اردو صحافت کا ارتقاء معصوم مراد آبادی

 


Urdu Sahafat Ka Irtiqa By Masoom Murad Abadi PDF FREE download


اردو صحافت کا ارتقاء — معصوم مراد آبادی کی تحقیقی تاریخِ صحافت

اخبار انسان کی صبح کا ایسا ساتھی ہے جس کے بغیر دن کا آغاز ادھورا لگتا ہے۔ چائے کی پیالی ہو اور تازہ اخبار، یہی ہمارے گھروں کی پرانی روایت ہے۔ مگر کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اردو صحافت کا یہ سفر کہاں سے شروع ہوا اور کن کن مراحل سے گزر کر آج یہاں پہنچا؟ معصوم مراد آبادی کی کتاب "اردو صحافت کا ارتقاء" اسی سوال کا جواب ہے — اردو صحافت کی مکمل اور مربوط تاریخ جو قاری کو دو سو برس کے سفر پر لے جاتی ہے اور بتاتی ہے کہ آج کی صحافت کن کن قربانیوں اور جدوجہد کی مرہونِ منت ہے۔

معصوم مراد آبادی اردو صحافت کا ایک جانا پہچانا نام ہیں۔ وہ خود ایک سینئر صحافی رہے ہیں اور اخبار کی دنیا کو اندر سے دیکھا ہے — خبر کیسے بنتی ہے، اداریہ کیسے لکھا جاتا ہے، اور اخبار کی پالیسی کن دباؤں میں طے ہوتی ہے۔ یہی عملی تجربہ ان کی تحریر کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ وہ صحافت کی تاریخ محض کتابوں سے نہیں بلکہ اپنے مشاہدے اور تجربے کی روشنی میں بیان کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی تحریر میں ایک خاص صداقت اور زندگی محسوس ہوتی ہے جو خشک تاریخی کتابوں میں کم ہی ملتی ہے۔

اردو صحافت کا آغاز انیسویں صدی کے اوائل میں ہوا جب 1822ء میں "جامِ جہاں نما" شائع ہوا۔ اس کے بعد دہلی اردو اخبار، مولوی محمد باقر کی جرأت مندانہ صحافت اور 1857ء کی جنگِ آزادی میں اخبارات کا کردار — یہ سب اردو صحافت کے ابتدائی اور پرآشوب دور کی کہانی ہے۔ معصوم مراد آبادی نے اس دور کے اخبارات، ان کے مدیروں اور ان کی قربانیوں کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ یہ پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ آج کی آزاد صحافت کن کن قربانیوں کی مرہونِ منت ہے اور ہمارے اسلاف نے قلم کی آزادی کے لیے کیا کچھ نہیں سہا۔

قیامِ پاکستان کے بعد اردو صحافت نے ایک نیا دور دیکھا۔ بڑے روزناموں نے نئی ریاست میں رائے عامہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا اور صحافت ایک باقاعدہ پیشے کی صورت اختیار کر گئی۔ صحافت کے فن کو سمجھنے کے لیے ڈاکٹر عبدالسلام خورشید کی کلاسیکی کتاب فن صحافت بھی ایک لازمی مطالعہ ہے جو صحافت کے اصولوں، خبر نویسی اور اداریہ نگاری پر تفصیلی روشنی ڈالتی ہے۔ معصوم مراد آبادی کی یہ تاریخ اور ڈاکٹر خورشید کی یہ فنی کتاب مل کر صحافت کے طالب علم کی بنیاد مضبوط کرتی ہیں۔

جدید دور میں صحافت کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے — الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا اور فیک نیوز کا طوفان۔ معصوم مراد آبادی نے کتاب کے آخری ابواب میں ان نئے رجحانات کا بھی جائزہ لیا ہے اور بتایا ہے کہ صحافت کی بنیادی قدریں — سچائی، دیانت اور غیر جانب داری — آج بھی اتنی ہی اہم ہیں جتنی دو سو سال پہلے تھیں۔ صحافت کی تعلیم پر اردو میں ایک اور اہم کتاب پروفیسر ظہور الدین کی صحافت از پروفیسر ظہور الدین ہے جو اس موضوع کو تعلیمی زاویے سے دیکھتی ہے۔ ان کتابوں کو ایک ساتھ پڑھنے سے صحافت کے ماضی، حال اور مستقبل تینوں کی تصویر واضح ہو جاتی ہے۔

یہ کتاب خاص طور پر ماس کمیونیکیشن اور جرنلزم کے طلبہ، سی ایس ایس کے امیدواروں اور صحافت میں آنے کے خواہشمند نوجوانوں کے لیے بے حد مفید ہے۔ امتحانات میں اردو صحافت کی تاریخ پر سوالات باقاعدگی سے پوچھے جاتے ہیں اور یہ کتاب ان کی تیاری کا قابلِ اعتماد ذریعہ ہے۔ عام قاری کے لیے بھی یہ ایک دلچسپ مطالعہ ہے کیونکہ اس میں اخبارات کی دنیا کے وہ قصے اور واقعات ہیں جو عام طور پر کتابوں میں نہیں ملتے۔

اگر آپ اردو صحافت کی اس دو سو سالہ داستان کو ایک ہی کتاب میں پڑھنا چاہتے ہیں تو فائل اردو سے "اردو صحافت کا ارتقاء" کی پی ڈی ایف مفت ڈاؤن لوڈ کریں۔ پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کرنا بالکل آسان ہے — نیچے دیے گئے ڈاؤن لوڈ بٹن پر کلک کیجیے اور یہ تحقیقی خزانہ آپ کے موبائل یا کمپیوٹر میں محفوظ ہو جائے گا۔ صحافت سے دلچسپی رکھنے والے ہر شخص کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔ پڑھیے اور اپنی قیمتی رائے سے ہمیں ضرور آگاہ کیجیے۔

DOWNLOAD


OR


READ ONLINE

No comments: