Hukmay Alam By Ghulam Jiani Barq pdf free download
حکمائے عالم — ایک تعارف
طب کی تاریخ دراصل انسانی تہذیب کی تاریخ ہے۔ جب سے انسان نے درد محسوس کیا ہے، تب سے وہ اس کے علاج کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ غلام جیلانی برق کی مشہور کتاب "حکمائے عالم" اسی طویل اور حیرت انگیز سفر کی داستان ہے۔ اس میں دنیا بھر کے مشہور حکماء، اطباء اور طبی محققین کے حالات زندگی، ان کی علمی خدمات اور ان کے کارناموں کا دلچسپ اور مستند تذکرہ پیش کیا گیا ہے۔
غلام جیلانی برق اردو کے معروف مصنف، محقق اور سوانح نگار تھے۔ انہوں نے تاریخ، سائنس اور ادب کے موضوعات پر متعدد یادگار کتابیں تصنیف کیں۔ ان کا اسلوب عام فہم اور دلنشین ہے — وہ مشکل سے مشکل تاریخی حقائق کو بھی کہانی کے انداز میں اس طرح بیان کرتے ہیں کہ قاری کی دلچسپی آخر تک قائم رہتی ہے اور علم بھی حاصل ہوتا رہتا ہے۔
اس کتاب میں جن حکماء کا ذکر خیر ہے ان میں مشرق و مغرب دونوں کے نامور اطباء شامل ہیں۔ بوعلی سینا جن کی کتاب "القانون فی الطب" صدیوں تک مشرق و مغرب میں طب کی مستند ترین کتاب سمجھی جاتی رہی، زکریا رازی جنہوں نے طب کے ساتھ ساتھ کیمیا میں بھی نمایاں کارنامے انجام دیے، اور یونان کے بقراط جنہیں "بابائے طب" کہا جاتا ہے — یہ سب اور ان جیسے کئی عظیم نام اس کتاب کے کردار ہیں۔
کتاب کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ صرف سوانحی خاکوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ہر حکیم کے عہد کے طبی نظریات، ان کی اہم دریافتوں اور ان کے تجویز کردہ طریقہ علاج پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔ قاری کو معلوم ہوتا ہے کہ آج کی جدید طب کن کن مراحل اور کن کن اذہان کی محنت سے گزر کر اس مقام تک پہنچی ہے۔ یہ مطالعہ تاریخ اور سائنس دونوں کے شائقین کے لیے یکساں دلچسپ ہے۔
مصنف نے مواد کو مستند تاریخی ماخذوں سے اخذ کیا ہے اور اہم واقعات کے ساتھ حوالوں کا اہتمام بھی کیا ہے۔ یہی احتیاط اس کتاب کو محض دلچسپ کہانیوں کے مجموعے سے بلند کر کے ایک قابل اعتماد تحقیقی دستاویز بنا دیتی ہے۔ جو قاری سنجیدہ مطالعے کا عادی ہے، وہ اس پہلو کی خاص قدر کرے گا۔
برصغیر میں طب یونانی کی روایت صدیوں سے چلی آ رہی ہے، اور اس کتاب میں ان حکماء کا ذکر بھی ملتا ہے جنہوں نے ہندوستان میں طب کی خدمت کی۔ اس لحاظ سے یہ کتاب ہمارے اپنے طبی ورثے کو سمجھنے کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔ پرانے نسخوں، جڑی بوٹیوں کے علاج اور حکمت کے اصولوں سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے اس میں خاصا مواد موجود ہے۔
طلبہ و طالبات کے لیے یہ کتاب کئی حوالوں سے مفید ہے۔ تاریخ، سائنس اور عمومی معلومات کے مضامین میں اس سے مدد لی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرنے والوں کے لیے مشہور سائنس دانوں اور حکماء کے حالات زندگی کا یہ مجموعہ ایک قیمتی ذخیرہ ہے۔
خوش قسمتی سے اب یہ مفید کتاب پی ڈی ایف کی صورت میں بھی دستیاب ہے۔ حکمائے عالم پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کر کے آپ اسے اپنے موبائل یا کمپیوٹر میں محفوظ کر سکتے ہیں اور فرصت کے لمحات میں اس کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ علم کی یہ دولت اب آپ کی جیب میں بھی سما سکتی ہے۔
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تاریخ صرف بادشاہوں اور جنگوں کا نام ہے، انہیں یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔ اس سے معلوم ہوگا کہ اصل تاریخ تو ان محققین اور حکماء نے بنائی جنہوں نے انسانی دکھوں کا مداوا کیا۔ ہر باب پڑھنے والے کو ایک نئی شخصیت سے روشناس کراتا ہے اور علم کی پیاس بڑھاتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ غلام جیلانی برق نے "حکمائے عالم" لکھ کر اردو قارئین پر بڑا احسان کیا ہے۔ یہ کتاب علم، تاریخ اور دلچسپی کا ایک حسین امتزاج ہے جو ہر گھر کی لائبریری کی زینت بننے کے لائق ہے۔

No comments:
Post a Comment