Fort William College Ki Adbi Khidmaat Pdf
فورٹ ولیم کالج کا نام آتے ہی ذہن میں کلکتہ کی ایک پرانی عمارت کا نقشہ ابھرتا ہے، جہاں کبھی انگریز افسروں کو ہندوستانی زبانیں سکھائی جاتی تھیں۔ مگر اس ادارے کی کہانی صرف ایک تربیتی مرکز کی کہانی نہیں ہے۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں اردو نثر نے ایک نیا راستہ اختیار کیا، جہاں زبان کی عبارت سادہ ہوئی، جملے چھوٹے ہوئے اور بات کہنے کا انداز عام قاری کے قریب آیا۔ فورٹ ولیم کالج کی ادبی خدمات کا مطالعہ دراصل اردو ادب کی تاریخ کے اس اہم موڑ کا مطالعہ ہے، جس کے بغیر آج کی اردو نثر کو سمجھنا مشکل ہے۔
سن اٹھارہ سو میں جب یہ کالج قائم ہوا تو اس کا مقصد بظاہر انتظامی تھا، یعنی ایسٹ انڈیا کمپنی کے نئے افسروں کو مقامی زبانوں، رسم و رواج اور انتظامی اصطلاحات سے آشنا کرنا۔ اس کام کے لیے جان گلکرسٹ جیسے اساتذہ اور مقامی اہل علم کو اکٹھا کیا گیا۔ انھوں نے نہ صرف درسی کتابیں تیار کیں بلکہ اردو کو ایک باقاعدہ درسی زبان کا درجہ بھی دیا۔ اسی ماحول میں میر امن کی باغ و بہار جیسی کتابیں سامنے آئیں، جنھوں نے اردو کہانی کو ایک سادہ اور دلچسپ اسلوب دیا۔
اس دور کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ لکھنے والوں نے فارسی آمیز مشکل عبارت کی بجائے روزمرہ کی زبان کو ترجیح دی۔ اسی لیے فورٹ ولیم کالج کی کتابیں آج بھی پڑھنے میں تازہ لگتی ہیں۔ جو قاری اردو زبان وادب کی تاریخ کو ترتیب سے سمجھنا چاہتا ہے، اس کے لیے اردو زبان وادب کی مختصر تاریخ بھی ایک اچھی رہنمائی ہے، کیونکہ اس میں زبان کے ارتقا کے مختلف مراحل کو سادہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ فورٹ ولیم کالج کا کردار اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جہاں تاریخ، ترجمہ اور تدریس ایک ساتھ چل رہے تھے۔
کالج میں صرف کہانیاں ہی نہیں لکھی گئیں، بلکہ گرامر، لغت اور تراجم پر بھی کام ہوا۔ انگریزی اور فارسی کی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا گیا، نئے الفاظ وضع کیے گئے اور عبارت کی درستی پر خاص توجہ دی گئی۔ یہ کام آسان نہیں تھا، کیونکہ اس وقت اردو نثر کا کوئی طے شدہ معیار موجود نہیں تھا۔ اساتذہ اور طلبہ نے مل کر ایک ایسا اسلوب بنایا جو بعد میں اخبارات، نصابی کتابوں اور افسانوں میں بھی نظر آیا۔ اسی لیے تحقیق کے طلبہ آج بھی اس دور کی کتابوں کو بنیادی ماخذ سمجھتے ہیں۔
فورٹ ولیم کالج کی خدمات کا اثر صرف کلکتہ تک محدود نہیں رہا۔ جب اردو کے مراکز دلی، لکھنؤ اور بعد میں لاہور اور کراچی تک پھیلے تو اسی روایت نے نئی شکلیں اختیار کیں۔ پاکستانی اردو ادب کی تاریخ پڑھنے سے یہ بات اور واضح ہو جاتی ہے کہ زبان اور ادب کیسے ایک خطے سے دوسرے خطے تک سفر کرتے ہیں اور ہر جگہ مقامی رنگ اختیار کر لیتے ہیں۔ فورٹ ولیم کالج نے اس سفر کی بنیاد رکھ دی تھی، کیونکہ اس نے اردو کو صرف شاعری کی زبان نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے علم، انتظامی امور اور عام زندگی کی زبان بھی بنا دیا۔
ایک اور دلچسپ پہلو اردو کے رسم خط کا ہے۔ اس دور میں نستعلیق کی صورت، املا کے اصول اور عبارت کی ترتیب پر بھی بحث ہوئی، کیونکہ چھپائی اور تدریس کے لیے ایک واضح معیار درکار تھا۔ اس موضوع میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے اردو زبان اور اس کا رسم خط ایک مفید کتاب ہے، جس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ زبان کی صورت اور اس کی تحریری شکل کس طرح ساتھ ساتھ بدلتی رہی ہے۔ فورٹ ولیم کالج کے اساتذہ نے اسی مسئلے کو عملی سطح پر حل کرنے کی کوشش کی تھی۔
آج کے قاری کے لیے اس کتاب کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ صرف ماضی کی معلومات نہیں دیتی، بلکہ اردو پڑھنے اور لکھنے کا ذوق بھی پیدا کرتی ہے۔ ایم اے اردو، سی ایس ایس اور تحقیقی مقالات کی تیاری کرنے والے طلبہ کے لیے یہ کتاب ایک سادہ اور معتبر حوالہ ہے۔ اس کتاب کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کر کے آپ اسے آرام سے پڑھ سکتے ہیں، اس میں دی گئی مثالوں پر غور کر سکتے ہیں اور اردو نثر کی اس ابتدائی مگر پختہ صورت سے لطف اٹھا سکتے ہیں۔ فورٹ ولیم کالج کی ادبی خدمات کو جاننا دراصل اردو کی اپنی کہانی کو جاننا ہے۔

No comments:
Post a Comment