اورینٹل کالج میگزین



 Oriential College Megazin Pdf

کالج کا میگزین عام رسالوں سے کچھ مختلف ہوتا ہے۔ وہاں لکھنے والے زیادہ تر طالب علم ہوتے ہیں، جن کی تحریروں میں ابھی تازگی بھی ہوتی ہے اور جھجک بھی۔ اورینٹل کالج میگزین ایسے ہی ایک علمی ماحول کی یادگار ہے، جہاں لاہور کے ایک پرانے تعلیمی ادارے کے طلبہ اور اساتذہ نے اپنی تحریریں ایک جگہ جمع کیں۔ اسے پڑھتے ہوئے آج کا قاری یہ محسوس کرتا ہے کہ کسی زمانے میں کالج کی فضا کیسی تھی، وہاں کن موضوعات پر بحث ہوتی تھی اور نوجوان لکھنے والے کن سوالوں سے الجھتے تھے۔

کالج کے میگزین کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ ایک ساتھ کئی رنگ دکھاتا ہے۔ ایک صفحے پر کوئی طالب علم اپنی پہلی نظم لکھتا ہے، اگلے صفحے پر کوئی استاد کسی کتاب پر تبصرہ کرتا ہے، اور کہیں کوئی مضمون تاریخ یا زبان کے کسی پرانے مسئلے پر روشنی ڈالتا ہے۔ اسی تنوع کی وجہ سے میگزین صرف ایک رسالہ نہیں رہتا، بلکہ اس دور کی ادبی زندگی کا ایک چھوٹا سا آئینہ بن جاتا ہے۔ اورینٹل کالج میگزین میں بھی یہی رنگ نظر آتے ہیں، اور اسی لیے آج برسوں بعد بھی اسے پڑھنا دلچسپ لگتا ہے۔

اورینٹل کالج لاہور کی علمی روایت اردو ادب میں ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ وہاں کے شعبہ اردو سے وابستہ اساتذہ اور طلبہ نے تحقیق اور تنقید کے میدان میں نمایاں کام کیا، اور اسی ماحول میں کئی اہم کتابیں اور مجموعے سامنے آئے۔ اس کی ایک خوبصورت مثال بازیافت ہے، جو اورینٹل کالج لاہور کے شعبہ اردو سے وابستہ ایک یادگاری مجموعہ ہے۔ ایسے مجموعوں کو پڑھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کسی ادارے کی علمی زندگی صرف نصاب تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ وہ تحریروں، یادوں اور مباحثوں سے بنتی ہے۔

میگزین کے صفحات میں طالب علموں کی تحریریں پڑھنا ایک الگ تجربہ ہے۔ ان میں سے بعض تحریریں اب کچی لگتی ہیں، بعض میں جوش زیادہ ہوتا ہے اور بعض میں ایسی باریک بینی ہوتی ہے جو حیران کر دیتی ہے۔ یہی کچا پن اور جوش میگزین کو زندہ رکھتا ہے، کیونکہ وہاں لکھنے والا کسی بڑے ادیب کی نقل نہیں کر رہا ہوتا، بلکہ اپنی آواز تلاش کر رہا ہوتا ہے۔ آج کے نوجوان قاری کے لیے یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ بڑے ادیب بھی کبھی اسی طرح کے میگزینوں سے اپنا سفر شروع کرتے تھے۔

تحقیق کے طلبہ کے لیے پرانے میگزین ایک قیمتی ذریعہ ہوتے ہیں۔ ان سے یہ پتا چلتا ہے کہ کسی دور میں کن کتابوں کا چرچا تھا، کن ادیبوں پر تنقید ہو رہی تھی اور زبان کے بارے میں کیا سوچا جا رہا تھا۔ اسی تناظر میں اردو ادب بیسویں صدی میں جیسی کتابیں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں، کیونکہ وہ اسی صدی کے ادبی منظر نامے کو ترتیب سے سامنے لاتی ہیں۔ میگزین اور تاریخ کی کتابیں ایک ساتھ پڑھی جائیں تو کسی دور کی تصویر زیادہ مکمل ہو جاتی ہے۔

پاکستان میں اردو ادب کی تاریخ سمجھنے کے لیے بھی ایسے میگزینوں کا مطالعہ ضروری ہے۔ اداروں، رسالوں اور میگزینوں نے ہی اردو ادب کو آگے بڑھایا ہے، اور انہی کے ذریعے نئے لکھنے والوں کو موقع ملا۔ پاکستانی اردو ادب کی تاریخ پڑھنے سے یہ بات اور واضح ہو جاتی ہے کہ ادب کیسے اداروں اور رسالوں کی کوششوں سے پروان چڑھتا ہے۔ اورینٹل کالج میگزین اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جسے نظر انداز کرنا اردو ادب کی تاریخ کو ادھورا چھوڑنے کے برابر ہے۔

آخر میں یہی کہنا ہے کہ اورینٹل کالج میگزین کو صرف ایک پرانا رسالہ سمجھ کر نہ پڑھیے، بلکہ اسے ایک زمانے کی ڈائری سمجھ کر پڑھیے۔ اس کے صفحات میں آپ کو نوجوانوں کے خواب بھی ملیں گے، اساتذہ کی رہنمائی بھی ملے گی اور اردو ادب کی ایک زندہ جھلک بھی نظر آئے گی۔ اورینٹل کالج میگزین پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کر کے آپ بھی اس علمی ورثے سے جڑ سکتے ہیں، اور لاہور کے اس تاریخی ادارے کی ادبی فضا کو قریب سے محسوس کر سکتے ہیں۔

DOWNLOAD


OR


READ ONLINE


No comments: