Takhleeq Takhleeqi Shakhsiat Aur Tanqeed By Saleem Akhtar pdf free download
تخلیق، تخلیقی شخصیات اور تنقید — ایک تعارف
ادب میں تخلیق اور تنقید کا رشتہ بڑا ہی گہرا اور دلچسپ ہے۔ تخلیق کار نئی دنیائیں بساتا ہے اور نقاد ان دنیاؤں کے نقشے مرتب کرتا ہے۔ ڈاکٹر سلیم اختر کی کتاب "تخلیق، تخلیقی شخصیات اور تنقید" اسی رشتے کو سمجھنے اور سمجھانے کی ایک سنجیدہ علمی کوشش ہے۔ اس میں تخلیقی عمل کی نفسیات، بڑے تخلیق کاروں کی شخصیتوں کے مطالعے اور تنقید کے بنیادی اصولوں پر بڑی وضاحت سے روشنی ڈالی گئی ہے۔
ڈاکٹر سلیم اختر اردو تنقید کے جانے پہچانے اور معتبر ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے تنقید کو محض عیب جوئی یا تعریف و توصیف کے بجائے تخلیق کو گہرائی سے سمجھنے کا ایک ذریعہ بنایا ہے۔ ان کی تحریروں میں علمی گہرائی کے ساتھ ساتھ ایک خاص شگفتگی اور روانی بھی پائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے اردو ادب کا عام قاری بھی ان سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
کتاب کا پہلا حصہ تخلیقی عمل کے اسرار سے متعلق ہے۔ تخلیق کار کے ذہن میں خیال کیسے جنم لیتا ہے، وہ کن داخلی مراحل سے گزر کر ایک مکمل فن پارے کی صورت اختیار کرتا ہے — یہ سوالات صدیوں سے اہل فکر و دانش کو متوجہ کرتے آئے ہیں۔ مصنف نے جدید نفسیات اور ادبیات دونوں کے حوالوں سے اس پیچیدہ عمل کا جائزہ لیا ہے اور اسے عام فہم انداز میں بیان کیا ہے۔
کتاب کا دوسرا حصہ تخلیقی شخصیات کے مطالعے پر مشتمل ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بڑے ادیبوں اور شاعروں کی شخصیت ان کی تخلیقات سے الگ تھلگ نہیں ہوتی۔ مصنف نے منتخب تخلیقی شخصیات کی زندگی، ان کے فکری رجحانات، ان کے عہد کے حالات اور ان کی تخلیقات کے باہمی ربط کو بڑی باریک بینی اور دیانت داری سے پرکھا ہے۔ یہ مطالعے پڑھنے والے کو ادیب کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی دعوت دیتے ہیں۔
تیسرا حصہ تنقید کے اصول و مباحث سے متعلق ہے۔ تنقید آخر ہے کیا، اس کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے، اور ایک اچھے نقاد میں کون سی خوبیاں ہونی چاہئیں — ان بنیادی سوالات کے جوابات اس حصے میں تلاش کیے گئے ہیں۔ مصنف نے مشرقی اور مغربی دونوں تنقیدی روایتوں سے استفادہ کیا ہے اور ان کے تقابلی مطالعے سے اردو تنقید کے لیے نئی راہیں سجھائی ہیں۔
اس کتاب کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ یہ خشک نظریاتی بحثوں میں الجھنے کے بجائے عملی مثالوں سے بات سمجھاتی ہے۔ اردو کے معروف تخلیق کاروں کی تخلیقات کو بطور مثال پیش کر کے تنقیدی اصولوں کو واضح کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے یہ کتاب محض نظریہ پڑھنے والوں کے لیے نہیں بلکہ عملی تنقید سیکھنے والوں کے لیے بھی خاصی مفید ہے۔
ایم اے اردو اور ایم فل کے طلبہ و طالبات کے لیے یہ کتاب خاص اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ تنقید ان کے نصاب کا ایک بنیادی اور لازمی حصہ ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے انہیں تنقیدی اصطلاحات، اہم نظریات اور ان کے عملی اطلاق کو سمجھنے میں نمایاں مدد ملے گی۔ امتحانی نقطہ نظر سے بھی یہ ایک قیمتی ماخذ ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ اب یہ اہم کتاب پی ڈی ایف کی صورت میں بھی دستیاب ہے۔ تخلیق تخلیقی شخصیات اور تنقید پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کر کے قارئین اسے اپنے موبائل یا کمپیوٹر میں محفوظ کر سکتے ہیں اور فرصت کے اوقات میں اس کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ علمی کتابوں کی ڈیجیٹل دستیابی نے تحقیق کے کام کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔
جو احباب ادب کو محض وقت گزاری کے بجائے ایک سنجیدہ علمی و فکری سرگرمی سمجھتے ہیں، ان کے لیے یہ کتاب ایک قیمتی تحفہ ہے۔ اس کا مطالعہ نہ صرف آپ کے تنقیدی شعور کو بیدار کرے گا بلکہ آپ کو اچھے اور برے ادب میں فرق کرنے کی صلاحیت بھی عطا کرے گا۔ ہر سنجیدہ قاری کو اس کتاب سے ضرور گزرنا چاہیے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ڈاکٹر سلیم اختر نے اس کتاب کے ذریعے اردو تنقید کے ذخیرے میں ایک گراں قدر اضافہ کیا ہے۔ تخلیق، تخلیقی شخصیت اور تنقید کے اس سہ رخی مطالعے سے اردو ادب کے طلبہ اور محققین دیر تک مستفید ہوتے رہیں گے۔

No comments:
Post a Comment