Jadeediat Ki Falsafyana Isaas By Shamim Hanfi Pdf
اردو ادب میں جدیدیت کا لفظ سب سے زیادہ استعمال ہونے والی اور سب سے کم سمجھی جانے والی اصطلاح ہے۔ عام طور پر جدیدیت کو ایک ادبی تحریک یا نئی شاعری کا نام سمجھا جاتا ہے، لیکن شمیم حنفی اپنی اس اہم کتاب میں جدیدیت کو محض ادبی رجحان کے طور پر نہیں بلکہ ایک گہرے فلسفیانہ سوال کے طور پر اٹھاتے ہیں۔ ان کے نزدیک جدیدیت کسی خاص دور کی ادبی پیداوار کا نام نہیں، بلکہ انسانی شعور کی ایک خاص کیفیت ہے جو وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے اور ہر دور میں اپنے نئے معنی تلاش کرتی ہے۔
شمیم حنفی اردو کے ان چند ناقدین میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے ادب کو فلسفے کی روشنی میں دیکھا اور فلسفے کو ادب کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کی۔ جدیدیت کی فلسفیانہ اساس میں انہوں نے یہ بنیادی سوال اٹھایا ہے کہ جدیدیت دراصل کیا ہے۔ کیا یہ مغرب کی تقلید ہے، یا ہمارے اپنے تاریخی شعور کا ایک ناگزیر مرحلہ ہے۔ مصنف کا موقف ہے کہ جدیدیت کو سمجھنے کے لیے ہمیں مغربی فلسفے کے بنیادی تصورات یعنی عقل، فرد، آزادی اور تاریخ کو سمجھنا ہوگا، اور پھر یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ تصورات ہمارے معاشرے اور ادب میں کس صورت میں داخل ہوئے۔
کتاب کا سب سے اہم حصہ وہ ہے جہاں شمیم حنفی جدیدیت کے فلسفیانہ سرچشموں کا تجزیہ کرتے ہیں۔ وہ دکھاتے ہیں کہ جدیدیت کی جڑیں یورپی فلسفے کے اس دور میں ہیں جب انسان نے پہلی بار اپنے آپ کو دنیا کا مرکز سمجھا اور عقلیت کو ہر شے کا معیار بنایا۔ لیکن حنفی صاحب اس فلسفیانہ پس منظر کو اردو ادب کے تناظر میں لاتے ہیں اور یہ پوچھتے ہیں کہ جب ہم اردو میں جدیدیت کی بات کرتے ہیں تو ہم کن فلسفیانہ بنیادوں پر کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ سوال اردو تنقید میں پہلی بار اس گہرائی کے ساتھ اٹھایا گیا تھا۔
مصنف نے جدیدیت اور روایت کے رشتے کو بھی نئے زاویے سے دیکھا ہے۔ ان کے نزدیک روایت اور جدیدیت ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ ایک ہی شعوری عمل کے دو رخ ہیں۔ ہر جدیدیت اپنی روایت کے اندر سے جنم لیتی ہے اور ہر روایت اپنے زمانے کی جدیدیت تھی۔ یہ نکتہ اردو ادب کے ان قارئین کے لیے خاصا اہم ہے جو جدیدیت کو مغربی سازش یا بے بنیاد تقلید سمجھتے ہیں۔ حنفی صاحب دلیل دیتے ہیں کہ جدیدیت سے انکار دراصل اپنے ہی تاریخی شعور سے انکار ہے۔
کتاب میں اردو شاعری اور افسانے کے حوالے سے بھی متعدد اہم بحثیں موجود ہیں۔ مصنف نے دکھایا ہے کہ کیسے اردو کے جدید شعرا نے نئے فلسفیانہ سوالات کو اپنے فن میں سمایا، اور کیسے ان سوالات نے اردو غزل اور نظم کی صورت گری کو بدل دیا۔ یہ تجزیے محض نظری نہیں بلکہ عملی تنقید کے عمدہ نمونے ہیں، اور اسی لیے یہ کتاب ان قارئین کے لیے بھی مفید ہے جو نظری اور عملی تنقید کے موضوعات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
شمیم حنفی کی نثر اس کتاب کی ایک اور نمایاں خوبی ہے۔ فلسفیانہ موضوعات کو انہوں نے ایسی شگفتہ اور رواں اردو میں بیان کیا ہے کہ عام قاری بھی ان سے مستفید ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مشکل فلسفیانہ اصطلاحات کی وضاحت اردو کے اپنے ذخیرۂ الفاظ میں کی ہے، جس سے یہ کتاب اصطلاحاتِ نقد و ادب کو سمجھنے کے خواہش مند طلبہ کے لیے بھی ایک قیمتی وسیلہ بن جاتی ہے۔
یہ کتاب محض ایک تنقیدی تصنیف نہیں بلکہ اردو فکری تاریخ کا ایک اہم دستاویز ہے۔ اسے پڑھنے سے قاری کو یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ اردو ادب نے جدیدیت کے چیلنج کا سامنا کیسے کیا اور اس چیلنج نے ہماری ادبی اور فکری زندگی کو کس طرح بدل دیا۔ جو قارئین اردو تنقید کے میدان میں مزید مطالعہ کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے تنقید اور عملی تنقید جیسی کتابیں بھی اسی سلسلے کی اگلی کڑی ثابت ہو سکتی ہیں۔
مختصر یہ کہ جدیدیت کی فلسفیانہ اساس ہر اس شخص کے لیے لازمی مطالعہ ہے جو اردو ادب کو سطحی طور پر نہیں بلکہ اس کے فکری پس منظر کے ساتھ سمجھنا چاہتا ہے۔ شمیم حنفی نے اس کتاب کے ذریعے اردو تنقید کو ایک نئی فلسفیانہ گہرائی عطا کی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی یہ کتاب جدیدیت پر ہونے والی ہر سنجیدہ بحث کا نقطۂ آغاز سمجھی جاتی ہے۔
No comments:
Post a Comment