عصمت چغتائی شخصیت اور فن از جگدیش چندر ودھاون



 Asmat Chughtai Shakhsiat Aur Fun By Jagdedh Chandar Wadhawan Pdf


عصمت چغتائی کا نام اردو ادب میں ایک ایسی دلیر آواز کی علامت ہے جس نے اپنے عہد کے سارے بندھن توڑ ڈالے۔ وہ لکھتی تھیں تو ایسا لگتا تھا جیسے معاشرے کے چہرے سے نقاب نوچ رہی ہوں۔ ان کے افسانے پڑھ کر آج بھی قاری چونک جاتا ہے کہ ایک عورت نے پچھلی صدی کے وسط میں اتنی بے باکی سے کیسے لکھا۔ جگدیش چندر ودھاون کی کتاب "عصمت چغتائی شخصیت اور فن" اسی غیر معمولی ادیبہ کی زندگی اور ان کے ادبی کارناموں کا ایک سیر حاصل تنقیدی مطالعہ ہے۔

یہ کتاب "شخصیت اور فن" سیریز کا حصہ ہے، جس میں مصنف نے اردو کے بڑے ادیبوں کی شخصیت اور ان کے فن کا تحقیقی جائزہ لیا ہے۔ اسی سیریز کی ایک اور مقبول کتاب کرشن چندر شخصیت اور فن بھی قارئین میں خاصی پسند کی گئی، اور عصمت چغتائی پر یہ جلد اسی علمی سلسلے کی ایک مضبوط کڑی ہے۔ ودھاون نے اس کتاب میں محض تعریفی کلمات پر اکتفا نہیں کیا بلکہ عصمت کی شخصیت کے پیچیدہ پہلوؤں کو ان کی تخلیقات کی روشنی میں کھول کر رکھ دیا ہے۔

عصمت 1915 میں بدایوں میں پیدا ہوئیں اور ان کی تربیت علی گڑھ کے آزاد خیال ماحول میں ہوئی۔ ان کے بھائی عزیز احمد بھی ادیب تھے، اور گھر میں ادب کا چرچا عام تھا۔ ترقی پسند تحریک کے زیر اثر انہوں نے افسانے کو سماجی اصلاح کا ہتھیار بنایا۔ ان کا مشہور افسانہ "لحاف" جب شائع ہوا تو ادبی حلقوں میں تہلکہ مچ گیا، اور ان پر فحاشی کا مقدمہ بھی چلا۔ مگر عصمت ڈریں نہیں، انہوں نے عدالت میں اپنے فن کا بھرپور دفاع کیا اور بری ہوئیں۔ یہ واقعہ ان کی نڈر شخصیت کی واضح مثال ہے۔

ان کے افسانوں "چھوئی موئی"، "کافور" اور "دھنی" میں عورت کی نفسیات کی جو گہرائی ملتی ہے وہ اردو ادب میں اپنی مثال آپ ہے۔ اور پھر ان کا ناول ٹیڑھی لکیر تو ایک شاہکار ہے جس میں ایک حساس لڑکی کی ذہنی کشمکش کو اس فنکاری سے برتا گیا ہے کہ پڑھنے والا دنگ رہ جاتا ہے۔ ودھاون نے ان تمام تخلیقات کا باریک بینی سے تجزیہ کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ عصمت کی بے باکی کوئی نمائشی حرکت نہیں تھی بلکہ ایک گہرے انسانی ہمدردی کے جذبے سے پھوٹی تھی۔

مصنف کا تنقیدی اسلوب اس کتاب کی جان ہے۔ انہوں نے عصمت چغتائی کے عہد کے سماجی، سیاسی اور تہذیبی پس منظر کو سامنے رکھ کر ان کے فن کا محاکمہ کیا ہے۔ تقسیم سے پہلے کا ہندوستان، مسلم معاشرے کی بندشیں، عورت کی گھٹی ہوئی آواز — یہ سب ان کے افسانوں میں بولتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ ودھاون لکھتے ہیں کہ عصمت نے اردو افسانے کو ڈرائنگ روم کی نفاست سے نکال کر زندگی کے کچے پکے راستوں پر چلایا، اور یہی ان کا سب سے بڑا ادبی کارنامہ ہے۔

عصمت چغتائی نے فلموں کے لیے بھی لکھا اور ان کی کہانیوں پر کئی فلمیں بنیں۔ ان کی شادی مشہور فلمساز شاہد لطیف سے ہوئی اور ان کی بیٹی زہرہ بھی ادبی دنیا سے وابستہ رہیں۔ 1991 میں ان کے انتقال کے بعد بھی ان کی تحریریں زندہ ہیں اور ہر نسل انہیں نئے زاویے سے پڑھتی ہے۔ ودھاون نے کتاب کے آخری ابواب میں ان کی ادبی وراثت کا جائزہ لیا ہے اور یہ دکھایا ہے کہ آج کی نسائی تحریر کس حد تک عصمت کی مرہون منت ہے۔

اردو ادب کے طلبہ، محققین اور اساتذہ کے لیے یہ کتاب ایک قیمتی حوالہ ہے۔ ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالہ نگار اس سے بھرپور استفادہ کر سکتے ہیں۔ اسی قبیل کی ایک اور عمدہ تحقیقی کتاب پاکستانی ادب کے معمار: خالدہ حسین شخصیت اور فن بھی اسی ویب سائٹ پر موجود ہے جو اسی تنقیدی روایت کی نمائندہ ہے۔ دونوں کتابیں مل کر اردو تنقید کے ایک اہم باب کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔

فائل اردو اس اہم تحقیقی کتاب کی پی ڈی ایف فری ڈاؤن لوڈ کے لیے پیش کر رہا ہے۔ نیچے ڈاؤن لوڈ کے بٹن سے آپ یہ کتاب حاصل کر کے عصمت چغتائی کی شخصیت اور ان کے فن کو قریب سے جان سکتے ہیں۔ اردو ادب سے محبت کرنے والوں کی لائبریری کے لیے یہ ایک لازمی اضافہ ہے۔

DOWNLOAD


OR


READ ONLINE

No comments: