سعادت حسن منٹو،منٹو شناسی از شکیل الرحمٰن


 

Manto Shanasi By Shakeel Ur Rehman Pdf

سعادت حسن منٹو اردو افسانے کا وہ نام ہے جسے کسی تعارف کی ضرورت نہیں۔ ان کی شخصیت اور فن پر اب تک بے شمار کتابیں اور مقالے لکھے جا چکے ہیں، اور اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی "منٹو شناسی" ہے، جس کے مصنف شکیل الرحمٰن ہیں۔ یہ کتاب منٹو کی زندگی، ان کے فن اور ان کے عہد کو سمجھنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ منٹو شناسی محض سوانحی خاکہ نہیں بلکہ ایک تنقیدی مطالعہ ہے جو قاری کو منٹو کے باطن تک لے جاتا ہے۔

شکیل الرحمٰن نے اس کتاب میں منٹو کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو بڑی باریک بینی سے پرکھا ہے۔ وہ منٹو کے بچپن، ان کی تعلیم، بمبئی اور لاہور کے ادوار، اور ان کی ادبی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ مصنف کا اسلوب تحقیقی مگر دلچسپ ہے؛ وہ خشک حقائق کے ساتھ ساتھ ایسے واقعات بھی بیان کرتے ہیں جن سے منٹو کی انسان دوستی اور بے باکی جھلکتی ہے۔ یہی اس کتاب کی خاص بات ہے کہ یہ پڑھنے والے کو بور نہیں ہونے دیتی۔

منٹو کی سب سے بڑی خوبی ان کی سچائی تھی۔ انہوں نے معاشرے کے ننگے حقائق کو جس بے خوفی سے بیان کیا، اس کی مثال اردو ادب میں کم ملتی ہے۔ ان کے افسانوں میں طوائف، مزدور، پاگل اور معاشرے کے پسے ہوئے طبقات مرکزی کردار ہیں۔ منٹو نے ان کرداروں کو ہمدردی اور انسانیت کی نظر سے دیکھا، اور یہی ان کے فن کی روح ہے۔ "منٹو شناسی" میں مصنف نے اسی انسانی ہمدردی کو منٹو کے فن کا مرکز قرار دیا ہے۔

منٹو کے فن پر بات کرتے ہوئے ان کے مشہور افسانوں کا ذکر ناگزیر ہے۔ "ٹوبہ ٹیک سنگھ"، "کھول دو"، "کالی شلوار" اور "دھواں" جیسے افسانے اردو ادب کا سرمایہ ہیں۔ ان افسانوں میں تقسیمِ ہند کے زخم، انسانی نفسیات کی گہرائی اور معاشرتی منافقت کی عکاسی ملتی ہے۔ شکیل الرحمٰن نے ان افسانوں کا تنقیدی جائزہ لے کر منٹو کے اسلوب کی خصوصیات کو واضح کیا ہے، جو نئے قارئین کے لیے بہت مفید ہے۔

منٹو صرف افسانہ نگار نہیں تھے بلکہ ایک اچھے مضمون نگار بھی تھے۔ ان کے مضامین میں ان کی طنزیہ نگاہ اور تیکھے جملے نمایاں ہیں۔ منٹو کے مضامین کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نثر میں بھی اتنے ہی بے باک تھے جتنے افسانے میں۔ ان مضامین میں ادبی اور فلمی شخصیات پر ان کے تبصرے آج بھی پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔

منٹو کے فن کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے ان کے کلیات کا مطالعہ ضروری ہے۔ کلیات سعادت حسن منٹو پہلی جلد میں ان کے منتخب افسانے جمع کیے گئے ہیں، جو ان کے فن کے ارتقا کی داستان بیان کرتے ہیں۔ یہ جلد ان قارئین کے لیے خاص طور پر مفید ہے جو منٹو کو پہلی بار پڑھ رہے ہیں، کیونکہ اس میں ان کے بہترین افسانے ایک جگہ دستیاب ہیں۔

منٹو کے سب سے مشہور اور متنازع افسانوں میں ٹھنڈا گوشت کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس افسانے پر فحاشی کا مقدمہ بھی چلا، لیکن منٹو نے عدالت میں اپنے فن کا بھرپور دفاع کیا۔ یہ افسانہ تقسیم کے فسادات کے پس منظر میں انسانی درندگی اور پھر انسانیت کی جھلک کو بیان کرتا ہے۔ "منٹو شناسی" میں اس افسانے اور اس پر چلنے والے مقدمے کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔

آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ "منٹو شناسی" ہر اس شخص کے لیے لازمی مطالعہ ہے جو اردو افسانے، تنقید یا منٹو کی شخصیت سے دلچسپی رکھتا ہے۔ شکیل الرحمٰن کی یہ تحقیق منٹو کے مداحوں اور ناقدین دونوں کے لیے یکساں مفید ہے۔ فائل اردو پر اس کتاب کی پی ڈی ایف مفت ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ہے؛ نیچے دیے گئے ڈاؤن لوڈ بٹن سے آپ اسے حاصل کر سکتے ہیں اور منٹو شناسی کے اس سفر میں شریک ہو سکتے ہیں۔

DOWNLOAD


OR


READ ONLINE

No comments: