Wojudiat By Doctor Hayat Amir Hussaini pdf free download
انسان صدیوں سے اپنے وجود کے معنی اور مقصد کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ میں کون ہوں، اس دنیا میں میرا کیا مقام ہے اور زندگی کا حاصل کیا ہے، یہ وہ سوالات ہیں جنہوں نے ہر دور کے مفکروں کو بے چین رکھا۔ فلسفے کی جس تحریک نے ان سوالات کو سب سے زیادہ جرأت اور گہرائی سے اٹھایا اسے وجودیت کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر حیات عامر حسینی کی کتاب وجودیت اردو زبان میں اس اہم فلسفیانہ تحریک کا جامع اور مدلل تعارف پیش کرتی ہے۔
وجودیت کی جڑیں انیسویں صدی کے مفکر سورن کیئرکیگارڈ کے ہاں ملتی ہیں، جنہوں نے فرد کے ذاتی وجود اور اس کے باطنی تجربے کو فلسفے کا مرکز بنایا۔ بعد ازاں فریڈرک نطشے اور مارٹن ہائیڈیگر نے اس فکر کو نئی جہتیں عطا کیں۔ تاہم وجودیت کو ایک باقاعدہ تحریک کی صورت بیسویں صدی میں ژاں پال سارتر، البرٹ کامیو اور سیمون دی بووار جیسے مفکروں نے دی، جن کی تحریروں نے ادب اور فلسفے دونوں کو گہرے طور پر متاثر کیا۔
سارتر کا مشہور قول ہے کہ وجود ماہیت پر مقدم ہے، یعنی انسان پہلے دنیا میں آتا ہے اور پھر اپنے اعمال سے اپنی شناخت خود تعمیر کرتا ہے۔ اس نقطہ نظر کی رو سے انسان مکمل طور پر آزاد ہے اور اسی آزادی کی وجہ سے وہ اپنے ہر عمل کا ذمہ دار بھی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو وجودیت کو محض ایک نظریہ نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا ایک سنجیدہ اور کٹھن طریقہ بنا دیتا ہے۔
البرٹ کامیو نے وجودی فکر کو عبثیت کے تصور سے جوڑا۔ ان کے نزدیک انسان معنی کی تلاش میں ہے جبکہ کائنات خاموش اور بے معنی ہے، اور اسی ٹکراؤ سے عبث جنم لیتا ہے۔ کامیو کا جواب مایوسی نہیں بلکہ اس عبث کے باوجود زندگی کو پورے حوصلے سے جینے کی دعوت ہے۔ ڈاکٹر حسینی نے اپنی کتاب میں ان تمام تصورات کو اردو قاری کے لیے آسان اور عام فہم انداز میں واضح کیا ہے۔
اردو ادب بھی وجودی فکر سے اچھوتا نہیں رہا۔ کئی اردو افسانہ نگاروں اور شاعروں کی تخلیقات میں وجودی اضطراب، تنہائی اور خودی کی تلاش کے رنگ نمایاں ہیں۔ اردو تنقید میں فلسفیانہ دبستانوں کے اطلاق کو سمجھنے کے لیے اردو کی عمرانی تنقید کا مطالعہ بھی مفید ہے، جس میں تنقید کے مختلف رجحانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
وجودیت جیسے فلسفیانہ موضوعات میں متعدد فنی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں، جن کا درست مفہوم سمجھے بغیر کتاب سے پورا استفادہ ممکن نہیں۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے پروفیسر انور جمال کی مرتب کردہ ادبی اصطلاحات ایک قیمتی حوالہ ہے، جس سے وجودیت اور دیگر تحریکوں کی اصطلاحات کی وضاحت ملتی ہے۔
ڈاکٹر حیات عامر حسینی کی اس کتاب کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے مغربی فلسفیوں کے نظریات کو اردو کے علمی اور تہذیبی پس منظر سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ کتاب میں وجودیت کے بنیادی مباحث کے ساتھ ساتھ اردو ادب پر اس کے اثرات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جس سے یہ کتاب محض ترجمہ نہیں بلکہ ایک اصل تحقیقی کام بن جاتی ہے۔
فلسفے اور تنقید کے طلبہ کے لیے یہ کتاب ایک نعمت ہے۔ ایم اے اردو اور مقابلے کے امتحانات میں فلسفیانہ تحریکوں کے سوالات اکثر پوچھے جاتے ہیں، اور وجودیت ان میں نمایاں ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے طلبہ کو امتحانی تیاری کے ساتھ ساتھ فکری بالیدگی بھی حاصل ہوگی۔ اردو ادب کے مجموعی ارتقا کو سمجھنے کے خواہش مند قارئین اردو ادب کی مختصر تاریخ سے بھی استفادہ کر سکتے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ وجودیت اردو میں فلسفہ وجودیت پر لکھی گئی ان چند کتابوں میں سے ہے جو علمی گہرائی کے ساتھ ساتھ عام فہمی کا بھی خیال رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر حیات عامر حسینی نے ایک مشکل فلسفیانہ موضوع کو اردو قاری کے لیے قابل رسائی بنا دیا ہے۔ فائل اردو پر یہ کتاب پی ڈی ایف کی صورت میں مفت ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ہے، تاکہ فلسفے کے شائقین اور طلبہ اس قیمتی علمی کاوش سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔

No comments:
Post a Comment