مجلہ دستاویز (دوحہ)، اردو کے اہم ادبی رسائل و جرائد نمبر

 

Dastawez Pdf Free Download

​

 


مجلہ دستاویز (دوحہ) — اردو صحافت کا ایک معتبر حوالہ

اردو ادب کی تاریخ دراصل اردو صحافت کی تاریخ بھی ہے۔ رسائل و جرائد نے اردو نثر کو پروان چڑھانے، نئے رجحانات متعارف کرانے اور ادیبوں کی ایک پوری نسل تیار کرنے میں جو کردار ادا کیا ہے اس سے انکار ممکن نہیں۔ اودھ پنچ اور اردوئے معلیٰ سے لے کر نقوش، اوراق اور فنون تک، ہر عہد کے بڑے ادبی رسالوں نے اپنے وقت کی ادبی فضا کو متعین کیا اور آنے والے ادیبوں کے لیے راہیں ہموار کیں۔

زیرِ نظر شمارہ "مجلہ دستاویز (دوحہ)، اردو کے اہم ادبی رسائل و جرائد نمبر" اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ دستاویز قطر کے دارالحکومت دوحہ سے شائع ہونے والا ایک معتبر اردو ادبی مجلہ ہے، جس نے بیرونِ ملک اردو ادب کی خدمت کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ اس کا یہ خاص نمبر اردو کے ان اہم ادبی رسائل و جرائد کے لیے وقف ہے جنہوں نے اردو ادب کی آبیاری میں نمایاں حصہ لیا اور جن کے بغیر اردو تنقید و تحقیق کی تاریخ نامکمل ہے۔

اس نمبر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ صرف ایک رسالے کا تعارف نہیں بلکہ اردو صحافت کی پوری روایت کا ایک دستاویزی جائزہ ہے۔ اس میں مختلف ادوار کے اہم رسالوں کی تاریخ، ان کے مدیران کی کاوشوں اور ان رسالوں میں چھپنے والی تحریروں کے ادبی مقام پر مفصل مضامین شامل ہیں۔ ایسے خاص نمبر محققین کے لیے بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان سے اردو تحقیق کو نئی جہتیں ملتی ہیں۔

اردو کے اہم ادبی رسائل کا ذکر ہو تو ادبِ لطیف، نقوش، اوراق، فنون، شب خون اور ساقی جیسے نام ذہن میں آتے ہیں۔ ان رسالوں نے افسانے، نظم، تنقید اور تحقیق — ہر صنف کو نئی جہتیں دیں اور کئی عہد ساز ادیب انہی کے صفحات سے منظرِ عام پر آئے۔ دستاویز کے اس نمبر میں ان رسالوں کی تاریخ، ان کی ادارتی پالیسیوں اور ان کے عہد ساز کردار کا جائزہ لیا گیا ہے، جو اردو صحافت کے ہر طالب علم کے لیے دلچسپی کا سامان رکھتا ہے۔

دوحہ سے کسی اردو رسالے کا اجرا خود ایک خوش آئند بات ہے۔ خلیجی ممالک میں اردو بولنے والوں کی بڑی تعداد آباد ہے، اور وہاں سے ادبی رسالے کا نکلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو آج بھی ایک زندہ اور متحرک زبان ہے۔ دستاویز نے مقامی ادیبوں کے ساتھ ساتھ برصغیر کے نامور قلمکاروں کو بھی اپنے صفحات میں جگہ دی ہے، جس سے اس کا دائرہ اثر وسیع تر ہوا ہے۔

تحقیقی نقطہ نظر سے یہ نمبر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اردو رسائل کی تاریخ پر کام کرنے والے محققین کو اکثر بکھرے ہوئے مواد کو یکجا کرنے میں دشواری پیش آتی ہے؛ یہ خاص نمبر ان کے لیے ایک ہی جگہ مربوط مواد فراہم کرتا ہے۔ اس موضوع پر مزید گہرے مطالعے کے خواہشمند قارئین بیسویں صدی کے منتخب رسائل کا تحقیقی مطالعہ سے بھی استفادہ کر سکتے ہیں، جو اسی موضوع پر ایک پی ایچ ڈی مقالہ ہے اور فائل اردو پر پی ڈی ایف میں دستیاب ہے۔

اسی طرح اردو کے سہ ماہی اور ششماہی رسالوں کی روایت کو سمجھنے کے لیے سہ ماہی اردو ادب کا حبیب تنویر نمبر بھی ایک عمدہ مثال ہے، جس میں ایک عہد ساز فنکار کی شخصیت و فن پر مواد یکجا کیا گیا ہے۔ ایسے خاص نمبر اردو تحقیق کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کا مطالعہ ہر محقق کے لیے ضروری ہے۔

فائل اردو اردو کتابوں اور رسالوں کو عام قاری تک پہنچانے کے مشن پر کاربند ہے۔ یہ شمارہ بھی پی ڈی ایف کی صورت میں مہیا کیا گیا ہے تاکہ آپ اسے پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کر کے محفوظ کر سکیں۔ دور دراز علاقوں میں بسنے والے اردو دوست جو کتب خانوں تک رسائی نہیں رکھتے، وہ پی ڈی ایف فری ڈاؤن لوڈ کی سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور اردو صحافت کی اس دستاویز سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

آخر میں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ رسائل و جرائد کسی بھی ادب کی شہ رگ ہوتے ہیں۔ ان کی حفاظت اور ان کا مطالعہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ دستاویز کا یہ خاص نمبر اسی ذمہ داری کا ایک خوبصورت اظہار ہے، اور ہر اردو دوست کو اس کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔

DOWNLOAD


OR


READ ONLINE

No comments: