اردو ناول پر انگریزی ناول کے اثرات ڈاکٹر ایم عظیم اللّٰہ

 

Urdu Novels Par Angrezi Novel Ke Asrat by Doctor M.Azeem Ullah pdf free download


اردو ناول کی تاریخ اتنی ہی دلچسپ ہے جتنا خود یہ صنف۔ جب ہم اردو کے ابتدائی ناولوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں جگہ جگہ انگریزی ناول کی روایت کی جھلک نظر آتی ہے۔ ڈاکٹر ایم عظیم اللہ کی تحقیقی کتاب اردو ناول پر انگریزی ناول کے اثرات اسی موضوع پر پی ایچ ڈی سطح کا ایک سنجیدہ علمی کام ہے، جس میں مصنف نے بڑی محنت اور دیانت سے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ اردو ناول نے انگریزی ناول سے کیا کچھ اخذ کیا اور اس اخذ و استفادے کی نوعیت کیا رہی۔

انگریزی ناول کی روایت اٹھارویں صدی میں ڈینیئل ڈیفو اور ہنری فیلڈنگ جیسے ناول نگاروں سے شروع ہوتی ہے اور پھر جین آسٹن، چارلس ڈکنز اور تھامس ہارڈی جیسے عظیم فنکاروں کے ہاتھوں بام عروج کو پہنچتی ہے۔ ان ناول نگاروں نے پلاٹ کی بنت، کرداروں کی نفسیاتی گہرائی اور معاشرتی حقیقت نگاری کے جو معیار قائم کیے وہ آنے والے زمانوں میں دنیا بھر کے ادب کے لیے مشعل راہ بنے۔ اردو کے ابتدائی ناول نگار بھی اسی روایت سے کسی نہ کسی صورت میں متاثر ہوئے، اور اسی تاثیر کا تنقیدی جائزہ اس کتاب کا اصل موضوع ہے۔

اردو میں ناول کی ابتدا ڈپٹی نذیر احمد کے اصلاحی ناولوں اور مرزا ہادی رسوا کے امراؤ جان ادا جیسے شاہکاروں سے ہوتی ہے۔ ڈاکٹر عظیم اللہ نے اپنی اس تحقیق میں ان ابتدائی ناولوں کا انگریزی ناولوں سے تقابلی مطالعہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے دکھایا ہے کہ کس طرح اردو ناول نگاروں نے انگریزی ناول کے فنی لوازمات، مثلاً واقعات کی ترتیب، کرداروں کی نشوونما اور مکالمہ نگاری کو اپنے معاشرتی اور تہذیبی پس منظر میں ڈھال کر ایک نئی اور منفرد روایت کی بنیاد رکھی۔

اس کتاب کی ایک بڑی خوبی اس کا تحقیقی اسلوب ہے۔ مصنف نے محض دعوے نہیں کیے بلکہ اردو اور انگریزی کے متعدد ناولوں کے اقتباسات اور حوالوں سے اپنی بات کی تصدیق کی ہے۔ ہر باب میں پہلے انگریزی ناول کی متعلقہ روایت کا جائزہ لیا گیا ہے اور پھر اردو ناولوں میں اس کے اثرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہی وہ طرز تحقیق ہے جو اس کتاب کو ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ کے لیے ایک قیمتی حوالہ بناتا ہے اور اسے عام تبصروں سے ممتاز کرتا ہے۔

کتاب میں جن موضوعات پر تفصیل سے بحث کی گئی ہے ان میں ناول کا پلاٹ، کردار نگاری، منظر نگاری، زبان و بیان اور ناول میں عورت کے کردار جیسے اہم مباحث شامل ہیں۔ مصنف نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اردو ناول نے انگریزی اثرات کو اندھی تقلید کے طور پر قبول نہیں کیا بلکہ اپنی مقامی ضرورتوں اور قاری کے ذوق کے مطابق ان میں تخلیقی تبدیلیاں کیں۔ یہ نکتہ اردو ناول کی خودمختار شناخت کو سمجھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور اس کتاب کا سب سے قیمتی حاصل ہے۔

اردو ادب کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے یہ کتاب ایک نعمت سے کم نہیں۔ اگر آپ اردو ادب کے ارتقائی سفر کو مجموعی طور پر سمجھنا چاہتے ہیں تو اردو ادب کی مختصر تاریخ کا مطالعہ بھی آپ کے لیے مفید رہے گا، جس میں انور سدید نے اردو ادب کے مختلف ادوار، رجحانات اور اہم تخلیق کاروں کا جامع اور سلیس جائزہ پیش کیا ہے۔

تنقیدی شعور رکھنے والے قارئین اس کتاب میں تنقید کے کئی دبستانوں کی عملی تطبیق بھی دیکھیں گے۔ اردو تنقید میں عمرانی نقطہ نظر کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، اور اس حوالے سے اردو کی عمرانی تنقید کا مطالعہ اس کتاب کے مباحث کو مزید گہرائی سے سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

تحقیقی مقالوں اور مقالہ نگاری میں مصطلحات کی درست تفہیم نہایت ضروری ہے۔ ڈاکٹر عظیم اللہ کی اس کتاب میں بھی جا بجا فنی اصطلاحات استعمال ہوئی ہیں، جن کی وضاحت کے لیے پروفیسر انور جمال کی مرتب کردہ ادبی اصطلاحات جیسی مستند کتاب سے رجوع کرنا طلبہ اور محققین دونوں کے لیے نہایت سود مند رہے گا۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اردو ناول پر انگریزی ناول کے اثرات اردو تحقیق کی ان کتابوں میں سے ہے جو الماری کی زینت بننے کے بجائے بار بار پڑھی جانی چاہییں۔ لیکچرر شپ اور سی ایس ایس کے امتحانات کی تیاری کرنے والے امیدواروں کے لیے بھی یہ کتاب اردو ناول کے باب میں ایک مستند حوالے کی حیثیت رکھتی ہے۔ فائل اردو پر یہ کتاب پی ڈی ایف کی صورت میں مفت ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ہے، تاکہ علم کے یہ موتی ہر طالب علم تک بآسانی پہنچ سکیں۔

DOWNLOAD


OR


READ ONLINE

No comments: