Urdu Afsana Ghar Se Ghar Tak By Ahmad Nadeem Qasmi Pdf
اردو افسانہ گھر سے گھر تک از احمد ندیم قاسمی
احمد ندیم قاسمی کا نام اردو ادب میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ بیک وقت ایک بڑے شاعر، افسانہ نگار، صحافی اور مدیر تھے، اور ان کی ادبی زندگی چھ دہائیوں پر محیط ہے۔ افسانے کے میدان میں ان کا مجموعہ "گھر سے گھر تک" ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس مجموعے کے افسانے انسانی رشتوں کی نازک ڈوریوں کو چھوتے ہیں۔ گھر، خاندان، ماں باپ، بہن بھائی، میاں بیوی — یہی وہ موضوعات ہیں جن کے گرد قاسمی کے افسانے گھومتے ہیں، اور ان افسانوں کو پڑھ کر قاری کو اپنا ہی گھر یاد آ جاتا ہے۔
قاسمی صاحب 1916ء میں ضلع خوشاب کے ایک گاؤں انگہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد وہ لاہور آ گئے اور یہیں ادبی دنیا میں اپنا لوہا منوایا۔ انہوں نے "ادبِ لطیف"، "سورغ"، "فنون" اور "نقوش" جیسے معتبر رسالوں کی ادارت کی۔ ان کی شاعری اور افسانہ نگاری دونوں میں ایک خاص تہذیب اور شائستگی نظر آتی ہے۔ وہ لفظوں کے جادوگر تھے — سادہ الفاظ میں گہرے جذبات بیان کرنا ان کا خاص کمال تھا، اور یہی کمال "گھر سے گھر تک" کے ہر افسانے میں جھلکتا ہے۔
"گھر سے گھر تک" کا عنوان خود ایک افسانہ ہے۔ گھر سے نکل کر پھر گھر تک پہنچنا — یہی انسان کی زندگی کا سفر ہے۔ ہم گھر سے نکلتے ہیں، دنیا دیکھتے ہیں، تجربے حاصل کرتے ہیں، اور پھر گھر لوٹ آتے ہیں۔ قاسمی نے اسی سفر کو اپنے افسانوں میں سمویا ہے۔ ان کے کردار عام زندگی کے لوگ ہیں — ایک باپ جو اولاد کی فکر میں گھلا جا رہا ہے، ایک ماں جو بچوں کی خوشیوں کے لیے اپنی خواہشیں قربان کر دیتی ہے، ایک بھائی جو ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ یہ کردار ہمیں اپنے آس پاس نظر آتے ہیں۔
قاسمی کے افسانوں کی زبان ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ وہ نہ تو مشکل عربی فارسی الفاظ کا ڈھیر لگاتے ہیں اور نہ ہی بازاری زبان استعمال کرتے ہیں۔ ان کی زبان میٹھی، شستہ اور پراثر ہے۔ جملے چھوٹے مگر معنی سے بھرپور ہوتے ہیں۔ پڑھنے والا ایک نشست میں افسانہ ختم کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانے اسکولوں اور کالجوں کے نصابوں میں بھی شامل کیے گئے، اور نئی نسل بھی ان سے یکساں لطف اندوز ہوتی ہے۔
قاسمی صاحب کے افسانوی فن کی بہترین مثال ان کا مشہور افسانہ کپاس کا پھول ہے، جو دیہی زندگی کی سادگی اور انسانی ہمدردی کی ایک لاجواب تصویر پیش کرتا ہے۔ "گھر سے گھر تک" کے افسانے پڑھنے کے بعد اگر آپ "کپاس کا پھول" پڑھیں تو قاسمی کے فن کی وسعت کا اندازہ ہوگا۔ دونوں میں ایک ہی سچائی ہے — انسان سے محبت، اور یہی ان کے ادب کا مرکزی پیغام ہے۔
قاسمی صرف افسانہ نگار نہیں تھے، وہ ایک بڑے شاعر بھی تھے۔ ان کی شاعری میں بھی وہی انسانی ہمدردی اور تہذیب نظر آتی ہے جو ان کے افسانوں میں ہے۔ ان کی شاعرانہ شخصیت کو سمجھنے کے لیے احمد ندیم قاسمی بطور شاعر کا مطالعہ بہت مفید ہے۔ شاعر اور افسانہ نگار دونوں حیثیتوں میں وہ ایک انسان دوست ادیب تھے، اور ان کا ادب آج بھی زندہ ہے۔
اردو افسانے کی پوری روایت کو سمجھنا ہو تو اردو افسانے کی روایت جیسی کتابیں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ اس روایت میں قاسمی کا مقام منفرد ہے — وہ نہ تو صرف فن برائے فن کے قائل تھے اور نہ ہی نعرے بازی کے۔ ان کا افسانہ زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ "گھر سے گھر تک" ہر اس شخص کو پڑھنی چاہیے جو اردو افسانے سے دلچسپی رکھتا ہے، اور یہ کتاب یہیں سے پی ڈی ایف میں مفت ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے۔

No comments:
Post a Comment