
اردو میں قصیدہ نگاری — ایک تعارف
اردو شاعری کی جن اصناف نے صدیوں تک ادبی محفلوں اور درباروں کی زینت کا کام کیا ہے، ان میں قصیدے کا مقام سب سے نمایاں ہے۔ یہ محض مدح کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل فن ہے جس میں شاعر کی زبان دانی، اس کی قادرالکلامی اور اس کے تخیل کی وسعت ایک ساتھ آزمائی جاتی ہے۔ ڈاکٹر ابو محمد سحر کی کتاب "اردو میں قصیدہ نگاری" اسی عظیم فن کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ پیش کرتی ہے۔ دو سو نواسی صفحات پر مشتمل یہ کتاب قصیدے کی تاریخ، اس کے فنی لوازم اور اردو میں اس کے ارتقا کو ایک جگہ سمیٹے ہوئے ہے۔
قصیدے کی جڑیں عربی شاعری میں پیوست ہیں جہاں یہ قبائلی فخر اور مدحِ ممدوح کا ذریعہ تھا۔ فارسی شاعروں نے اس صنف کو نئی بلندیوں سے ہمکنار کیا اور جب اردو شاعری نے اپنے پَر پھیلائے تو قصیدہ بھی اس کے ساتھ آیا۔ دہلی اور لکھنؤ کے درباروں میں قصیدہ گوئی ایک معزز پیشہ سمجھی جاتی تھی اور بڑے بڑے شاعروں نے اس میدان میں اپنی قسمت آزمائی۔ یہی تاریخی پس منظر ہے جسے سمجھے بغیر اردو قصیدے کی قدر و قیمت کا صحیح اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔
اردو میں قصیدے کا ذکر آئے اور سودا اور ذوق کا نام نہ آئے، یہ ممکن نہیں۔ مرزا رفیع سودا کو اردو قصیدے کا امام کہا جاتا ہے تو ابراہیم ذوق نے اس صنف کو ایک نیا رنگ و آہنگ عطا کیا۔ ان بزرگوں کے قصائد آج بھی اردو ادب کے نصاب کا حصہ ہیں اور ہر طالب علم ان سے روشناس ہوتا ہے۔ "اردو میں قصیدہ نگاری" جیسی کتاب ان عظیم قصیدہ گوؤں کے فن کو سمجھنے میں قاری کی رہنمائی کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ ایک کامیاب قصیدے کی بنت کن اصولوں پر استوار ہوتی ہے۔
قصیدے کی فنی ساخت بھی بڑی دلچسپ ہے۔ مطلع سے اس کا آغاز ہوتا ہے، پھر تشبیب یا تغزل کا حصہ آتا ہے جس میں شاعر اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے، اس کے بعد مدح کا اصل موضوع شروع ہوتا ہے اور آخر میں دعا پر قصیدہ تمام ہوتا ہے۔ ہر حصے کے اپنے آداب اور تقاضے ہیں۔ جو قارئین اردو شاعری کے فنی علوم سے دلچسپی رکھتے ہیں ان کے لیے علم بیان، علم بدیع اور علم عروض پر ہماری مفصل کتاب بھی فائل اردو پر موجود ہے جو ان فنی مباحث کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہو گی۔
اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی اس کا تحقیقی اسلوب ہے۔ مصنف نے قصیدہ نگاری کے موضوع کو محض تعریفی انداز میں نہیں بلکہ تنقیدی نظر سے پرکھا ہے۔ تحقیق کا تقاضا یہی ہے کہ ہر دعوے کی تائید حوالوں اور شواہد سے کی جائے، اور تنقید کا تقاضا یہ ہے کہ خوبیوں کے ساتھ خامیوں پر بھی نظر رکھی جائے۔ ڈاکٹر ابو محمد سحر نے ان دونوں تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے، اسی لیے یہ کتاب اردو تحقیق و تنقید کے ذخیرے میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہے۔
اردو تنقید کی روایت بہت زرخیز رہی ہے اور ہر دور میں اہلِ قلم نے شعری اصناف کا جائزہ لیا ہے۔ قصیدے پر بھی ماضی میں بہت کچھ لکھا گیا مگر ایک جامع تحقیقی مطالعے کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی جاتی رہی۔ جو قارئین اردو تنقید کے شاہکاروں سے دلچسپی رکھتے ہیں وہ قبضِ زماں از شمس الرحمن فاروقی کا مطالعہ بھی ضرور کریں — یہ کتاب بتاتی ہے کہ ایک عظیم نقاد شعری متن کو کن گہرائیوں سے پرکھتا ہے۔
یہ کتاب کن کے لیے مفید ہے؟ ایم اے اردو کے طلبہ کے لیے یہ قصیدے کے باب کی تیاری میں ایک مستند حوالہ ہے۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے محققین جو اصنافِ سخن پر تحقیقی کام کر رہے ہیں، انہیں یہاں مفید مواد اور نئے زاویے ملیں گے۔ لیکچرر شپ، سی ایس ایس اور پی ایم ایس کے اردو کے پرچوں میں قصیدے اور اس کے فنی لوازم سے متعلق سوالات پوچھے جاتے ہیں۔ تنقیدی نظریات کی بنیادی تفہیم کے لیے تنقید اور جدید اردو تنقید از ڈاکٹر وزیر آغا بھی ایک بہترین انتخاب ہے۔
قصیدے کی ایک خوبصورت شاخ نعتیہ قصیدہ بھی ہے جس میں مدحِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو قصیدے کی باوقار ہیئت میں ڈھالا گیا ہے۔ اردو میں نعتیہ قصیدہ نگاری کی اپنی ایک الگ اور روشن تاریخ ہے جس پر مستقل تحقیقی کام بھی ہوا ہے۔ اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے فائل اردو پر نوید احمد کا پی ایچ ڈی مقالہ اردو میں نعتیہ قصیدہ نگاری بھی دستیاب ہے۔
فائل اردو کی یہی کوشش ہے کہ اردو ادب و تحقیق کی قیمتی کتابیں ہر اہلِ ذوق تک مفت پہنچیں۔ "اردو میں قصیدہ نگاری" از ڈاکٹر ابو محمد سحر کی پی ڈی ایف نیچے دیے گئے ڈاؤن لوڈ بٹن سے حاصل کیجیے۔ اگر آپ پہلے آن لائن مطالعہ کرنا چاہیں تو "ریڈ آن لائن" بٹن بھی موجود ہے۔ کتاب پڑھیے، اس سے استفادہ کیجیے اور اردو کے اس عظیم شعری ورثے کو نئی نسل تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیجیے۔
No comments:
Post a Comment