احمد ندیم قاسمی بطور شاعر مقالہ برائے پی ایچ ڈی یونیورسٹی آف پنجاب پاکستان

Ahmad Nadeem Qasmi Bator Shair pdf free download


احمد ندیم قاسمی اردو ادب کی ان ہمہ جہت شخصیتوں میں سے ہیں جنہوں نے شاعری، افسانہ نگاری، صحافت اور تنقید ہر میدان میں گہرے نقوش چھوڑے۔ انیس سو سولہ میں پیدا ہونے والے قاسمی صاحب نے ترقی پسند تحریک سے وابستگی کے باوجود اپنی ایک منفرد اور متوازن ادبی شناخت قائم کی۔ ان کی شاعری پر یونیورسٹی آف پنجاب کے لیے لکھا گیا یہ پی ایچ ڈی مقالہ احمد ندیم قاسمی بطور شاعر ان کے فن شاعری کا ایک جامع تحقیقی مطالعہ پیش کرتا ہے۔

قاسمی صاحب کی شاعری کی سب سے نمایاں خوبی اس کا فطری پن اور سادگی ہے۔ انہوں نے مشکل پسندی یا تصنع سے ہمیشہ گریز کیا اور عام انسانی جذبات کو سادہ مگر پر اثر زبان میں بیان کیا۔ ان کے یہاں غم دوراں اور غم جاناں دونوں ملتے ہیں، یعنی ذاتی جذبات کے ساتھ ساتھ معاشرتی اور قومی مسائل بھی ان کی شاعری کا موضوع بنے۔ یہی توازن ان کی شاعری کو ہر دور کے قاری کے لیے قابل قبول بناتا ہے۔

احمد ندیم قاسمی نے نظم اور غزل دونوں اصناف میں طبع آزمائی کی اور دونوں میں کمال حاصل کیا۔ ان کی نظموں میں فطرت سے گہرا لگاؤ نظر آتا ہے، جبکہ ان کی غزلوں میں روایت اور جدت کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ دھڑکنیں، جلال و جمال، دشت وفا اور محیط جیسے مجموعے ان کی شاعرانہ عظمت کے گواہ ہیں۔ اس تحقیقی مقالے میں ان تمام مجموعوں کا تنقیدی اور تجزیاتی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔

اس مقالے کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں قاسمی صاحب کی شاعری کا مطالعہ محض تعریفی انداز میں نہیں بلکہ تحقیقی دیانت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ مقالہ نگار نے ان کی شاعری کے موضوعات، اسلوب، زبان و بیان اور فنی محاسن کے ساتھ ساتھ ان پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی ہے جہاں تنقیدی سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ یہی غیر جانب دارانہ طرز تحقیق اس مقالے کو پی ایچ ڈی کے معیار پر پورا اتارتا ہے۔

قاسمی صاحب طویل عرصے تک ماہنامہ فنون کے مدیر رہے اور اس حیثیت سے انہوں نے اردو ادب کی آبیاری میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔ ان کی ادارت میں فنون اردو کا ایک معتبر ادبی جریدہ بنا۔ شاعری کے ساتھ ساتھ ان کے اس ادبی کردار کو سمجھنے کے لیے اردو ادب کی مختصر تاریخ کا مطالعہ بھی مفید رہے گا، جس میں اردو ادب کے ارتقائی مراحل کا جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

اردو شاعری سے شغف رکھنے والے قارئین کے لیے علامہ اقبال کی شاعری کا مطالعہ بھی ناگزیر ہے۔ کلیات اقبال مع شرح میں اقبال کے کلام کی تشریح کے ساتھ مطالعہ قاری کو اردو شاعری کی بلندیوں سے روشناس کراتا ہے، اور قاسمی جیسے شاعروں کے فکری پس منظر کو سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

تحقیقی مقالوں میں فنی اصطلاحات کی درست تفہیم بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اس مقالے میں بھی شعریات اور تنقید کی متعدد اصطلاحات استعمال ہوئی ہیں، جن کی وضاحت کے لیے ادبی اصطلاحات جیسی مستند کتاب سے رجوع کرنا طلبہ اور محققین کے لیے نہایت سود مند رہے گا۔

ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ کے لیے یہ مقالہ ایک نمونے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں تحقیقی طریق کار، حوالہ جات کی ترتیب، ابواب کی تنظیم اور نتائج کے استخراج کا جو معیار قائم کیا گیا ہے وہ نئے محققین کے لیے رہنما ہے۔ یونیورسٹی آف پنجاب جیسے معتبر ادارے سے منظور شدہ یہ مقالہ اردو تحقیق کے ذخیرے میں ایک قیمتی اضافہ ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ احمد ندیم قاسمی بطور شاعر اردو شاعری کے طالب علموں اور محققین کے لیے ایک لازمی مطالعہ ہے۔ اس میں ایک عظیم شاعر کے فن کا ایسا گہرا اور ہمہ پہلو جائزہ پیش کیا گیا ہے جو قاری کی فکری اور جمالیاتی تربیت دونوں کرتا ہے۔ فائل اردو پر یہ مقالہ پی ڈی ایف کی صورت میں مفت ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ہے، تاکہ اردو ادب کے اس قیمتی تحقیقی سرمائے سے ہر طالب علم مستفید ہو سکے۔

DOWNLOAD


OR


READ ONLINE

No comments: