اردو افسانہ ایک صدی کا قصہ ڈاکٹر انوار احمد

 


Urdu Afsana Aik Sadi Ka Qissa By Doctor Anwaar Ahmad Pdf Free Download


اردو افسانہ ایک صدی کا قصہ — سو برس کے افسانوی سفر کی داستان

اردو افسانے کی عمر ابھی محض ایک صدی کے لگ بھگ ہے، مگر ان سو برسوں میں اس صنف نے جو سفر طے کیا ہے وہ اردو نثر کی تاریخ کا سب سے رنگین اور دلچسپ باب ہے۔ شروع میں ناول اور داستان کے سائے تلے دبی ہوئی یہ صنف رفتہ رفتہ اپنی الگ پہچان بنانے میں کامیاب ہوئی اور آج اردو کے سنجیدہ قارئین کے نزدیک ناول کے برابر کا درجہ رکھتی ہے۔ ڈاکٹر انوار احمد کی کتاب "اردو افسانہ: ایک صدی کا قصہ" اسی سفر کی مکمل اور مربوط داستان ہے — ایک ایسی تنقیدی و تحقیقی کتاب جو افسانے کے فن، اس کے ارتقا اور اس کے بڑے ناموں کو ایک ہی جگہ سمیٹ لیتی ہے اور قاری کو سو سالہ افسانوی روایت سے ایک ہی نشست میں روشناس کراتی ہے۔

ڈاکٹر انوار احمد اردو کے ممتاز نقاد، محقق اور استاد ہیں جن کی تحریروں کی سب سے بڑی خوبی ان کا متوازن اور غیر جانب دارانہ اسلوب ہے۔ وہ نہ کسی ادیب کی اندھی تعریف کرتے ہیں اور نہ بے جا تنقید کے مرتکب ہوتے ہیں۔ "ایک صدی کا قصہ" میں انہوں نے اردو افسانے کی ابتدا سے لے کر موجودہ دور تک کے تمام اہم مراحل کا جائزہ لیا ہے اور ہر دور کے ادبی ماحول، سماجی پس منظر اور فنی رجحانات کو گہرائی سے پرکھا ہے۔ یہی علمی دیانت ان کی تنقید کی سب سے بڑی خوبی ہے جس کی وجہ سے یہ کتاب عام قاری اور محقق دونوں کے لیے یکساں طور پر مفید اور قابلِ اعتماد ہے۔

کتاب کا آغاز اردو افسانے کے ابتدائی دور سے ہوتا ہے جب پریم چند اور سجاد حیدر یلدرم جیسے افسانہ نگار اس صنف کی بنیادیں رکھ رہے تھے۔ ڈاکٹر انوار احمد واضح کرتے ہیں کہ اردو افسانہ شروع میں ناول اور داستان کے سائے میں پروان چڑھا مگر جلد ہی اس نے اپنی الگ اور ممتاز شناخت بنا لی۔ پریم چند کے اصلاحی اور حقیقت نگارانہ افسانے اور یلدرم کے رومانی و جذباتی انداز اس ابتدائی دور کی پہچان ہیں جنہیں مصنف نے بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ افسانے کے فن اور اس کی ہیئت کو مزید گہرائی سے سمجھنے کے لیے ڈاکٹر حمید شاہد کی کتاب اردو افسانہ صورت و معنی بھی ایک بہترین تکمیلی مطالعہ ہے جو افسانے کے فنی لوازم پر مدلل روشنی ڈالتی ہے۔

اس کے بعد ترقی پسند دور کا تفصیلی ذکر آتا ہے جسے اردو افسانے کا سنہرا دور کہا جاتا ہے۔ کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی اور سعادت حسن منٹو وہ نام ہیں جنہوں نے افسانے کو نئی بلندیوں سے ہمکنار کیا۔ ڈاکٹر انوار احمد نے ہر بڑے افسانہ نگار کے فن کا الگ الگ جائزہ لیا ہے۔ منٹو کی بے باک سچ گوئی ہو یا کرشن چندر کی ترقی پسندانہ للکار، بیدی کی نفسیاتی گہرائی ہو یا عصمت چغتائی کی نسوانی شعور کی ترجمانی — ہر پہلو پر سیر حاصل اور متوازن بحث ملتی ہے۔ یہی وہ دور ہے جب اردو افسانہ عالمی ادب کے ہم پلہ کھڑا نظر آتا ہے اور اس کی گونج سرحدوں سے پار سنائی دیتی ہے۔

اس کتاب کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ صرف ماضی تک محدود نہیں رہتی۔ مصنف نے بعد کے ادوار — جدیدیت، مابعد جدیدیت اور موجودہ دور کے افسانے — کا بھی تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ انتظار حسین، احمد ندیم قاسمی، منشا یاد اور نئی نسل کے افسانہ نگاروں پر بھی مدلل روشنی ڈالی گئی ہے۔ یوں یہ کتاب واقعی "ایک صدی کا قصہ" بن جاتی ہے جو افسانے کے سو سالہ سفر کو ایک تسلسل اور ربط کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ افسانے کی اس طویل روایت کو ایک اور زاویے سے دیکھنے کے لیے مرزا حامد بیگ کی اردو افسانے کی روایت بھی ملاحظہ کیجیے جو اسی موضوع پر ایک قیمتی تحقیقی کتاب ہے اور فائل اردو پر دستیاب ہے۔

یہ کتاب خاص طور پر اردو کے طلبہ، لیکچرر شپ کے امیدواروں اور مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرنے والوں کے لیے بے حد مفید ہے۔ اردو افسانے اور اس کے نقادوں سے متعلق سوالات امتحانات میں بار بار پوچھے جاتے ہیں اور یہ کتاب ان کی تیاری کا قابلِ اعتماد ذریعہ ہے۔ پی ایچ ڈی کے مقالوں میں بھی اردو افسانے کے سماجی پس منظر پر کافی کام ہوا ہے جس کی ایک عمدہ مثال پاکستانی افسانہ ایک سماجیاتی مطالعہ ہے۔ یہ تحقیقی مقالہ اس کتاب کے ساتھ مل کر پڑھا جائے تو افسانے کے سماجیاتی پہلو بھی پوری طرح واضح ہو جاتے ہیں اور طالب علم کی تیاری مکمل ہو جاتی ہے۔

اگر آپ اردو افسانے کے اس سو سالہ علمی و فنی سفر کو ایک ہی کتاب میں پڑھنا چاہتے ہیں تو فائل اردو سے "اردو افسانہ: ایک صدی کا قصہ" کی پی ڈی ایف مفت ڈاؤن لوڈ کریں۔ پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کرنا بالکل آسان ہے — نیچے دیے گئے ڈاؤن لوڈ بٹن پر کلک کیجیے اور یہ تحقیقی خزانہ آپ کے موبائل یا کمپیوٹر میں محفوظ ہو جائے گا۔ اردو ادب سے محبت کرنے والے ہر شخص کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔ پڑھیے، اس سے سیکھیے اور اپنی قیمتی رائے سے ہمیں ضرور آگاہ کیجیے۔

DOWNLOAD


OR


READ ONLINE

No comments: