فن صحافت ڈاکٹر عبدالسلام خورشید



 FUN E SAHAFAT BY DR ABDUL SALAM KHURSHID  Pdf FREE DOWNLOAD

صبح کے وقت اخبار کی ورق گردانی ایک پرانی عادت ہے، مگر اس عادت کے پیچھے ایک پورا فن چھپا ہوا ہے جسے عام قاری اکثر محسوس نہیں کرتا۔ خبر کہاں سے آتی ہے، اسے کس طرح پرکھا جاتا ہے، سرخی کیوں اسی لفظ سے بنتی ہے اور اداریہ کس لہجے میں لکھا جاتا ہے، یہ سب سوالات صحافت کے طالب علم کے ذہن میں بار بار اٹھتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام خورشید کی کتاب فن صحافت انہی سوالوں کا سیدھا اور سادہ جواب ہے۔ یہ کتاب صحافت کو کسی اونچی اصطلاح میں نہیں لپیٹتی، بلکہ اس کے روزمرہ کے کام کو سامنے رکھ کر سمجھاتی ہے کہ اخبار بنتا کیسے ہے اور صحافی سوچتا کیسے ہے۔

کتاب کی سب سے بڑی خوبی اس کی ترتیب ہے۔ مصنف پہلے خبر کی تعریف اور اس کی اقسام پر بات کرتے ہیں، پھر رپورٹنگ کے عملی پہلوؤں کی طرف آتے ہیں۔ خبر کی تلاش، ذرائع سے رابطہ، واقعے کی جگہ پر موجودگی اور پھر اسے صاف زبان میں لکھنا، یہ مراحل کتاب میں اس طرح بیان ہوئے ہیں کہ پڑھنے والا خود کو کسی نیوز روم میں کھڑا محسوس کرتا ہے۔ اس کے بعد اداریہ، کالم، فیچر اور انٹرویو جیسی اصناف کا الگ الگ ذکر آتا ہے، اور ہر صنف کی زبان، لہجہ اور حدود واضح کی جاتی ہیں۔ ایک طالب علم کے لیے یہ ترتیب بڑی سہولت ہے کیونکہ وہ ایک باب پڑھ کر اگلے باب کی طرف قدرتی طور پر بڑھتا جاتا ہے۔

ڈاکٹر خورشید کا انداز نصابی کتابوں کے خشک لہجے سے مختلف ہے۔ وہ جہاں اصول بتاتے ہیں، وہیں ساتھ ہی عملی مثال بھی دیتے ہیں کہ فلاں خبر کو اس طرح لکھا گیا تو اس کا اثر کیا ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب صرف امتحان کی تیاری کے لیے نہیں، بلکہ صحافت کو سمجھنے کے لیے بھی پڑھی جاتی ہے۔ زبان عام فہم ہے، جملے نہ بہت لمبے ہیں نہ بہت مختصر، اور اردو صحافت کی روایت کا ذکر بار بار آتا ہے جس سے قاری کو اپنی زبان کے اخبارات کی تاریخ سے بھی ربط محسوس ہوتا ہے۔

صحافت کے اخلاقی پہلو پر کتاب خاص زور دیتی ہے۔ سچائی، غیر جانب داری، ذرائع کی رازداری اور خبر کی تصدیق جیسے اصول یہاں محض نعرے نہیں، بلکہ روزمرہ کے فیصلوں کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ مصنف صاف کہتے ہیں کہ جلد بازی میں چھپی ہوئی غلط خبر صرف ایک غلطی نہیں ہوتی، بلکہ کسی شخص کی عزت اور معاشرے کے اعتماد کو نقصان پہنچاتی ہے۔ آج کے دور میں جب ہر شخص کے ہاتھ میں خبر پھیلانے کا ذریعہ ہے، یہ بات اور بھی اہم ہو گئی ہے۔ ایک اچھا صحافی وہی ہے جو خبر کی رفتار سے زیادہ اس کی درستگی کا خیال رکھے۔

اردو صحافت کی تاریخ کے حوالے سے یہ کتاب ایک اچھا نقطہ آغاز ہے، اور اس کے ساتھ اردو صحافت کا ارتقاء جیسی تحریریں پڑھنے سے تصویر اور بھی مکمل ہو جاتی ہے۔ ارتقاء کی کہانی میں پہلے اخبارات، آزادی کی تحریک میں صحافیوں کا کردار اور پھر پاکستان کے بعد کے اخبارات کا ذکر آتا ہے، جبکہ فن صحافت اس تاریخ کے اندر کام کرنے والے صحافی کے ہنر پر روشنی ڈالتا ہے۔ دونوں کو ساتھ پڑھنے سے قاری کو نہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ صحافت کہاں سے آئی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں کام کیسے ہوتا ہے۔

طلبہ کے لیے اس کتاب کی افادیت دوہری ہے۔ ایک طرف یہ ماس کمیونیکیشن اور جرنلزم کے نصاب سے براہ راست جڑتی ہے، دوسری طرف سی ایس ایس اور دیگر مقابلے کے امتحانات میں اردو صحافت اور ابلاغ کے سوالات کے لیے بھی یہ ایک مضبوط بنیاد بناتی ہے۔ جو لوگ عملی طور پر اخبار یا آن لائن میڈیا سے وابستہ ہونا چاہتے ہیں، ان کے لیے بھی یہ کتاب ایک رہنما کی طرح ہے۔ اسی موضوع پر صحافت از پروفیسر ظہور الدین کا مطالعہ بھی مفید رہتا ہے، کیونکہ وہاں صحافت کے نظری پہلو کو تعلیمی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ فن صحافت اردو میں صحافت کے فن پر لکھی گئی ایک سادہ، عملی اور پائیدار کتاب ہے۔ اسے پڑھ کر قاری خبر کو صرف پڑھنا نہیں سیکھتا، بلکہ اسے پرکھنا بھی سیکھتا ہے۔ جو احباب اس موضوع میں دلچسپی رکھتے ہیں، ان کے لیے یہ کتاب پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کی صورت میں دستیاب ہے اور اس کا مطالعہ صحافت کی دنیا میں داخلے کا ایک اچھا پہلا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ اخبار کی دنیا بدل رہی ہے، ذرائع بدل رہے ہیں، مگر سچ، تحقیق اور ذمہ داری کے اصول آج بھی وہی ہیں جن کی طرف ڈاکٹر عبدالسلام خورشید نے اس کتاب میں توجہ دلائی ہے۔

DOWNLOAD


OR


READ ONLINE

No comments: