اردو غزل نئی تشکیل طارق ہاشمی

 


Urdu Ghazal Nai Tashkeel By Tariq Hashmi Pdf 

غزل اردو شاعری کی وہ صنف ہے جو صدیوں سے قارئین کے دلوں پر راج کر رہی ہے۔ میر سے غالب تک اور غالب سے آج تک، غزل نے ہر دور میں اپنے آپ کو نئے سانچوں میں ڈھالا ہے۔ طارق ہاشمی کی کتاب اردو غزل نئی تشکیل اسی بدلتی ہوئی غزل کا ایک تنقیدی جائزہ ہے، جس میں مصنف نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ معاصر دور میں غزل کی صورت گری، اس کے موضوعات اور اس کی زبان میں کیا بنیادی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔

طارق ہاشمی اردو کے ان ناقدین میں ہیں جنہوں نے غزل کو محض جذباتی اظہار کا وسیلہ نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک سنجیدہ فکری اور فنی مسئلے کے طور پر دیکھا۔ اس کتاب میں انہوں نے غزل کی نئی تشکیل کے سوال کو تاریخی تناظر میں رکھا ہے۔ ان کے نزدیک نئی تشکیل سے مراد پرانی روایت کو توڑنا نہیں، بلکہ اس روایت کے اندر سے نئے امکانات تلاش کرنا ہے۔ ہر دور کی غزل اپنے زمانے کے سوالات کا جواب دیتی ہے، اور آج کی غزل بھی اسی اصول پر قائم ہے۔

کتاب کا ایک اہم حصہ کلاسیکی غزل سے موازنے پر مبنی ہے۔ مصنف نے دکھایا ہے کہ میر اور غالب کے عہد کی غزل میں جو باتیں مرکزیت رکھتی تھیں، وہ آج کے شعرا کے ہاں کس طرح نئے روپ میں سامنے آ رہی ہیں۔ مثلاً عشق کا تصور، جو کلاسیکی غزل کی جان تھا، آج سماجی اور نفسیاتی جہتوں کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح ہجر و وصال، رقیب اور صیاد جیسی روایتی علامتیں نئے معانی اختیار کر رہی ہیں۔

مصنف نے ناسخ جیسے کلاسیکی شعرا کی غزل گوئی کا بھی حوالہ دیا ہے، جن کی زبان اور بیان کی صفائی آج بھی معیار سمجھی جاتی ہے۔ جو قارئین کلاسیکی غزل کے اسلوب کو قریب سے دیکھنا چاہتے ہیں، ان کے لیے دیوانِ ناسخ کا مطالعہ اس کتاب کے ساتھ خاصا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اس موازنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نئی تشکیل دراصل پرانی بنیادوں پر نئی عمارت کی تعمیر کا نام ہے۔

میر تقی میر کی فارسی شاعری کا ذکر بھی کتاب میں ایک سے زائد مقامات پر آیا ہے، کیونکہ مصنف کے نزدیک فارسی غزل کی روایت کو سمجھے بغیر اردو غزل کی نئی تشکیل کا پورا پس منظر سمجھنا ممکن نہیں۔ اس ضمن میں دیوانِ میر (فارسی) اردو ترجمے کے ساتھ ان قارئین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہے جو غزل کے دو لسانی پس منظر میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

کتاب میں غزل کی زبان پر بھی تفصیلی بحث موجود ہے۔ طارق ہاشمی کا کہنا ہے کہ نئی غزل کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی زبان کی سادگی اور براہِ راست مخاطبہ ہے۔ آج کا شاعر مشکل تراکیب اور دھندلے استعاروں کے بجائے سیدھی اور صاف بات کہنا چاہتا ہے۔ یہ رجحان غزل کو عام قاری کے قریب لاتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آیا سادگی کے نام پر غزل کی تہہ داری ختم تو نہیں ہو رہی۔ مصنف نے اس سوال کا جواب بڑی دیانت داری سے تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔

طنز و مزاح کی روایت بھی غزل کی نئی تشکیل کا ایک دلچسپ پہلو ہے۔ جعفر زٹلی جیسے شعرا نے غزل کے قالب میں طنز کو جس مہارت سے برتا، اس کی مثال اردو شاعری میں کم ملتی ہے۔ اس موضوع کے شائقین کے لیے زٹل نامہ کا مطالعہ اس کتاب کے مباحث کو مزید روشن کر سکتا ہے۔

مختصر یہ کہ اردو غزل نئی تشکیل غزل کے طالب علموں، شعرا اور عام قارئین سب کے لیے ایک اہم کتاب ہے۔ یہ کتاب نہ صرف معاصر غزل کی سمت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ قاری کو غزل کی پوری تاریخ پر ایک نئی نظر ڈالنے کی دعوت بھی دیتی ہے۔ جو کوئی اردو غزل کے ماضی، حال اور مستقبل کو ایک ساتھ دیکھنا چاہتا ہے، اسے یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

DOWNLOAD


OR


READ ONLINE


No comments: