Matti Ka Diya By Mirza Adeeb Pdf Free Download
مٹی کا دیا مرزا ادیب کے یادگار افسانوں کا مجموعہ
اردو ادب کے افق پر مرزا ادیب ایک ایسا نام ہے جو ڈرامہ نگاری کے ساتھ ساتھ افسانہ نگاری میں بھی اپنی مثال آپ ہے۔ انیس سو تین میں لاہور کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہونے والے مرزا ادیب نے اپنی تحریروں سے اردو نثر کو نئی جہتیں عطا کیں۔ وہ ماہنامہ "شاہکار" کے بانی مدیر تھے اور تحریکِ ترقی پسند مصنفین کے سرگرم رکن کی حیثیت سے ادب کو محض تفریح نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح اور شعور کی بیداری کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ یہی فکر ان کے افسانوں کی روح ہے۔
مٹی کا دیا ان کا وہ مشہور افسانوی مجموعہ ہے جس نے شائع ہوتے ہی اردو کے ادبی حلقوں میں دھوم مچا دی۔ اس مجموعے کا عنوان خود ایک علامت ہے؛ مٹی کا دیا وہ چراغ ہے جو مٹی سے بنتا ہے، ٹوٹ بھی سکتا ہے، مگر جب تک جلتا ہے اندھیرے میں روشنی بکھیرتا ہے۔ مرزا ادیب کے افسانوں کے کردار بھی ایسے ہی ہیں: عام، مٹی سے جڑے انسان جو غربت، ناانصافی اور حالات کی سختیوں کے باوجود اپنی انسانیت کی لو بجھنے نہیں دیتے۔
اس مجموعے کے افسانوں کا مرکزی موضوع متوسط اور نچلے متوسط طبقے کی زندگی ہے۔ مرزا ادیب نے دکان دار، کلرک، مزدور اور بے روزگار نوجوان جیسے کرداروں کو اپنے افسانوں کا ہیرو بنایا۔ ان کے ہاں کہانی کسی غیر معمولی واقعے پر نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کے ان لمحوں پر کھڑی ہوتی ہے جہاں انسان کا ضمیر اس کے مفاد سے ٹکراتا ہے۔ یہی اخلاقی کشمکش ان کے فن کی جان ہے اور یہی وہ خوبی ہے جس نے اردو افسانے کی روایت کو نئی فکری گہرائی عطا کی۔
اس مجموعے کا سب سے مشہور افسانہ "پانی میں قند" ہے جسے اردو کے بہترین افسانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں ایک مفلس مگر خوددار انسان کی کہانی بیان ہوئی ہے جو غربت کے باوجود اپنے وقار پر آنچ نہیں آنے دیتا۔ مرزا ادیب نے دکھایا ہے کہ اصل مٹھاس دولت میں نہیں بلکہ انسان کے کردار کی بلندی میں ہوتی ہے۔ یہ افسانہ آج بھی اردو کے نصاب اور ادبی مجلسوں میں پڑھا اور سراہا جاتا ہے۔
مرزا ادیب کے ہاں عورت کا کردار بھی بڑی محبت اور احترام سے پیش ہوا ہے۔ ماں کی ممتا، بیوی کی وفا اور بیوہ کی صبر آزما زندگی ان کے افسانوں میں بار بار موضوع بنی ہے۔ وہ عورت کو کمزور مخلوق نہیں بلکہ قربانی اور حوصلے کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اسی لیے ان کے افسانے مرد قارئین کے ساتھ ساتھ خواتین میں بھی بے حد مقبول ہوئے۔
زبان و اسلوب کے اعتبار سے مرزا ادیب کی نثر سادہ، رواں اور دل کو چھو لینے والی ہے۔ ڈرامہ نگار ہونے کے ناتے ان کے مکالمے بے حد فطری اور جاندار ہوتے ہیں؛ پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ کردار آپ کے سامنے بول رہے ہیں۔ وہ علامت اور ایہام سے بھی کام لیتے ہیں مگر کبھی تصنع کا شکار نہیں ہوتے۔ ان کا ہر افسانہ اختصار کے ساتھ ایک مکمل دنیا پیش کرتا ہے۔
ان افسانوں میں چالیس کی دہائی کے ہندوستان کا معاشرتی منظرنامہ بھی جھلکتا ہے۔ آزادی کی تحریک، بے روزگاری، مہنگائی اور طبقاتی فرق جیسے مسائل ان کہانیوں کے پس منظر میں موجود ہیں۔ مرزا ادیب نے ان مسائل کو نعرے بازی کے بغیر، انسانی کہانیوں کے ذریعے پیش کیا جو ان کے فن کی پختگی کا ثبوت ہے۔
ادبی اہمیت کے لحاظ سے مٹی کا دیا ایم اے اردو کے طلبہ اور مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرنے والوں کے لیے بھی نہایت مفید مجموعہ ہے۔ افسانہ نگاری کے ارتقا پر لکھے جانے والے تحقیقی مقالوں میں اس مجموعے کا حوالہ بار بار ملتا ہے۔ جو قاری سنجیدہ اردو افسانہ پڑھنا چاہتا ہے اس کے لیے یہ کتاب ایک لازمی مطالعہ ہے۔
اگر آپ افسانوں کے ساتھ ساتھ طویل کہانیوں کے بھی دلدادہ ہیں تو ہماری ویب سائٹ پر اردو ناول وبا بھی پی ڈی ایف میں دستیاب ہے۔ اسی طرح عالمی ادب کے اردو تراجم میں دلچسپی رکھنے والے قارئین ناول گیارہ منٹ سے بھی لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔
فائل اردو پر مٹی کا دیا کا مکمل نسخہ پی ڈی ایف فری ڈاؤن لوڈ کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ آپ اسے اپنے موبائل یا کمپیوٹر پر بآسانی پڑھ سکتے ہیں اور اردو ادب کے چاہنے والوں تک اس کا فیض پہنچا سکتے ہیں۔ مرزا ادیب کے یہ افسانے آپ کو ہنسائیں گے بھی، رلائیں گے بھی اور سب سے بڑھ کر سوچنے پر مجبور کریں گے۔
آخر میں یہی کہیں گے کہ مٹی کا دیا محض ایک افسانوی مجموعہ نہیں بلکہ انسانی زندگی کی سچائیوں کا آئینہ ہے۔ جو قاری ایک بار اسے پڑھ لے وہ مرزا ادیب کے فن کا گرویدہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ ابھی ڈاؤن لوڈ کریں اور اردو کے اس شاہکار سے لطف اندوز ہوں۔

No comments:
Post a Comment