Parliament Se Bazar e Husan Tak by Shafqat Rasool
🔊توجہ فرمائیں
اپنے تخلیقی، تحقیقی،تنقیدی اور تجزیاتی مضامین و آرٹیکل ہمیں اس ایڈریس پر بھیج کر اردو زبان وادب کی ترویج وترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔
Fileurdu66@gmail.com
شکریہ
کتابوں کی دنیا میں کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جن کا نام ہی ان کی کہانی بیان کر دیتا ہے۔ "پارلیمنٹ سے بازارِ حُسن تک" بھی ایسی ہی ایک کتاب ہے۔ نام سنتے ہی ذہن میں ایک سوال اٹھتا ہے — اقتدار کے ایوانوں سے لے کر رنگینیوں کی دنیا تک کا یہ سفر کیسا ہے؟ اور اس سفر کے مسافر کون ہیں؟ مصنف شفقت رسول نے اس کتاب میں پاکستانی سیاست کے انہی پوشیدہ گوشوں پر روشنی ڈالی ہے جن پر عام طور پر پردہ پڑا رہتا ہے۔
یہ کتاب دراصل سیاستدانوں کی دوہری زندگی کا احاطہ کرتی ہے۔ ایک طرف پارلیمنٹ کے ایوان، جہاں تقریریں ہوتی ہیں، دعوے کیے جاتے ہیں اور قوم کی خدمت کے نعرے لگتے ہیں؛ دوسری طرف وہ نجی محفلیں اور رنگین راتیں جن کی خبر عوام تک کم ہی پہنچتی ہے۔ شفقت رسول نے تین سو سے زائد صفحات پر محیط اس کتاب میں اسی تضاد کو موضوع بنایا ہے — کہ اقتدار کے نشے میں انسان کیسے بدل جاتا ہے، اور عوامی خدمت کے دعوے دار نجی زندگی میں کیا گل کھلاتے ہیں۔
مصنف کے بارے میں اتنا کہنا کافی ہوگا کہ انھیں اقتدار کی راہداریوں کا قریبی مشاہدہ حاصل رہا ہے۔ ان کی تحریر میں ایک صحافی کی جستجو اور ایک مبصر کی بے باکی دونوں نظر آتی ہیں۔ وہ واقعات بیان کرتے ہیں، کرداروں کے اشارے دیتے ہیں، اور قاری کو خود فیصلہ کرنے کا موقع دیتے ہیں۔ یہی اس کتاب کی مقبولیت کا راز ہے — یہ محض الزام تراشی نہیں، ایک دستاویزی انداز میں لکھی گئی انکشافاتی تحریر ہے۔
جو قاری پاکستانی سیاست کے اندرونی حالات میں دلچسپی رکھتا ہے، اس کے لیے کوثر نیازی کی کتاب اور لائن کٹ گئی بھی فائل اردو پر دستیاب ہے۔ کوثر نیازی خود سیاست کے کھلاڑی رہے ہیں، اور ان کی یہ یادداشت اقتدار کے ایوانوں کی ایک اور جھلک پیش کرتی ہے۔ دونوں کتابیں ایک ساتھ پڑھی جائیں تو پاکستانی سیاست کی تصویر کے کئی رخ سامنے آتے ہیں — ایک طرف اندر کے آدمی کی گواہی، دوسری طرف مبصر کا تجزیہ۔
اس کتاب کا ایک اہم پہلو مالی بدعنوانی کا بھی ہے۔ مصنف نے دکھایا ہے کہ رنگین مزاجی اور مالی بے قاعدگی اکثر ایک ہی سکے کے دو رخ ہوتے ہیں — جہاں نجی زندگی میں بے راہ روی ہو، وہاں سرکاری خزانے کی حفاظت کی توقع عبث ہے۔ یہ نکتہ اس کتاب کو محض سنسنی خیز کہانیوں کے مجموعے سے بڑھا کر ایک سنجیدہ سیاسی دستاویز بنا دیتا ہے۔ قاری چاہے تو اسے تفریح کے لیے پڑھے، چاہے عبرت کے لیے — سبق دونوں صورتوں میں موجود ہے۔
اقتدار کی نفسیات کو سمجھنے کے خواہش مند قارئین کے لیے کرنل اشفاق حسین کی کتاب اقتدار کی مجبوریاں بھی دیکھنے کے قابل ہے، جس میں طاقت کے کھیل کے ایک اور زاویے کو اجاگر کیا گیا ہے۔ "پارلیمنٹ سے بازارِ حُسن تک" کے ساتھ ان کتب کا مطالعہ قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ اقتدار انسان کو کیسے بدلتا ہے — اور کیوں بدلتا ہے۔
یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ اس کتاب کے بعض حصے کمزور دل والوں کے لیے نہیں۔ مصنف نے پردہ اٹھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اور کہیں کہیں بیان کافی بے باک ہو جاتا ہے۔ مگر یہی بے باکی اس کی صداقت کی دلیل بھی ہے — مصنف نے وہ لکھا ہے جو اس نے دیکھا، چاہے وہ کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔ ایسی کتابیں معاشرے کا آئینہ ہوتی ہیں، چاہے وہ آئینہ ہمیں اچھا لگے یا برا۔
"پارلیمنٹ سے بازارِ حُسن تک" شفقت رسول کی یہ مشہور کتاب یہاں سے پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے — نیچے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پر کلک کیجیے۔ مگر ایک گزارش: اسے صرف سنسنی کے لیے نہ پڑھیے؛ اسے اس نظر سے پڑھیے کہ ہمارے سیاسی نظام کی خرابیاں کہاں ہیں اور ان کا علاج کیا ہو سکتا ہے۔
مختصر یہ کہ یہ کتاب پاکستانی سیاست کے ایک تاریک باب کی دستاویز ہے۔ یہ ہر اس شہری کے لیے ہے جو ووٹ دیتا ہے، جو اپنے نمائندوں سے سوال کرنا چاہتا ہے، اور جو یہ سمجھنا چاہتا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں کے پیچھے کیا ہوتا ہے۔ پڑھیے، سوچیے، اور فیصلہ خود کیجیے۔

No comments:
Post a Comment