پاکستانی ادب کے معمار امجد اسلام امجد شخصیت و فنpdf

 

Pakistani Adab Ke Memar Amjid Islam Amjid Shakhsiat o Fun pdf free download



امجد اسلام امجد — شاعر، ڈرامہ نگار اور عہد ساز ادیب

اردو ادب کی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہیں جو صرف اپنے عہد کے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے بھی استاد ٹھہرتے ہیں۔ امجد اسلام امجد انہی خوش نصیب ادیبوں میں سے ایک تھے جن کی شاعری گھروں کے ڈرائنگ روم سے لے کر یونیورسٹیوں کے نصاب تک ہر جگہ یکساں مقبول رہی۔ ان کا کلام آج بھی دلوں کو چھوتا ہے اور ان کے چاہنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

زیرِ نظر کتاب "پاکستانی ادب کے معمار امجد اسلام امجد شخصیت و فن" اسی ہمہ جہت ادیب کی زندگی، شخصیت اور فن کا ایک جامع مطالعہ ہے۔ یہ کتاب ان قارئین کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے جو امجد اسلام امجد کو صرف ایک شاعر کی حیثیت سے جانتے ہیں، کیونکہ اس میں ان کے ڈراموں، کالموں، نثری تحریروں اور تراجم پر بھی مفصل روشنی ڈالی گئی ہے۔

امجد اسلام امجد کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی اس کی سادگی اور رسائی ہے۔ انہوں نے مشکل اور گنجلک زبان کے بجائے عام فہم الفاظ میں گہرے جذبات کو اس خوبصورتی سے پرویا کہ ان کے اشعار زبان زدِ عام ہو گئے۔ ان کا مشہور شعر "ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد" آج بھی محفلوں کی زینت بنتا ہے۔ ان کی نظموں میں محبت، ہجر، سماجی ناانصافی اور انسانی قدروں کا ایک حسین امتزاج ملتا ہے۔

شاعری کے ساتھ ساتھ امجد اسلام امجد ایک کامیاب ڈرامہ نگار بھی تھے۔ ان کا ڈرامہ "وارث" پاکستان ٹیلی ویژن کی تاریخ کا ایک سنگِ میل سمجھا جاتا ہے، جس نے دیہی پنجاب کی زندگی، جاگیرداری نظام اور انسانی رشتوں کو جس سچائی سے پیش کیا اس کی مثال کم ملتی ہے۔ اس کتاب میں ان کی ڈرامہ نگاری کے فنی محاسن کا بھی تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔

امجد اسلام امجد کی نثر بھی ان کی شاعری کی طرح شگفتہ اور پُراثر تھی۔ انہوں نے کئی برس تک کالم نگاری کی اور اپنے کالموں میں سماجی و سیاسی مسائل پر بے باک رائے دی۔ اس کے علاوہ انہوں نے غیر ملکی ادب کے تراجم بھی کیے اور اردو سائنس بورڈ کے سربراہ کی حیثیت سے علمی و ادبی خدمات انجام دیں۔ یہ کتاب ان تمام پہلوؤں کو یکجا کر کے قاری کے سامنے رکھتی ہے۔

"شخصیت و فن" کے موضوع پر لکھی گئی یہ کتاب تحقیقی انداز میں مرتب کی گئی ہے، اس لیے یہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ کے لیے بھی ایک قیمتی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔ کتاب میں ادیب کی زندگی کے مختلف ادوار، ان کے ادبی سفر کی تفصیل اور ان کے فن پر معاصر نقادوں کی آراء شامل ہیں، جو کسی بھی محقق کے لیے بنیادی مواد فراہم کرتی ہیں۔

جو قارئین امجد اسلام امجد کی شاعری سے خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں ان کے لیے فائل اردو پر ان کے متعدد شعری مجموعے بھی دستیاب ہیں، جن میں امجد اسلام امجد کے شعری مجموعے جیسے "بارش کی آواز" اور "ہم اس کے ہیں" شامل ہیں۔ ان مجموعوں کا مطالعہ اس کتاب کے مندرجات کو مزید بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

"پاکستانی ادب کے معمار" کا یہ سلسلہ دراصل اردو کے بڑے ادیبوں کی شخصیت و فن پر لکھی گئی کتب کا ایک اہم ذخیرہ ہے۔ اسی سلسلے میں میراجی شخصیت اور فن اور ظفر اقبال شخصیت اور فن جیسی کتب بھی شامل ہیں، جو اردو تنقید و تحقیق کے طالب علموں کے لیے یکساں مفید ہیں۔

فائل اردو کا مقصد اردو کتابوں کو ہر قاری تک پہنچانا ہے۔ اسی سلسلے میں یہ کتاب بھی پی ڈی ایف کی صورت میں مہیا کی گئی ہے تاکہ آپ اسے آسانی سے پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے موبائل یا کمپیوٹر پر محفوظ کر سکیں۔ اردو ادب کے اس قیمتی سرمایے سے مستفید ہونے کے لیے پی ڈی ایف فری ڈاؤن لوڈ کی سہولت سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے دوستوں کے ساتھ بھی شیئر کریں۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ امجد اسلام امجد جیسے ادیب صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری اور نثر اردو ادب کا ایک روشن باب ہے، اور یہ کتاب اس باب کو سمجھنے کی ایک مخلصانہ کوشش ہے۔ ہر اس شخص کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے جو اردو ادب سے محبت کرتا ہے اور اس کے معماروں کو جاننا چاہتا ہے۔

DOWNLOAD


OR


READ ONLINE

No comments: