Mazahmti Adab Urdu By Rasheed Amjid pdf free download
DOWNLOAD
ادب محض تفریح کا نام نہیں، وہ سماج کا آئینہ بھی ہے اور اس کی اصلاح کا ذریعہ بھی۔ جب معاشرے میں ظلم، جبر اور ناانصافی بڑھ جائے تو قلم کار کا قلم تلوار بن جاتا ہے اور اس کے الفاظ احتجاج کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ اردو ادب میں اسی احتجاجی روایت کو "مزاحمتی ادب" کہا جاتا ہے۔ رشید امجد کی کتاب "مزاحمتی ادب" اردو کے اسی مزاحمتی ادب کا ایک جامع تنقیدی و تحقیقی مطالعہ ہے۔
مزاحمتی ادب سے مراد وہ ادب ہے جو کسی بھی قسم کے جبر، استبداد، استعمار اور سماجی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتا ہے۔ یہ مزاحمت کبھی کھلے الفاظ میں ہوتی ہے اور کبھی علامتوں اور استعاروں کے پردے میں۔ اردو شاعری میں یہ روایت بہت توانا رہی ہے۔ ہمارے شاعروں نے آمریت کے دور میں بھی حق گوئی سے دریغ نہیں کیا اور ان کی نظموں نے مظلوموں کو حوصلہ دیا۔ غزل، نظم، مرثیہ اور مثنوی، ہر صنف میں ہمیں مزاحمت کے رنگ ملتے ہیں۔ کبھی یہ مزاحمت براہ راست ہوتی ہے اور کبھی طنز و کنایے کے لبادے میں۔ افسانے اور ناول میں بھی یہی جذبہ مختلف صورتوں میں نظر آتا ہے۔
رشید امجد نے اس کتاب میں اردو مزاحمتی ادب کے مختلف پہلوؤں کا گہرائی سے جائزہ لیا ہے۔ انھوں نے یہ دیکھنے کی کوشش کی ہے کہ اردو کے ادیبوں اور شاعروں نے اپنے اپنے عہد کے جبر کے خلاف قلم کے ذریعے کیسے مزاحمت کی۔ یہ کتاب محض تعریف و توصیف پر مبنی نہیں بلکہ اس میں تنقیدی بصیرت کے ساتھ ادب کے فنی محاسن اور فکری گہرائی دونوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ یہی اس کتاب کو محض ایک معلوماتی کتاب سے بڑھا کر ایک سنجیدہ تنقیدی کام بناتا ہے۔
رشید امجد بنیادی طور پر ایک افسانہ نگار ہیں اور تخلیقی ادیب ہونے کے ناتے وہ ادب کی باریکیوں کو ایک عام نقاد سے بہتر سمجھتے ہیں۔ ان کی تنقید میں تخلیق کار کا تجربہ جھلکتا ہے۔ وہ متن کو صرف باہر سے نہیں دیکھتے بلکہ اس کے اندر اتر کر اس کی روح تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کتاب میں بھی ان کا یہی اسلوب نمایاں ہے۔ انھوں نے مزاحمتی ادب کے نمونوں کا انتخاب بڑی سوجھ بوجھ سے کیا ہے اور ہر نمونے پر ایسی گفتگو کی ہے جو قاری کے ذہن کے دریچے کھول دیتی ہے۔
اردو ادب کے طالب علموں اور محققین کے لیے یہ کتاب ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ جو طلبہ اردو تنقید و تحقیق کے میدان میں قدم رکھنا چاہتے ہیں ان کے لیے "مزاحمتی ادب" کا مطالعہ نہایت مفید ثابت ہوگا۔ اس میں تنقیدی اصطلاحات کا درست استعمال، حوالہ جات کی پابندی اور استدلال کی مضبوطی وہ خوبیاں ہیں جو ایک اچھی تحقیقی کتاب میں ہونی چاہئیں۔ اس کتاب کی زبان سادہ اور عام فہم ہے، اس لیے عام قاری بھی اسے آسانی سے پڑھ سکتا ہے۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالہ نگار بھی اس کتاب سے بھرپور استفادہ کر سکتے ہیں۔
ہمارے عہد میں جب سچ کہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، مزاحمتی ادب کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ یہ کتاب ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اردو کے ادیبوں نے ہر دور میں ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور قلم کی حرمت کو برقرار رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مزاحمتی ادب کا مطالعہ صرف ادبی ذوق کی تسکین نہیں بلکہ ایک فکری تربیت بھی ہے۔ ایسی کتابیں نئی نسل کو اپنے ادبی ورثے سے جوڑتی ہیں اور ان میں حق گوئی کا جذبہ پیدا کرتی ہیں۔
اگر آپ اردو تنقید و تحقیق سے دلچسپی رکھتے ہیں یا مزاحمتی ادب کے موضوع پر ایک مستند کتاب کی تلاش میں ہیں تو رشید امجد کی "مزاحمتی ادب" ضرور پڑھیے۔ اس کتاب کی پی ڈی ایف مفت ڈاؤن لوڈ کیجیے اور اردو کے مزاحمتی ادب کے اس تنقیدی مطالعے سے مستفید ہوئیے۔ نیچے دیے گئے ڈاؤن لوڈ بٹن پر کلک کر کے آپ "مزاحمتی ادب اردو رشید امجد" کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ مفت کر سکتے ہیں۔ پڑھیے اور اسے اپنے دوستوں اور طالب علم ساتھیوں کے ساتھ ضرور شیئر کیجیے۔

No comments:
Post a Comment