انجمن پنجاب تاریخ و خدمات صفیہ بانو


Anjuman Punjab Tareekh o Khidmaat by safia bano

اردو زبان و ادب کی تاریخ جن علمی و ادبی تحریکوں کی مرہون منت ہے، ان میں انجمن پنجاب کا نام سرفہرست آتا ہے۔ انیسویں صدی کے وسط میں لاہور کی سرزمین پر قائم ہونے والی اس انجمن نے اردو، فارسی اور پنجابی زبانوں کی ترویج و اشاعت کے لیے جو خدمات انجام دیں، وہ آج بھی تاریخ کے اوراق میں سنہرے حروف سے لکھی ہوئی ہیں۔ صفیہ بانو کی تحقیقی کتاب "انجمن پنجاب: تاریخ و خدمات" اسی عظیم ادارے کی مکمل اور مستند تاریخ پیش کرتی ہے، جو اردو ادب کی تاریخ کے ہر طالب علم کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے۔

یہ کتاب محض ایک ادارے کی روداد نہیں بلکہ ایک پورے دور کی دستاویز ہے۔ مصنفہ نے تاریخی ماخذ، سرکاری ریکارڈ، اخبارات اور رسائل کی روشنی میں انجمن کے قیام سے لے کر اس کے عروج و زوال تک کے سفر کو بڑی محنت اور دیانت داری سے مرتب کیا ہے۔ ایک معیاری تحقیقی کتاب کی طرح اس میں ہر دعوے کی پشت پر حوالہ موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ طلبہ، اساتذہ اور محققین کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔

انجمن پنجاب کا قیام اور تاریخی پس منظر

انجمن پنجاب کا قیام 1865ء میں لاہور میں عمل میں آیا۔ اس کے بانی ڈاکٹر لائٹنر تھے جنہوں نے مشرقی زبانوں کی ترویج کا خواب دیکھا تھا۔ انجمن کا بنیادی مقصد اردو، فارسی، عربی اور پنجابی زبانوں میں علمی و ادبی سرگرمیوں کو فروغ دینا تھا۔ اس دور میں جب انگریزی تعلیم کا غلبہ دن بدن بڑھ رہا تھا، انجمن پنجاب نے مقامی زبانوں کے تحفظ کی ایک مضبوط اور منظم تحریک کی صورت اختیار کی۔

انجمن کے زیر اہتمام مشاعرے، مباحثے اور علمی جلسے منعقد ہوتے تھے جن میں برصغیر کے نامور ادبا اور شعرا شریک ہوتے تھے۔ لاہور اس زمانے میں ایک علمی مرکز کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا تھا اور انجمن پنجاب اس عمل میں ایک محرک قوت تھی۔ اردو ادب کی تاریخ کے اس باب کو سمجھنے کے لیے پاکستانی اردو ادب کی تاریخ جیسی کتب کا مطالعہ بھی نہایت مفید ثابت ہوتا ہے۔

صفیہ بانو کی تحقیق اور کتاب کی نمایاں خصوصیات

صفیہ بانو نے اس موضوع پر جس انہماک اور لگن سے کام کیا ہے وہ واقعی قابل تحسین ہے۔ انہوں نے انجمن کے مطبوعات، کارروائیوں اور اس سے وابستہ شخصیات کے حالات زندگی کو یکجا کر کے ایک مربوط اور رواں تاریخ ترتیب دی ہے۔ کتاب میں انجمن کے مشاہیر، اس کے رسائل اور علمی خدمات کا باب وار جائزہ لیا گیا ہے، جس سے قاری کو ایک ہی جگہ مکمل تصویر مل جاتی ہے۔

اس کتاب کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کا تنقیدی اور غیر جانب دار اسلوب ہے۔ مصنفہ نے صرف تعریفی پہلوؤں کو اجاگر نہیں کیا بلکہ انجمن کی کمزوریوں اور اس کے زوال کے اسباب کا بھی بے لاگ تجزیہ پیش کیا ہے۔ یہی وصف اسے ایک عام معلوماتی کتاب سے بلند کر کے ایک معیاری تحقیقی کتاب بناتا ہے۔ پنجاب میں اردو زبان کے فروغ کی تاریخ پنجاب میں اردو کے مطالعے سے مزید واضح ہوتی ہے، جو اسی موضوع کی ایک اہم کڑی ہے۔

کتاب کے ابواب میں انجمن کے بانی اراکین کے حالات، اس کے دستور العمل، سالانہ اجلاسوں کی کارروائی اور شائع کردہ رسائل کا تفصیلی ذکر شامل ہے۔ مصنفہ نے ہر باب کے آخر میں ماخذ کی فہرست بھی دی ہے جو مزید تحقیق کے لیے راہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اردو ادب کی تاریخ پر لکھی گئی اس معیاری تحقیقی کتاب کا اسلوب سادہ اور عام فہم ہے، اس لیے غیر ماہر قاری بھی اس سے بھرپور استفادہ کر سکتا ہے۔

انجمن پنجاب کی خدمات کا دائرہ صرف لاہور تک محدود نہ تھا بلکہ اس کے اثرات پورے پنجاب اور برصغیر کی اردو دنیا تک پھیلے ہوئے تھے۔ انجمن نے کئی اہم کتب کی اشاعت میں کردار ادا کیا اور نوجوان ادیبوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ تحقیقی مقالوں کے لیے بھی یہ موضوع آج بھی زرخیز ہے، جیسا کہ یونیورسٹی سطح کی ادبی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے، مثلاً احمد ندیم قاسمی بطور شاعر کے عنوان سے ہونے والا پی ایچ ڈی مقالہ۔

فائل اردو پر ہم اردو کی نایاب اور معیاری کتب قارئین تک مفت پہنچانے کے لیے کوشاں ہیں۔ "انجمن پنجاب: تاریخ و خدمات" از صفیہ بانو کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کے لیے نیچے دیا گیا ڈاؤن لوڈ بٹن استعمال کریں۔ یہ تحقیقی کتاب اردو ادب، تاریخ اور لسانیات کے ہر طالب علم کی ذاتی لائبریری کا حصہ ہونی چاہیے۔ ایسی مزید تحقیقی کتب کے لیے ہماری ویب سائٹ کو ضرور دیکھتے رہیں۔

DOWNLOAD


OR


READ ONLINE

 

No comments: