پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ ڈاکٹر انور سدید

 

Pakistan me Adabi Rasail ki Tareekh by Doctor Anwar Sadeed pdf free download


پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ — ڈاکٹر انور سدید کی مستند تحقیق

قیامِ پاکستان کے بعد اردو ادب نے جن شعبوں میں نمایاں ترقی کی ان میں ادبی صحافت سرفہرست ہے۔ نئے ملک میں نئے رسالے نکلے، پرانے رسالوں نے نئے عہد کے تقاضوں کے مطابق اپنی ادارتی پالیسیاں بدلیں، اور یوں اردو رسائل کی ایک نئی تاریخ رقم ہوئی۔ ڈاکٹر انور سدید کی کتاب "پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ" اسی تاریخ کو دستاویزی شکل دینے کی ایک سنجیدہ اور مستند کوشش ہے۔

ڈاکٹر انور سدید اردو تنقید و تحقیق کا ایک معتبر نام ہیں۔ انہوں نے اردو ادب کی تاریخ، تنقید اور تحقیق پر متعدد کتب تحریر کی ہیں، اور ان کا اسلوبِ تحریر تحقیقی دیانت اور علمی گہرائی کا حسین امتزاج ہے۔ زیرِ نظر کتاب میں انہوں نے پاکستان میں شائع ہونے والے اہم ادبی رسائل کی تاریخ، ان کے مدیران، ان کے ادبی کارناموں اور ان کے عہد ساز کردار کا مفصل جائزہ پیش کیا ہے۔

اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اردو رسائل پر اردو میں مستند تاریخی مواد کی ہمیشہ کمی رہی ہے۔ اکثر معلومات بکھری ہوئی یادداشتوں، خاکوں اور اداریوں میں ملتی ہیں؛ ڈاکٹر سدید نے انہیں یکجا کر کے ایک مربوط تاریخ کی صورت دی ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ماضی کا ریکارڈ ہے بلکہ آنے والے محققین کے لیے ایک بنیادی ماخذ بھی ہے جس سے بھرپور استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں اوراق، نقوش، فنون اور ساقی جیسے رسالوں نے جو ادبی ماحول پیدا کیا اس کی تفصیل اردو ادب کے ہر طالب علم کے لیے دلچسپی کا باعث ہے۔ ان رسالوں نے افسانے، شاعری، تنقید اور تحقیق کو نئے افق دیے اور کئی اہم ادیب انہی کے صفحات سے متعارف ہوئے۔ ڈاکٹر سدید کی یہ کتاب اسی صحافتی روایت کے ارتقا کو تاریخی تناظر میں پیش کرتی ہے۔

پاکستان میں ادبی رسائل کی روایت برصغیر کی صحافتی روایت سے جڑی ہوئی ہے، مگر قیامِ پاکستان کے بعد اس نے اپنی ایک الگ شناخت بھی قائم کی۔ اس کتاب میں اس تسلسل اور امتیاز دونوں کو اجاگر کیا گیا ہے، جو اسے محض فہرست سازی سے بلند کر کے ایک تنقیدی تاریخ بناتا ہے۔ یہی اس کتاب کا وہ وصف ہے جو اسے عام تذکروں سے ممتاز کرتا ہے۔

تحقیقی طلبہ کے لیے یہ کتاب ایک نعمت سے کم نہیں۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالوں میں اردو رسائل کے حوالے اکثر اسی کتاب سے لیے جاتے ہیں۔ جو قارئین اس موضوع کو مزید وسعت سے پڑھنا چاہیں وہ بیسویں صدی کے منتخب رسائل کا تحقیقی مطالعہ بھی دیکھ سکتے ہیں، جو رسائل ہی کے موضوع پر ایک پی ایچ ڈی مقالہ ہے اور فائل اردو پر پی ڈی ایف میں دستیاب ہے۔

عملی مثال کے طور پر سہ ماہی اردو ادب جیسے رسالے کا کوئی بھی شمارہ اٹھا کر دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک معیاری ادبی جریدہ کیسے ترتیب پاتا ہے اور کیسے وہ اپنے عہد کی ادبی فضا کی عکاسی کرتا ہے۔ ڈاکٹر سدید کی کتاب ایسے رسالوں کے تاریخی پس منظر کو سمجھنے میں قاری کی مدد کرتی ہے۔

فائل اردو کا عزم ہے کہ اردو کی قیمتی کتب ہر قاری کی دسترس میں ہوں۔ یہ کتاب بھی پی ڈی ایف صورت میں پیش کی جا رہی ہے تاکہ آپ اسے پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے ذخیرے میں شامل کر سکیں۔ پی ڈی ایف فری ڈاؤن لوڈ کی سہولت سے طلبہ، اساتذہ اور محققین یکساں مستفید ہو سکتے ہیں اور اردو تحقیق کے اس اہم ماخذ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

اردو ادب کی تاریخ رسائل کی تاریخ کے بغیر ادھوری ہے۔ ڈاکٹر انور سدید نے یہ کتاب لکھ کر اردو تحقیق پر ایک بڑا احسان کیا ہے۔ ہر اس شخص کو یہ کتاب پڑھنی چاہیے جو اردو ادب کی صحافتی روایت کو سمجھنا چاہتا ہے اور اس کے ارتقا سے آگاہ ہونا چاہتا ہے۔

DOWNLOAD


OR


READ ONLINE

No comments: