڑھ جاتی ہے۔
اسی طرح اردو میں طنز و مزاح کی پوری روایت سے واقفیت کے لیے اردو ادب میں طنز و مزاح کی روایت اور ہم عصر رجحانات ایک بہترین انتخاب ہے۔ اس کتاب میں آپ کو معلوم ہوگا کہ ابنِ انشا کا مزاح کن ادبی روایتوں سے جڑا ہے اور ان کے ہم عصر مزاح نگاروں نے اس صنف کو کیا کچھ دیا۔
اور اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اردو کی مزاح نگاری کن سیاسی و سماجی حالات میں پروان چڑھی تو اردو نثر میں مزاح نگاری کا سیاسی و سماجی پس منظر آپ کے لیے ہے۔ ڈاکٹر رؤف پاریکھ کی یہ تحقیق بتاتی ہے کہ مزاح محض تفریح نہیں بلکہ اپنے عہد کی نبض پر ہاتھ رکھنے والا ایک سنجیدہ ادبی عمل ہے۔
یہ کتاب ہر عمر اور ہر ذوق کے قارئین کے لیے ہے۔ طلبہ اور اساتذہ اس سے اردو نثر کے اسلوب سیکھ سکتے ہیں، اور عام قاری اسے محض لطف اندوزی کے لیے پڑھ سکتا ہے۔ جو لوگ ادب کو خشک اور بوجھل سمجھتے ہیں، انہیں تو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے — یہ ان کی یہ غلط فہمی ہمیشہ کے لیے دور کر دے گی۔
فائل اردو پر "اردو کی آخری کتاب ابنِ انشا" کی پی ڈی ایف آپ مفت ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ نیچے دیے گئے ڈاؤن لوڈ بٹن سے یہ دلچسپ کتاب حاصل کیجیے اور ابنِ انشا کی صحبت میں چند خوشگوار گھنٹے گزاریے۔ یقین جانیے، یہ کتاب آپ کو مایوس نہیں کرے گی۔

No comments:
Post a Comment