قبضِ زماں شمس الرحمن فاروقی Qabz e Zamaan Shamsur Rahman Faruqi Pdf

Qabz e Zamaan Shamsur Rahman Faruqi - book cover

Qabz e Zamaan Shamsur Rahman Faruqi pdf free download

عنوان: قبضِ زماں — میر تقی میر کی شاعری پر شمس الرحمن فاروقی کا تنقیدی شاہکار

اردو ادب کے سنجیدہ قارئین کے لیے کچھ کتابیں محض مطالعے کا سامان نہیں ہوتیں بلکہ ایک ایسا دریچہ ہوتی ہیں جس سے کسی عظیم شاعر کی پوری دنیا نئے رنگ میں نظر آنے لگتی ہے۔ شمس الرحمن فاروقی کی تصنیف قبضِ زماں اردو تنقید کی ایسی ہی ایک یادگار کتاب ہے جو میر تقی میر کی شاعری کو اس کے تمام تہذیبی تاریخی اور فکری پس منظر کے ساتھ سمجھنے کی ایک بے مثال کوشش ہے۔ یہ کتاب پڑھنے والا میر کو صرف ایک غمگین شاعر کے طور پر نہیں بلکہ ایک پورے عہد کی شعوری آواز کے طور پر پہچانتا ہے۔

قبضِ زماں کا موضوع میر تقی میر کی شاعری کا تنقیدی مطالعہ ہے مگر اس کا اسلوب محض تعارف یا شرح سے کہیں آگے بڑھ کر ایک مکمل فکری تجزیے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ فاروقی نے میر کے کلام کو اس کے لغوی اسلوبیاتی اور معنوی پہلوؤں سے اس گہرائی سے پرکھا ہے کہ اردو تنقید میں اس کتاب کو ایک سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ عنوان میں زماں کا لفظ محض اتفاق نہیں فاروقی کے نزدیک میر کی شاعری کی مرکزی قوت وقت کی وہ گرفت ہے جو انسانی وجود تہذیب کے زوال اور خوابوں کے بکھرنے کو ایک ہی لڑی میں پرو دیتی ہے۔

مصنف کا ذکر آئے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ شمس الرحمن فاروقی اردو تنقید کے ان معدودے چند ناموں میں ہیں جنہوں نے اس شعبے کو جدید علمی بنیادوں پر استوار کیا۔ ان کی نظر مغربی تنقیدی نظریات پر بھی اتنی ہی گہری ہے جتنی مشرقی شعری روایت پر اور یہی دوہرا تناظر ان کی تحریروں کو ایک منفرد وقار عطا کرتا ہے۔ قبضِ زماں میں ان کی یہی علمی وسعت اور فکری دیانت پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب آج بھی تنقید کے طالب علموں کے لیے ایک زندہ حوالہ ہے۔

اس کتاب کی انفرادی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس سے قبل میر پر لکھنے والے اکثر ناقدین ان کی شاعری کے صرف ظاہری پہلوؤں غم حسرت اور سوز تک محدود رہے۔ فاروقی نے اس دائرے کو توڑا اور دکھایا کہ میر کے ہاں یہ جذبات محض ذاتی کیفیتوں کا اظہار نہیں بلکہ ایک پورے تہذیبی بحران کی شاعرانہ تعبیر ہیں۔ ان کے تجزیے میں میر کا ہر شعر ایک نئے معنیاتی افق کی طرف اشارہ کرتا نظر آتا ہے اور قاری محسوس کرتا ہے کہ وہ اردو شاعری کے سب سے گہرے سمندر میں اتر رہا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو قبضِ زماں کو میر پر لکھی گئی دیگر کتابوں سے ممتاز کرتا ہے۔

کتاب کے مندرجات میں میر کی شاعری کے اسلوب ان کے عہد کے ادبی و سماجی ماحول اور ان کے منتخب اشعار کی مفصل تشریح شامل ہے۔ فاروقی نے جگہ جگہ اصل اشعار درج کر کے ان کا باریک بینی سے تجزیہ کیا ہے جس سے عام قاری بھی ان نکات تک رسائی حاصل کر لیتا ہے جو پہلے صرف ماہرین کے حلقوں تک محدود تھے۔ یہی اس کتاب کا بڑا کمال ہے کہ وہ علمی گہرائی اور عام فہمی کو ایک ساتھ لے کر چلتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسے اردو تنقید کی تدریس میں بھی ایک اہم مقام حاصل ہے۔

یہ تصنیف کن قارئین کے لیے مفید ہے ایم اے اردو اور ایم فل کے طلبہ کے لیے یہ ایک بنیادی حوالہ ہے لیکچرر شپ اور سی ایس ایس و پی ایم ایس جیسے مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرنے والوں کے لیے یہ تنقید کے حصے کی تیاری میں بے حد معاون ثابت ہو گی اور اردو ادب سے محبت رکھنے والا ہر وہ قاری جو میر تقی میر کو صحیح معنوں میں سمجھنا چاہتا ہے اس کتاب سے بھرپور استفادہ کر سکتا ہے۔

آخر میں بس اتنا کہ فائل اردو کی یہی کوشش ہے کہ اردو کی نایاب و قیمتی کتابیں ہر اہلِ ذوق تک مفت پہنچیں۔ قبضِ زماں کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کیجیے اسے غور سے پڑھیے اور میر کی شاعری کی اس نئی دنیا سے آشنا ہوئیے جس کا دروازہ شمس الرحمن فاروقی نے آپ کے لیے کھولا ہے۔

No comments: