مقالات حافظ محمود شیرانی جلد دوم



 Maqalat E Hafiz Mahmood Sherani Jild Doom Pdf 

اردو ادب کی تحقیقی روایت میں حافظ محمود شیرانی کا مقام بہت بلند ہے۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی اردو زبان کے مآخذ کی تلاش اور ان کی تدوین میں صرف کر دی۔ مقالات حافظ محمود شیرانی جلد دوم ان کے ان تحقیقی مضامین کا مجموعہ ہے جن میں زبان و ادب کے بنیادی سوالات پر نئے زاویوں سے غور کیا گیا ہے۔ یہ کتاب خاص طور پر ان طلبہ اور محققین کے لیے مفید ہے جو اردو کے ابتدائی دور اور اس کی لسانی تاریخ کو سمجھنا چاہتے ہیں۔

شیرانی کی تحقیق کا سب سے نمایاں وصف ان کی بے لاگ تنقیدی نظر ہے۔ وہ نہ تو کسی پرانی رائے کو بلا تحقیق مانتے ہیں اور نہ ہی کسی نئے دعوے کو بلا سند قبول کرتے ہیں۔ ان کے ہاں ہر بات کا ثبوت مخطوطات، تاریخی حوالوں اور لسانی شواہد سے دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مقالات پڑھنے والا قاری محض معلومات حاصل نہیں کرتا بلکہ تحقیق کے صحیح طریق کار سے بھی آشنا ہوتا ہے۔ ان کا اسلوب استدلال آج کے محققین کے لیے بھی نمونہ ہے۔

اس جلد میں اردو زبان کی تاریخ، اس کے عربی و فارسی مآخذ اور برصغیر کی علاقائی زبانوں سے اس کے تعلق پر مبسوط بحثیں شامل ہیں۔ شیرانی نے جن موضوعات کو چھوا ان پر بعد میں ہونے والی تحقیق اکثر انھی کے نکات کی توسیع نظر آتی ہے۔ ان کے مضامین کی زبان سادہ مگر مدلل ہے اور ہر مضمون اپنے موضوع کا احاطہ اس خوبی سے کرتا ہے کہ قاری کو کسی اور حوالے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ یہی ان کی تحریروں کی سب سے بڑی خوبی ہے۔

مقالات کی اس جلد کو اس کی بہن جلدوں کے ساتھ ملا کر پڑھنا زیادہ فائدہ مند ہے۔ مقالات حافظ محمود شیرانی جلد اول میں جہاں ابتدائی مباحث ہیں وہیں مقالات حافظ محمود شیرانی جلد سوم میں شیرانی کے پختہ خیالات سامنے آتے ہیں۔ جو قارئین شیرانی کے تدوینی کام سے واقف ہونا چاہیں وہ حافظ محمود شیرانی بطور مدون محقق کے عنوان سے شائع شدہ مواد بھی دیکھ سکتے ہیں جس میں ان کی تدوین متن کی خدمات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ شیرانی کی کئی تحقیقات اپنے عہد میں متنازع سمجھی گئیں مگر وقت نے ان کی صحت ثابت کر دی۔ انھوں نے اردو کے مآخذ کے بارے میں جو نظریات پیش کیے انھوں نے لسانیات کے میدان میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔ آج اردو کے اکثر محققین ان کے کام کو بنیادی حوالے کے طور پر استعمال کرتے ہیں جو ان کی علمی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان کی تحریریں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ تحقیق محض کتابیں کھنگالنے کا نام نہیں بلکہ ایک مسلسل فکری جدوجہد ہے۔

شیرانی کی شخصیت کا ایک اور روشن پہلو ان کی تدریسی خدمات ہیں۔ انھوں نے اورینٹل کالج لاہور میں اردو کی تدریس کے دوران کئی شاگرد تیار کیے جو بعد میں خود نامور محقق بنے۔ ان کے لیکچرز اور نوٹس آج بھی اردو کے طلبہ میں ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے ہیں۔ استاد کی حیثیت سے ان کا اسلوب بھی ویسا ہی مدلل اور سند یافتہ تھا جیسا ان کی تحریروں میں نظر آتا ہے۔ ان کے شاگردوں نے ان کے تحقیقی مشن کو آگے بڑھایا۔

خوش قسمتی سے اب یہ نایاب جلد پی ڈی ایف کی صورت میں مفت ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ہے۔ مقالات حافظ محمود شیرانی جلد دوم کی پی ڈی ایف حاصل کر کے آپ اسے اپنے فون یا کمپیوٹر میں محفوظ کر سکتے ہیں۔ لائبریریوں میں اس کتاب کی تلاش میں وقت ضائع کرنے کے بجائے اب ایک کلک پر یہ علمی خزانہ آپ کی دسترس میں ہے۔ امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ کے لیے تو یہ کتاب خاص طور پر ناگزیر ہے کیونکہ اس میں وہ تمام بنیادی مباحث موجود ہیں جو نصاب کا حصہ ہیں۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ جلد اردو تحقیق کے ہر سنجیدہ طالب علم کی ضرورت ہے۔ حافظ محمود شیرانی نے اردو ادب پر جو احسانات کیے ہیں ان کا بدلہ تو نہیں چکایا جا سکتا مگر ان کی کتب کا مطالعہ کر کے ہم ان کے علمی ورثے کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔ نیچے ڈاؤن لوڈ کے بٹن سے پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں اور اس قیمتی مجموعے سے فائدہ اٹھائیں۔

DOWNLOAD


OR


READ ONLINE

No comments: