اکیسویں صدی میں اردو ناول اور دیگر مضامین — ایک تعارف
اردو ناول کی تاریخ ڈیڑھ صدی سے بھی پرانی ہے، مگر اکیسویں صدی میں اس صنف نے غیر معمولی تیزی سے کروٹ بدلی ہے۔ نئے موضوعات سامنے آئے ہیں، لکھنے کے نئے ڈھنگ اختیار کیے گئے ہیں، اور نئی نسل کے قلم کاروں نے پرانی روایتوں کو نئے سوالوں سے چھیڑا ہے۔ ایسے میں یہ پوچھنا فطری ہے کہ آج کا اردو ناول کن راہوں پر چل رہا ہے۔ رحمن عباس کی زیرِ نظر کتاب "اکیسویں صدی میں اردو ناول اور دیگر مضامین" اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔
رحمن عباس کا شمار اردو کے ان چند اہلِ قلم میں ہوتا ہے جو تخلیق اور تنقید دونوں میدانوں میں سرگرم ہیں۔ ناول نگار ہونے کی حیثیت سے وہ ناول کی بناوٹ، اس کے کرداروں اور اس کی فنی باریکیوں کو اندر سے جانتے ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ ان کی تنقید میں ایک عملی بصیرت جھلکتی ہے جو محض کتابی علم سے حاصل نہیں ہوتی۔ یہ مجموعہ ان کے ایسے ہی مضامین پر مشتمل ہے جو اردو ناول کے نئے دور کو سمجھنے میں قاری کی مدد کرتے ہیں۔
کتاب کے مضامین کا دائرہ خاصا وسیع ہے۔ کہیں اکیسویں صدی کے نمایاں ناولوں کا تجزیہ ہے، کہیں ناول نگاری کے بدلتے ہوئے رجحانات پر غور کیا گیا ہے۔ عالمگیریت، شہری زندگی کی بے چینی، شناخت کے بحران، عورت کی بدلتی ہوئی آواز، اور تاریخ و یادداشت کے نئے بیانیے — یہ وہ موضوعات ہیں جو آج کے اردو ناول میں بار بار ابھرتے ہیں، اور رحمن عباس نے ان پر ٹھہر کر سوچا ہے۔
اردو میں تنقید کی روایت بہت پرانی اور تابناک ہے۔ ہر دور نے اپنے ناقد پیدا کیے ہیں جنھوں نے ادب کو دیکھنے کی نئی آنکھ عطا کی۔ اسی روایت کے تسلسل میں رحمن عباس کی یہ کتاب بھی ایک اہم کڑی ہے۔ جو قارئین اردو تنقید کے کلاسیکی مباحث سے دلچسپی رکھتے ہیں، ان کے لیے اردو کی عمرانی تنقید کا مطالعہ بھی نہایت مفید رہے گا۔
اس کتاب کی ایک بڑی خوبی اس کا تحقیقی پہلو ہے۔ مضامین میں حوالوں اور شواہد کا مناسب اہتمام کیا گیا ہے، اس لیے یہ مجموعہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ و طالبات کے لیے بھی کارآمد ہے۔ جو لوگ اردو ناول پر تحقیقی کام کر رہے ہیں، انھیں یہاں نئے زاویے اور نئے سوالات ملیں گے۔ تنقیدی اصطلاحات کی درست تفہیم کے لیے پروفیسر انور جمال کی ادبی اصطلاحات بھی ایک مستند حوالہ ہے۔
زبان کے اعتبار سے بھی یہ کتاب قاری دوست ہے۔ تنقیدی مضامین میں اکثر بوجھل اصطلاحات کا انبار لگا دیا جاتا ہے جس سے عام قاری گھبرا کر کتاب بند کر دیتا ہے، مگر رحمن عباس نے سادہ اور رواں اردو میں اپنی بات کہی ہے۔ مشکل بات کو آسان لفظوں میں کہنا بھی ایک فن ہے، اور اس کتاب میں یہ فن جگہ جگہ نظر آتا ہے۔ جو احباب اردو ادب کے فنی علوم — علم بیان، علم بدیع اور علم عروض — کی تفصیل جاننا چاہیں، ان کے لیے یہاں ایک مفصل کتاب بھی دستیاب ہے۔
ناول محض کہانی نہیں ہوتا؛ وہ اپنے عہد کا آئینہ بھی ہوتا ہے۔ اکیسویں صدی کے اردو ناول نے سماج کے جن زخموں اور خوابوں کو اپنا موضوع بنایا ہے، ان کا جائزہ لیے بغیر ہم اپنے زمانے کو پوری طرح سمجھ نہیں سکتے۔ ڈاکٹر وزیر آغا جیسے بزرگ ناقدین کی ڈالی ہوئی بنیادوں پر آج کے ناقدین نئی منزلیں تعمیر کر رہے ہیں، اور رحمن عباس کی یہ کتاب اسی سلسلے کی ایک تازہ مثال ہے۔
اردو تنقید کے میدان میں بڑے ناقدین کے کارنامے کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسی طرح ناول کی تنقید میں رحمن عباس کی یہ کتاب ایک تازہ اور قابلِ قدر اضافہ ہے۔ ایک سو باون صفحات پر مشتمل یہ مجموعہ حجم میں مختصر ضرور ہے، مگر ہر مضمون اپنے موضوع کے ساتھ پورا انصاف کرتا ہے اور قاری کو نئے زاویوں سے سوچنے پر اکساتا ہے۔
اگر آپ اردو ناول سے محبت کرتے ہیں یا تنقید و تحقیق کے طالب علم ہیں، تو یہ کتاب آپ کی ذاتی لائبریری کا حصہ ہونی چاہیے۔ فائل اردو کی روایت کے مطابق یہ کتاب پی ڈی ایف فری ڈاؤن لوڈ کے لیے پیش کی جا رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ قارئین اس سے مستفید ہو سکیں۔ نیچے دیے گئے ڈاؤن لوڈ بٹن سے کتاب حاصل کیجیے اور اردو ادب کے اس نئے دور کو قریب سے دیکھیے۔

No comments:
Post a Comment