جدیدیت از حسن عسکری



 Jadeediat By Hassan Askary Pdf

جدیدیت از حسن عسکری — اردو تنقید کی ایک بنیادی کتاب

اردو ادب میں تنقید کی بات ہو اور حسن عسکری کا نام نہ آئے، یہ ممکن نہیں۔ حسن عسکری اردو کے ان چند ناقدین میں سے ہیں جنھوں نے تنقید کو محض تبصرہ نگاری سے نکال کر ایک سنجیدہ فکری عمل بنایا۔ ان کی کتاب جدیدیت اردو تنقید کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب صرف کسی ایک دور کے ادب کا جائزہ نہیں، بلکہ جدید ہونے کے مفہوم، روایت اور جدیدیت کے رشتے، اور ادب میں نئے پن کی تلاش جیسے بنیادی سوالوں سے نمٹتی ہے۔

حسن عسکری کا خیال تھا کہ جدیدیت کوئی فیشن یا وقتی رجحان نہیں، بلکہ ایک ذہنی اور تہذیبی کیفیت ہے۔ ان کے نزدیک جدید ادب وہ ہے جو اپنے عہد کے سوالوں سے آنکھیں نہ چرائے بلکہ ان کا سامنا کرے۔ جدیدیت میں انھوں نے اسی نکتے کو مختلف زاویوں سے کھولا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ہر دور کا ادب اپنے سے پہلے کے ادب سے رشتہ بھی رکھتا ہے اور اس سے بغاوت بھی کرتا ہے، اور اصل جدیدیت اسی کشمکش میں پنپتی ہے۔

اس کتاب کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ عسکری صاحب مغربی تنقیدی نظریات سے بھی پوری طرح آگاہ ہیں اور مشرقی ادبی روایت سے بھی۔ وہ نہ اندھی تقلید کے قائل ہیں نہ بند دروازوں کے۔ ان کے ہاں تنقید ایک زندہ مکالمہ ہے، ماضی اور حال کے درمیان، مشرق اور مغرب کے درمیان۔ یہی وجہ ہے کہ جدیدیت آج بھی پڑھی جاتی ہے اور اردو تنقید کے نصاب میں اسے ایک لازمی حوالہ سمجھا جاتا ہے۔

یہ کتاب جس دور میں لکھی گئی وہ اردو ادب کے لیے ایک ہنگامہ خیز دور تھا۔ ترقی پسند تحریک اپنے عروج پر تھی اور ادب میں نئے تجربات ہو رہے تھے۔ ایسے میں حسن عسکری نے ٹھنڈے دل سے سوچا اور لکھا۔ وہ نہ کسی تحریک کے نعرے لگاتے ہیں نہ کسی گروہ کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کا کام تنقید ہے، اور تنقید کا مطلب ان کے نزدیک ہے ہر دعوے کو کسوٹی پر پرکھنا، چاہے وہ دعویٰ روایت کا ہو یا جدیدیت کا۔

اگر آپ اردو تنقید کے مزید گوشوں سے واقف ہونا چاہتے ہیں تو تنقید اور جدید اردو تنقید از ڈاکٹر وزیر آغا ضرور دیکھیں، جس میں جدید اردو تنقید کے رجحانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ اسی طرح جدید ادب کی سرحدیں جلد اول از قمر جمیل جدید ادب کے حدود و قیود پر ایک اہم تنقیدی کاوش ہے، اور مغربی تنقید کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے مغربی تنقید کا مطالعہ از عابد صدیق ایک مفید کتاب ہے۔

حسن عسکری کی نثر بھی قابل ذکر ہے، سنجیدہ مگر بوجھل نہیں، دقیق مگر خشک نہیں۔ وہ مشکل فکری بات کو بھی اس انداز میں کہتے ہیں کہ قاری ساتھ چلتا رہے۔ جدیدیت پڑھتے ہوئے آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ کسی استاد کے سامنے بیٹھے ہیں جو سوال اٹھاتا ہے، پھر اس کا جواب بھی خود تلاش کرتا ہے، اور آپ کو بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔

اردو ادب کے طالب علموں کے لیے یہ کتاب اس لیے بھی اہم ہے کہ اس میں جدیدیت کے ساتھ ساتھ روایت کی تفہیم بھی ملتی ہے۔ عسکری صاحب کا اصرار ہے کہ جو ادب اپنی روایت سے کٹ جائے وہ بے جڑ ہو جاتا ہے، اور جو روایت میں قید ہو جائے وہ مردہ۔ زندہ ادب ان دونوں کے درمیان ایک تخلیقی توازن قائم کرتا ہے۔

آج جب اردو میں ہر دوسرا مضمون جدید اور مابعد جدید کی اصطلاحات سے بھرا ہوتا ہے، عسکری کی جدیدیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل سوال اصطلاحات کا نہیں تفہیم کا ہے۔ جدیدیت کو سمجھے بغیر جدید ادب کو سمجھنا ممکن نہیں، اور جدیدیت کو سمجھنے کے لیے اس کتاب سے بہتر راہنما مشکل سے ملے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اردو کے اساتذہ آج بھی اپنے شاگردوں کو یہ کتاب پڑھنے کی تاکید کرتے ہیں۔

اگر آپ اردو تنقید، تحقیق اور ادبی نظریات میں دلچسپی رکھتے ہیں تو جدیدیت آپ کی لائبریری میں ضرور ہونی چاہیے۔ اس کتاب کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دیے گئے ڈاؤن لوڈ بٹن پر کلک کریں۔ فائل اردو پر اردو ادب کی مزید تنقیدی و تحقیقی کتب بھی مفت دستیاب ہیں۔

 

DOWNLOAD


OR


READ ONLINE

No comments: