Aurat Jins Kay Aainay Mai by Dr. Saleem Akhtar Pdf Free Download
🔊توجہ فرمائیں
اپنے تخلیقی، تحقیقی،تنقیدی اور تجزیاتی مضامین و آرٹیکل ہمیں اس ایڈریس پر بھیج کر اردو زبان وادب کی ترویج وترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔
Fileurdu66@gmail.com
شکریہ
اردو ادب کے سنجیدہ قارئین میں ڈاکٹر سلیم اختر کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کی کتاب "عورت جنس کے آئینے میں" اردو تنقیدی ادب کی ان گنی چنی کتابوں میں سے ہے جو عورت کے مسئلے کو محض جذباتی نعروں یا سطحی باتوں کی حد تک نہیں رکھتیں بلکہ اسے گہرے فکری اور تنقیدی شعور کے ساتھ پرکھتی ہیں۔ یہ کتاب دراصل اس سوال کا جواب تلاش کرتی ہے کہ ہمارے ادب، ہماری شاعری اور ہمارے افسانوں میں عورت کی تصویر کیسی بنائی گئی ہے، اور یہ تصویر ہمارے معاشرے کے کن رویوں کا آئینہ ہے۔ جو بھی اردو ادب کو صرف تفریح نہیں بلکہ سوچنے کا ذریعہ سمجھتا ہے، اسے یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔
ڈاکٹر سلیم اختر اردو کے ان نقادوں میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے تنقید کو محض تعریف یا تنقیص کے پرانے ڈھب سے نکال کر ایک سنجیدہ علمی سرگرمی بنایا۔ اس کتاب میں بھی ان کا وہی ٹھہرا ہوا انداز نظر آتا ہے — دلیل سے بات کرنا، متن سے براہِ راست مکالمہ اور قاری کو سوچنے پر مجبور کرنا۔ اگر آپ ان کے تنقیدی اسلوب سے مزید واقف ہونا چاہیں تو ان کی کتاب تنقیدی دبستان بھی ضرور دیکھیے، جس میں اردو تنقید کے مختلف مکاتبِ فکر اور رجحانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
کتاب کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ ہمارے ادب میں عورت کی جو تصویر پیش کی جاتی ہے وہ اکثر مردانہ نقطۂ نظر کی پیداوار ہوتی ہے۔ مصنف مختلف ادوار کے شاعروں اور افسانہ نگاروں کی تخلیقات کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں اور دکھاتے ہیں کہ کہیں عورت کو محض حسن کا استعارہ بنایا گیا، کہیں اسے قربانی کی دیوی کے روپ میں پیش کیا گیا اور کہیں اس کی اپنی آواز کو دانستہ یا نادانستہ دبایا گیا۔ یہ تجزیے پڑھتے ہوئے قاری کو بار بار اپنے اردگرد کے معاشرے کی جھلک نظر آتی ہے، اور یہی اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ یہ کتاب سے نکل کر زندگی سے جوڑتی ہے۔
ایک عام قاری کے ذہن میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ آخر تنقید کی ایسی کتابیں پڑھنے کا عملی فائدہ کیا ہے؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ جب ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ادب میں عورت کی تصویر کیسے اور کیوں بنتی ہے تو ہم اپنے روزمرہ کے رویوں کو بھی بہتر طور پر پرکھنے لگتے ہیں۔ ڈاکٹر سلیم اختر نے مشکل نظریاتی باتوں کو بھی عام فہم اور رواں انداز میں بیان کیا ہے، اس لیے یہ کتاب صرف محققین کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے مفید ہے جو اردو ادب سے سچی محبت رکھتا ہے۔
اس کتاب کو پڑھتے ہوئے مجھے بار بار یہ احساس ہوا کہ اردو تنقید میں عورت کے موضوع پر اتنی سنجیدگی اور گہرائی سے بہت کم لکھا گیا ہے۔ اسی ضمن میں ڈاکٹر وزیر آغا کی کتاب نظم جدید کی کروٹیں کا ذکر بھی بے محل نہ ہوگا، جس میں جدید اردو نظم کے بدلتے ہوئے رجحانات اور فکری کروٹوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ دونوں کتابیں مل کر قاری کو اردو ادب کے جدید دور کی فکری فضا سمجھنے میں مدد دیتی ہیں، اسی لیے میں انھیں ایک ساتھ پڑھنے کی سفارش کروں گا۔
طلبہ اور محققین کے لیے یہ کتاب خاص طور پر قیمتی ہے کیونکہ اس میں حوالوں اور مثالوں کی کثرت ہے۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے وہ طلبہ جو اردو تنقید یا نسائی مطالعات کے موضوعات پر کام کر رہے ہیں، انھیں اس کتاب سے اپنے تحقیقی مقالوں کے لیے بہت سا کام کا مواد مل سکتا ہے۔ مصنف نے ہر دعوے کی پشت پر ٹھوس مثالیں رکھی ہیں اور ہر مثال کو متن کے حوالے سے پرکھا ہے، جس سے کتاب کی علمی وقعت اور بڑھ جاتی ہے۔
فائل اردو پر ہماری کوشش یہی ہے کہ اردو کی ایسی ہی معیاری، نایاب اور فکر انگیز کتابیں قارئین تک پہنچائی جائیں۔ "عورت جنس کے آئینے میں" کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دیے گئے ڈاؤن لوڈ بٹن کو استعمال کریں۔ کتاب پڑھیے، اس پر غور کیجیے اور اگر آپ کے ذہن میں کوئی سوال یا رائے پیدا ہو تو ہم سے ضرور شیئر کیجیے۔ اچھی کتابیں پڑھنے ہی سے ادب زندہ رہتا ہے، اور آپ کا ایک مخلصانہ تبصرہ کسی اور قاری کے لیے بھی رہنمائی بن سکتا ہے۔

No comments:
Post a Comment