اس کتاب کے اندر تمام اصناف اردو کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ایک اردو کے طالب علم کے لیے اس کتاب کا مطالعہ ازحد ضروری ہے۔ موضوعات کی تفصیل درج ذیل ہے۔
حمد مناجات
نعت۔ منقبت
قصیدہ۔ ہجو
غزل۔ مرثیہ
شہر آشوب واسوخت
ریختی تحریف
پیروڈی تضمین
مثنوی رباعی
قطعہ مسمط
مخمس۔ ترکیب بند
ترجیح بند مستزاد
نظم معرٰی۔ آزاد نظم
نثری نظم۔ سانیٹ
ہائیکو دوہا
بارہ ماسہ۔ مقالہ
صحافت کالم نگاری
علم تحقیق و تنقید
زندہ نامے تقریر
بلیغیات لطائف و ظرائف
اقبالیات
اردو زبان کے ارباب قلم کی فہرست
ASNAAF NAZM O NASSAR BY ISHFAQ AHMAD VIRK PDF DOWNLOAD
🔊توجہ فرمائیں
اپنے تخلیقی، تحقیقی،تنقیدی اور تجزیاتی مضامین و آرٹیکل ہمیں اس ایڈریس پر بھیج کر اردو زبان وادب کی ترویج وترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔
Fileurdu66@gmail.com
شکریہ
اصناف نظم و نثر — اشفاق احمد ورک کی جامع اصنافی رہنما
ادب کی دنیا میں قدم رکھنے والے کے لیے سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ ادب کی مختلف اصناف ہوتی ہیں اور ہر صنف کے اپنے اصول، اپنی روایت اور اپنا مزاج ہوتا ہے۔ غزل کو ناول کے پیمانے پر نہیں پرکھا جا سکتا اور نہ ہی افسانے کو قصیدے کے معیار پر۔ جو قاری اصناف کے فرق کو نہیں سمجھتا، وہ ادب کے حسن سے پوری طرح لطف اندوز نہیں ہو سکتا۔ اشفاق احمد ورک کی کتاب "اصناف نظم و نثر" اسی بنیادی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ اس میں اردو نظم و نثر کی تمام اہم اصناف کا تعارف، ان کی تاریخ اور ان کے امتیازی اوصاف کو بڑے سلیقے سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب خاص طور پر ان طلبہ کے لیے تحفہ ہے جو اردو ادب میں بی اے، ایم اے یا لیکچرر شپ کے امتحانات کی تیاری کر رہے ہیں، کیونکہ اصناف کا سوال ہر امتحان میں ضرور پوچھا جاتا ہے۔
اشفاق احمد ورک اردو ادب کے سنجیدہ محقق اور نقاد ہیں۔ انہوں نے اردو کی اصنافی روایت پر گہری تحقیق کی ہے اور ان کا مطالعہ وسیع اور ان کی نظر باریک ہے۔ ان کی تحریر کی خوبی یہ ہے کہ وہ مشکل علمی مباحث کو بھی عام فہم انداز میں پیش کرتے ہیں، جس سے یہ کتاب طلبہ کے ساتھ ساتھ عام قارئین کے لیے بھی مفید بن گئی ہے۔ انہوں نے اردو اصناف پر متعدد مقالات بھی تحریر کیے ہیں جو معتبر تحقیقی رسائل میں شائع ہو چکے ہیں۔ اردو اکیڈمک حلقوں میں ان کی اس کتاب کو اصناف ادب پر ایک معتبر تعارفی حوالے کی حیثیت حاصل ہے، اور کئی جامعات کے نصاب میں اس کی سفارش کی جاتی ہے۔
کتاب کے پہلے حصے میں شعری اصناف کا جائزہ لیا گیا ہے۔ غزل، نظم، رباعی، قطعہ، مرثیہ، قصیدہ، مثنوی اور ماہیا — ہر صنف کی ہیئت، اس کی تاریخی نشوونما اور اس کے نمایاں شعرا کا ذکر کیا گیا ہے۔ دوسرے حصے میں نثری اصناف پر روشنی ڈالی گئی ہے: داستان، ناول، افسانہ، ڈراما، انشائیہ، خاکہ، سفرنامہ اور تنقید۔ مصنف نے ہر صنف کی تعریف کے ساتھ اس کی نمایاں مثالوں کا بھی ذکر کیا ہے، جس سے قاری کو عملی فہم حاصل ہوتا ہے۔ مصنف نے ہر صنف کے ارتقا میں جن نمایاں ادیبوں اور شاعروں کا کردار رہا، ان کا بھی تذکرہ کیا ہے، جس سے یہ کتاب اردو ادب کی تاریخ کا ایک مختصر مگر جامع خاکہ بھی بن جاتی ہے۔ یہ کتاب پڑھنے کے بعد قاری ہر صنف کو اس کے اپنے معیار پر پرکھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
اصناف کا مطالعہ تنقید سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اس کتاب کے ساتھ تنقیدی کتب کا مطالعہ بھی مفید ہے۔ اردو کی ایک دلچسپ صنف ماہیا پر حیدر قریشی کی کتاب اردو ماہیا تحقیق و تنقید میں عمدہ تحقیقی کام پیش کیا گیا ہے۔ تنقید کے بنیادی اصولوں کے لیے عابد علی عابد کی اصول انتقاد ادبیات ایک بہترین رہنما ہے۔ اور تحقیقی روایت کے تسلسل کو سمجھنے کے لیے ڈاکٹر رشید حسن خان کی تدوین تحقیق روایت کا مطالعہ بھی نہایت مفید رہے گا۔
فائل اردو نے اصناف نظم و نثر جیسی بنیادی کتاب کو پی ڈی ایف کی صورت میں مفت فراہم کیا ہے۔ نیچے دیے گئے ڈاؤن لوڈ بٹن سے آپ اس کتاب کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ طلبہ اسے اپنے موبائل یا کمپیوٹر میں محفوظ کر کے کسی بھی وقت مطالعہ کر سکتے ہیں۔ اردو ادب کے طلبہ، اساتذہ اور ہر وہ شخص جو ادب کو سمجھ کر پڑھنا چاہتا ہے، اس کتاب سے ضرور فائدہ اٹھائے۔ دعا ہے کہ اردو ادب کی یہ اصنافی دولت نئی نسل تک پہنچتی رہے اور ہمارا ادبی ذوق مزید نکھرتا رہے۔

No comments:
Post a Comment