اردو ناول صفر کی توہین اشعر نجمی

 

URDU NOVEL Sifar Ki Touhin By Ashar Najmi pdf free download

اردو ناول کی روایت میں ہر دور میں نئے لکھنے والوں نے نئی آوازیں شامل کی ہیں۔ اشعر نجمی انہی نوجوان ناول نگاروں میں ایک نمایاں نام ہیں جنھوں نے اپنے قلم سے اردو فکشن میں تازگی پیدا کی ہے۔ ان کی کہانیوں اور ناولوں میں نوجوان نسل کے مسائل، ان کے خواب اور ان کی بے چینی نمایاں نظر آتی ہے۔ "صفر کی توہین" ان کا وہ ناول ہے جس میں انھوں نے ہمارے معاشرے کے ان چہروں کو بے نقاب کیا ہے جنھیں ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔

ناول کا عنوان ہی قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ "صفر" وہ ہندسہ ہے جسے ہم اکثر بے وقعت سمجھتے ہیں، مگر ریاضی میں یہی صفر دوسرے ہندسوں کے ساتھ مل کر ان کی قیمت بڑھا دیتا ہے۔ اسی طرح ہمارے معاشرے میں بھی بہت سے انسان ایسے ہیں جنھیں ہم "صفر" سمجھ کر ان کی توہین کرتے ہیں، مگر حقیقت میں انھی کی محنت اور قربانیوں پر یہ سماج کھڑا ہے۔ ناول اسی فکر کو کہانی کے قالب میں ڈھال کر پیش کرتا ہے۔

اس ناول کے کردار ہمارے ارد گرد بکھرے ہوئے عام انسان ہیں۔ ان کی خوشیاں چھوٹی ہیں اور دکھ بڑے، ان کے خواب سادہ ہیں مگر ان کی تکمیل مشکل۔ اشعر نجمی نے ان کرداروں کو بڑی ہمدردی اور سچائی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ قاری جب ان کرداروں کی زندگی میں داخل ہوتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنے ہی محلے، اپنے ہی شہر کی کہانی پڑھ رہا ہو۔ ان کے دکھ ہمارے دکھ ہیں اور ان کی خوشیاں ہماری خوشیاں۔ ناول پڑھتے ہوئے قاری کبھی مسکراتا ہے اور کبھی اس کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ یہی ایک کامیاب ناول کی پہچان ہے کہ وہ اجنبی کرداروں کو بھی اپنا بنا لے۔

ناول کا بیانیہ رواں اور دلچسپ ہے۔ مصنف نے کہانی کو اس طرح بنایا ہے کہ قاری ایک باب پڑھ کر اگلے باب کی طرف خود بخود کھنچا چلا جاتا ہے۔ مصنف نے ماضی اور حال کی منظر کشی کو اس خوبصورتی سے جوڑا ہے کہ کہانی میں کہیں بھی جھول محسوس نہیں ہوتا۔ زبان سادہ اور عام فہم ہے مگر جہاں ضرورت ہوتی ہے وہاں جذباتی گہرائی بھی پیدا کر دیتی ہے۔ مکالمے فطری ہیں اور منظر کشی ایسی کہ پڑھنے والا خود کو واقعات کے بیچ پاتا ہے۔

اردو میں سماجی ناولوں کی روایت بہت مضبوط ہے اور "صفر کی توہین" اسی روایت کی ایک قابلِ قدر کڑی ہے۔ یہ ناول ہمیں اپنے رویوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ ہم روزانہ کتنے ایسے انسانوں سے ملتے ہیں جن کی ہم قدر نہیں کرتے؟ یہ ناول اسی سوال کو کہانی کے ذریعے اٹھاتا ہے اور قاری کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔ ایسے ناول صرف کہانی نہیں سناتے بلکہ سوچنے کا نیا زاویہ بھی دیتے ہیں۔ یہی ادب کا اصل کام ہے کہ وہ انسان کو انسان سے جوڑے۔

اشعر نجمی نوجوان نسل کے نمائندہ ادیب ہیں اور ان کی تحریروں میں آج کے عہد کی دھڑکن صاف سنائی دیتی ہے۔ وہ روایتی موضوعات کو نئے زاویوں سے دیکھتے ہیں اور ان کا اسلوب تازہ دم ہے۔ اردو فکشن کے قارئین کے لیے ان کا یہ ناول ایک خوشگوار اضافہ ہے۔ امید ہے کہ آنے والے برسوں میں ان کے قلم سے اردو ادب کو مزید قیمتی تحفے ملیں گے۔

اگر آپ اردو ناول پڑھنے کے شوقین ہیں اور ایک اچھے سماجی ناول کی تلاش میں ہیں تو "صفر کی توہین" ضرور پڑھیے۔ اس کتاب کی پی ڈی ایف مفت ڈاؤن لوڈ کیجیے اور اشعر نجمی کے اس شاہکار ناول سے لطف اندوز ہوئیے۔ نیچے دیے گئے ڈاؤن لوڈ بٹن پر کلک کر کے آپ "صفر کی توہین" کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ مفت کر سکتے ہیں۔ پڑھیے اور اپنے دوستوں کے ساتھ بھی شیئر کیجیے۔

/>

DOWNLOAD

No comments: