پاکستانی ادب کے معمار حسرت موہانی شخصیت اور فن خورشید برنیPakistani adab kay memar Hasrat Mohani Shakhsiat o fun by khurshid Burni pdf free download

Pakistani adab kay memar Hasrat Mohani Shakhsiat o fun by khurshid Burni pdf free download


اردو شاعری کی تاریخ میں کچھ شاعر ایسے گزرے ہیں جن کا ایک ہی شعر انھیں ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیتا ہے۔ مولانا حسرت موہانی کا شمار بھی انہی خوش نصیبوں میں ہوتا ہے۔ "چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے" — یہ مصرع سن کر کون ایسا ہوگا جس کے دل میں ایک ٹھہراؤ نہ اتر آئے۔ مگر حسرت موہانی صرف ایک خوبصورت غزل کے شاعر نہ تھے؛ وہ ایک مفکر، ایک مجاہدِ آزادی اور ایک بے باک صحافی بھی تھے۔ ان کی زندگی کا ہر باب پڑھنے والے کو حیرت میں ڈال دیتا ہے۔

"پاکستانی ادب کے معمار" ایک معروف سلسلۂ کتب ہے جس میں اردو ادب کے ان معماروں کی شخصیت اور فن کا جائزہ لیا گیا ہے جنھوں نے ہماری ادبی روایت کی بنیادیں رکھیں۔ اس سلسلے کی یہ کتاب خورشید برنی نے حسرت موہانی کی شخصیت اور ان کے فن پر لکھی ہے۔ مصنف نے بڑی محنت سے حسرت کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو یکجا کیا ہے — ان کی شاعری بھی، ان کی سیاست بھی، ان کی صحافت بھی اور ان کی فکر بھی۔ یہ کتاب دراصل حسرت موہانی کو ایک مکمل انسان کی صورت میں پیش کرتی ہے، نہ کہ صرف ایک شاعر کی صورت میں۔

حسرت کی غزل کی سب سے بڑی خوبی اس کی سادگی اور سچائی ہے۔ انھوں نے عشق کو نہ تو محض مجازی رکھا اور نہ محض روحانی بنا دیا؛ ان کی شاعری میں عشقِ مجازی اور عشقِ حقیقی ایک دوسرے میں اس طرح گندھے ہوئے ہیں کہ قاری خود فیصلہ نہیں کر پاتا کہ شاعر کس سے مخاطب ہے۔ ان کی زبان میں کوئی تصنع نہیں، کوئی بناوٹ نہیں — سیدھی دل سے نکلی ہوئی بات جو سیدھی دل میں اتر جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلیں آج بھی محفلوں میں گائی جاتی ہیں اور آج بھی دلوں کو چھوتی ہیں۔

حسرت موہانی کی سیاسی زندگی بھی کسی داستان سے کم نہیں۔ وہ انگریز سامراج کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوئے، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور "انقلاب زندہ باد" کا نعرہ سب سے پہلے انھی نے بلند کیا۔ اردو صحافت میں ان کا رسالہ "اردوئے معلیٰ" ایک تاریخ رکھتا ہے۔ مذہبی ہم آہنگی کے قائل، کرشن بھگت، اور ساتھ ہی ایک سچے مسلمان — حسرت کی شخصیت میں کتنے ہی رنگ ایک ساتھ جھلملاتے ہیں۔ خورشید برنی نے ان تمام پہلوؤں کو اس کتاب میں بڑی خوبصورتی سے سمیٹا ہے۔

جو قاری حسرت موہانی کو مزید گہرائی سے سمجھنا چاہے اس کے لیے فائل اردو پر حسرت موہانی شخصیت اور فن از ڈاکٹر ریحانہ صدیقی بھی موجود ہے، جس میں ایک خاتون محقق کی نظر سے حسرت کے فن کا جائزہ لیا گیا ہے۔ دونوں کتابوں کا موازنہ کرنے سے حسرت کی شخصیت کے مختلف زاویے روشن ہوتے ہیں۔ اور اردو شاعری کے کلاسیکی ذخیرے سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے کلیاتِ اقبال اردو مطالب و معانی معہ فرہنگ بھی فائل اردو پر دستیاب ہے۔

مختصر یہ کہ "پاکستانی ادب کے معمار: حسرت موہانی — شخصیت اور فن" اردو ادب کے ہر طالب علم، استاد اور محقق کے لیے ایک قیمتی کتاب ہے۔ حسرت موہانی جیسی ہمہ جہت شخصیت کو سمجھے بغیر اردو ادب کی تاریخ کا مطالعہ ادھورا ہے۔ نیچے ڈاؤن لوڈ کے بٹن پر کلک کیجیے اور خورشید برنی کی اس تحقیقی کتاب کی پی ڈی ایف مفت ڈاؤن لوڈ کر کے اپنی ڈیجیٹل لائبریری میں محفوظ کر لیجیے۔ پڑھیے اور اردو کے اس عظیم معمارِ ادب کو خراجِ تحسین پیش کیجیے۔

DOWNLOAD


OR


READ ONLINE

No comments: