زبان انسان کی سب سے بڑی نعمت اور تہذیب و ثقافت کی بنیاد ہے۔ زبان کے علمی اور سائنسی مطالعے کو علم اللسان یا لسانیات کہا جاتا ہے۔ اردو زبان میں لسانیات پر جو تحقیقی کام ہوا ہے، اس کا تنقیدی جائزہ لینا بے حد ضروری ہے تاکہ اس میدان میں ہونے والی پیش رفت کو سمجھا جا سکے۔ "علم اللسان کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ" قاضی عابد کی ایک ایسی ہی سنجیدہ علمی کاوش ہے جو اسی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔
علم اللسان ایک وسیع علم ہے جس میں زبان کی ساخت، آوازوں کے نظام یعنی صوتیات، الفاظ کی بنت یعنی صرف، جملوں کی ساخت یعنی نحو اور معنوں کے مطالعے یعنی معنیات جیسے اہم شعبے شامل ہیں۔ اردو جیسی قدیم اور مالا مال زبان کی لسانیاتی خصوصیات کو سمجھنے کے لیے اس علم سے واقفیت ناگزیر ہے۔ جو شخص اردو زبان کی تہہ تک پہنچنا چاہتا ہے، اسے علم اللسان سے ضرور روشناس ہونا چاہیے۔
اردو میں لسانیات کی روایت اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود اردو زبان۔ ابتدائی دور میں اہل زبان نے صرف و نحو کے قواعد مرتب کیے اور لغت نویسی کی بنیاد رکھی۔ پھر جدید دور میں مغربی لسانیات کے اثرات کے تحت اردو میں بھی سائنسی طرز کا لسانیاتی مطالعہ شروع ہوا۔ اس طویل سفر میں بے شمار اہل علم و دانش نے اپنا حصہ ڈالا ہے اور ہر دور میں اس علم کو نئی جہتیں ملی ہیں۔
کسی علمی کام کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ لینا دراصل اس کی قدر و قیمت کا تعین کرنا ہوتا ہے۔ جائزہ نگار یہ دیکھتا ہے کہ زیر مطالعہ کام میں کون سے نئے نکات پیش کیے گئے ہیں، اس کا طریق کار کیا ہے، اس کے نتائج کس حد تک قابل اعتماد ہیں اور اس میں کیا خامیاں رہ گئی ہیں۔ یہ عمل علم کی ترقی اور تحقیق کے معیار کو بلند رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔
قاضی عابد نے اپنے اس جائزے میں علم اللسان سے متعلق تحقیقی کام کو بڑی محنت اور دیانت سے پرکھا ہے۔ ان کا اسلوب سادہ، شستہ اور مدلل ہے۔ وہ نہ تو بے جا تعریف کرتے ہیں اور نہ بے بنیاد تنقید۔ ان کی تنقید تعمیری نوعیت کی ہے جس کا مقصد علم کی خدمت ہے۔ ایسے جائزے پڑھنے والے کے علمی ذوق کو بھی جلا بخشتے ہیں۔
اس جائزے کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ اس میں لسانیات کے مشکل اور دقیق مباحث کو عام فہم انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ جو قارئین لسانیات کے ابتدائی طالب علم ہیں، ان کے لیے بھی یہ جائزہ مفید ہے اور جو اس میدان کے سنجیدہ محقق ہیں، ان کے لیے بھی اس میں غور و فکر کا وافر سامان موجود ہے۔
اردو ادب کے طلبہ اور محققین کے لیے اس نوع کے جائزے بے حد قیمتی ہوتے ہیں۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالہ نویس اکثر ایسے تنقیدی جائزوں سے استفادہ کرتے ہیں۔ زبان کے بغیر ادب کا تصور ممکن نہیں، اس لیے علم اللسان سے واقفیت ہر ادیب، شاعر اور نقاد کے لیے ضروری ہے۔ یہ جائزہ اسی واقفیت کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔
اچھی خبر یہ ہے کہ یہ تحقیقی و تنقیدی جائزہ پی ڈی ایف کی صورت میں دستیاب ہے۔ علم اللسان کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ قاضی عابد پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کر کے آپ اسے اپنے موبائل یا کمپیوٹر پر بآسانی پڑھ سکتے ہیں اور لسانیات کے اس قیمتی علمی سرمائے سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ لسانیات کے موضوع پر مزید اہم کتب بھی ملاحظہ کریں: ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کی اردو زبان اور لسانیات اور ڈاکٹر اشرف کمال کی لسانیات اور زبان کی تشکیل۔
No comments:
Post a Comment