Istalahaat Naqad O Adab By Doctor Umar Farooq Pdf
اصطلاحات نقد و ادب ڈاکٹر عمر فاروق کی وہ اہم تحقیقی تصنیف ہے جو اردو ادب میں تنقیدی اصطلاحات کی وضاحت کے حوالے سے ایک مستند حوالہ ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے نقد و ادب کی اہم اصطلاحات کو نہایت جامعیت اور وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اردو ادب کے طالب علموں اور محققین کے لیے یہ کتاب ایک ناگزیر رہنما ہے۔
ادب کی ہر صنف کی اپنی مخصوص اصطلاحات ہوتی ہیں جنہیں سمجھے بغیر اس صنف کا صحیح ادراک ممکن نہیں۔ ڈاکٹر عمر فاروق نے اس کتاب میں تنقید، تحقیق اور ادبیات کی بنیادی اصطلاحات کی تعریف، ان کی تاریخ اور ان کے استعمال کو واضح کیا ہے۔ یہ کتاب اردو ادب میں اصطلاحات سازی کے حوالے سے ایک اہم کوشش ہے۔
ادبی اصناف ڈاکٹر گیان چند کے مطالعے سے بھی ہمیں اردو کی ادبی اصناف اور ان سے متعلق اصطلاحات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اصطلاحات نقد و ادب اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے جو تنقیدی اصطلاحات پر خصوصی توجہ دیتی ہے۔ ان دونوں کتب کا مطالعہ اردو ادب کے طالب علموں کے لیے نہایت مفید ہے۔
ڈاکٹر عمر فاروق نے اصطلاحات کی وضاحت میں مغربی اور مشرقی دونوں تنقیدی روایات سے استفادہ کیا ہے۔ انہوں نے ہر اصطلاح کی تعریف کے ساتھ اس کی مثالیں بھی دی ہیں تاکہ قاری کو اس کا عملی مفہوم سمجھنے میں آسانی ہو۔ یہی وہ خوبی ہے جو اس کتاب کو محض ایک لغت سے بڑھا کر ایک تحقیقی تصنیف بنا دیتی ہے۔
اردو تنقید میں اصطلاحات کی درستگی ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ اردو قصیدہ نگاری کا تنقیدی جائزہ جیسی کتب میں بھی تنقیدی اصطلاحات کا استعمال ملتا ہے۔ اصطلاحات نقد و ادب ان اصطلاحات کو سمجھنے کے لیے ایک بنیادی حوالہ فراہم کرتی ہے۔ جو احباب اردو تنقید میں دلچسپی رکھتے ہیں ان کے لیے اس کتاب کا مطالعہ ضروری ہے۔
جامعات میں اردو ادب کی تدریس و تحقیق میں اس کتاب کو ایک اہم مقام حاصل ہے۔ ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طالب علم اس سے بھرپور استفادہ کرتے ہیں۔ تحقیقی مقالوں میں اصطلاحات کی وضاحت کے لیے اس کے حوالے دیے جاتے ہیں۔ یہ کتاب اردو میں علمی اصطلاحات سازی کی روایت کو آگے بڑھاتی ہے۔
فائل اردو پر اصطلاحات نقد و ادب ڈاکٹر عمر فاروق کی پی ڈی ایف فری ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ہے۔ اردو ادب اور تنقید سے وابستہ تمام قارئین، اساتذہ اور محققین کو چاہیے کہ وہ اس قیمتی کتاب سے استفادہ کریں۔ یہ آپ کی علمی استعداد میں اضافے کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہو گی۔
No comments:
Post a Comment