اردو ادب بیسویں صدی میں از پروفیسر حق نواز



Urdu Adab Besvien Sadi Me By Professor Haq Nawaz

اردو ادب بیسویں صدی میں از پروفیسر حق نواز — تعارف و جائزہ

اردو ادب کی بیسویں صدی ایک ایسی بھرپور اور ہنگامہ خیز صدی ہے جس میں اردو شاعری، افسانے، ناول اور تنقید نے نئے راستے تلاش کیے۔ پروفیسر حق نواز کی کتاب اردو ادب بیسویں صدی میں اسی عہد کے ادبی رجحانات، تحریکوں اور نمائندہ ادیبوں کا ایک جامع اور مدلل جائزہ پیش کرتی ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ادبی تاریخ کے طالب علموں کے لیے مفید ہے بلکہ ہر اس قاری کے لیے بھی دلچسپی کا سامان رکھتی ہے جو اردو ادب کے جدید دور کو سمجھنا چاہتا ہے۔

مصنف نے بیسویں صدی کے اردو ادب کو مختلف ادوار اور تحریکوں میں تقسیم کر کے ان کا تنقیدی محاکمہ کیا ہے۔ ترقی پسند تحریک، حلقہ ارباب ذوق، جدیدیت اور مابعد جدیدیت جیسے رجحانات پر مصنف کی گرفت واضح نظر آتی ہے۔ ہر تحریک کے پس منظر، اس کے اہم نمائندوں اور ان کی تخلیقات کا تجزیہ اس انداز میں کیا گیا ہے کہ قاری کو اس دور کی ادبی فضا کا پورا احساس ہو جاتا ہے۔ یہی اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ یہ خشک تاریخی بیان کے بجائے زندہ تنقیدی مکالمہ پیش کرتی ہے۔

پروفیسر حق نواز نے شاعری کے باب میں بیسویں صدی کے اہم شعرا کے فن اور فکر دونوں پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔ اسی طرح نثر کے حوالے سے افسانے اور ناول کے ارتقا پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ بیسویں صدی میں اردو افسانے نے جو سفر طے کیا اسے سمجھنے کے لیے اردو افسانہ ایک صدی کا قصہ از ڈاکٹر انوار احمد بھی ایک نہایت مفید کتاب ہے جس میں افسانے کی صدی بھر کی تاریخ کو سمیٹا گیا ہے۔

کتاب کا ایک اہم باب مزاحمتی ادب کے حوالے سے ہے جس میں مصنف نے بتایا ہے کہ بیسویں صدی کے سیاسی و سماجی حالات نے ادب کو کس طرح متاثر کیا۔ اس موضوع پر مزید مطالعے کے خواہشمند قارئین کے لیے مزاحمتی ادب اردو از رشید امجد بھی پڑھنے کے لائق ہے۔ اسی طرح پاکستان کے تناظر میں اردو ادب کی تاریخ جاننے کے لیے پاکستانی اردو ادب کی تاریخ از انیس ناگی ایک مستند حوالہ ہے۔

مصنف کا اسلوب سادہ، رواں اور علمی ہے۔ انہوں نے ہر دعوے کو مثالوں اور حوالوں سے ثابت کیا ہے جس سے کتاب کی تحقیقی حیثیت مزید مستحکم ہوتی ہے۔ بیسویں صدی کے اردو ادب پر اردو میں جو تحقیقی کام ہوا ہے اس میں یہ کتاب ایک معتبر اضافہ ہے اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں بھی اس کی اہمیت مسلمہ ہے۔

تنقید و تحقیق کے طالب علموں کے لیے یہ کتاب اس لیے بھی قیمتی ہے کہ اس میں ادبی اصطلاحات اور تحریکوں کی وضاحت نہایت سلیقے سے کی گئی ہے۔ جدیدیت اور مابعد جدیدیت جیسے پیچیدہ موضوعات کو مصنف نے عام فہم انداز میں بیان کیا ہے۔ جو قاری اردو تنقید کے بنیادی مباحث سے واقفیت حاصل کرنا چاہتا ہے اسے اس کتاب سے ضرور استفادہ کرنا چاہیے۔

بیسویں صدی اردو ادب کی وہ صدی ہے جس میں اقبال، فیض، منٹو، کرشن چندر، عصمت چغتائی اور انتظار حسین جیسے بڑے نام سامنے آئے۔ پروفیسر حق نواز نے ان ادیبوں کے فن کا جائزہ ان کے عہد کے تناظر میں لیا ہے۔ یہ کتاب قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ ادب اپنے عہد کی پیداوار ہوتا ہے اور عہد کے بدلنے سے ادب کے رجحانات بھی بدل جاتے ہیں۔

کتاب کی ترتیب بھی قابل تعریف ہے۔ ہر باب ایک خاص تحریک یا صنف کے گرد گھومتا ہے اور باب کے آخر میں حاصل مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ اس ترتیب کی وجہ سے قاری آسانی سے کسی بھی دور یا تحریک کا مطالعہ الگ سے بھی کر سکتا ہے۔ حوالہ جات اور کتابیات کی فہرست محققین کے لیے مزید تحقیق کے دروازے کھولتی ہے۔

اگر آپ اردو ادب، تنقید اور تحقیق میں دلچسپی رکھتے ہیں تو اردو ادب بیسویں صدی میں از پروفیسر حق نواز آپ کی لائبریری کا لازمی حصہ ہونی چاہیے۔ اس کتاب کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دیے گئے ڈاؤن لوڈ بٹن پر کلک کریں۔ فائل اردو پر اردو ادب کی مزید تنقیدی و تحقیقی کتب بھی مفت دستیاب ہیں۔

Pdf

DOWNLOAD


OR


READ ONLINE

 

No comments: