قرآت العین حیدر ایک مطالعہ ڈاکٹر ارتضیٰ کریم


Qurat Ul Ain Ak Mutala By Doctor Irtiza Karim pdf free download


قراۃ العین حیدر: ایک مطالعہ — ایک تعارف

اردو ادب میں قراۃ العین حیدر کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ اردو کی وہ ناول نگار ہیں جنھوں نے ناول کی صنف کو نئی بلندیوں سے ہمکنار کیا۔ "آگ کا دریا" اور "آخر شب کے ہم سفر" جیسے شاہکار انھی کے قلم کا کرشمہ ہیں۔ اتنی بڑی ادیبہ پر تحقیق ہونا ایک فطری امر تھا، اور ڈاکٹر ارتضیٰ کریم کی کتاب "قراۃ العین حیدر: ایک مطالعہ" اسی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔

بڑے ادیبوں پر تنقیدی کتابیں لکھنا آسان کام نہیں۔ اس کے لیے نہ صرف اس ادیب کی تمام تصانیف کا گہرا مطالعہ درکار ہوتا ہے بلکہ اس کے عہد، اس کے فکری پس منظر اور اس کی تکنیک کو بھی سمجھنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر ارتضیٰ کریم نے یہ مشکل کام بڑی محنت اور دیانت سے انجام دیا ہے۔ ان کی کتاب قراۃ العین حیدر کے فن کو سمجھنے کا ایک معتبر ذریعہ ہے۔

کتاب کا آغاز قراۃ العین حیدر کی سوانح سے ہوتا ہے۔ ان کی پیدائش، تعلیم، خاندانی پس منظر اور ادبی سفر — یہ سب تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ مصنف نے دکھایا ہے کہ ان کی شخصیت کی تشکیل میں کن کن عوامل نے کردار ادا کیا۔ لکھنؤ کی تہذیب، علی گڑھ کا علمی ماحول اور بمبئی کی فلمی دنیا — یہ سب ان کی تحریروں میں جھلکتے ہیں۔

کتاب کا سب سے اہم حصہ ان کے ناولوں کا تنقیدی جائزہ ہے۔ "آگ کا دریا" پر تفصیلی بحث کی گئی ہے — اس کی تکنیک، اس کے کردار، اس کے تاریخی شعور اور اس کی علامت نگاری پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مصنف نے ان ناقدانہ اعتراضات کا بھی جواب دیا ہے جو اس ناول پر کیے گئے۔ یہ بحث پڑھ کر ناول کی نئی تہیں کھلتی ہیں۔

"آخر شب کے ہم سفر" پر بھی مصنف نے تفصیل سے لکھا ہے۔ یہ ناول تقسیم ہند کے پس منظر میں لکھا گیا اور اس پر مصنفہ کو گیان پیٹھ انعام ملا۔ ڈاکٹر ارتضیٰ کریم نے اس ناول کے فکری و فنی محاسن کا جائزہ لیا ہے اور دکھایا ہے کہ یہ ناول کس طرح "آگ کا دریا" سے مختلف اور مکمل ہے۔

قراۃ العین حیدر کے افسانوں کو بھی کتاب میں نظر انداز نہیں کیا گیا۔ ان کے افسانے ان کے ناولوں کی طرح مشہور تو نہیں، مگر ان میں بھی ان کے فن کی جھلک ملتی ہے۔ مصنف نے ان افسانوں کے موضوعات اور تکنیک پر بھی بحث کی ہے۔

ان کی نثر اور زبان پر ایک الگ باب ہے۔ قراۃ العین حیدر کی زبان میں لکھنؤ کی نزاکت بھی ہے اور جدیدیت کی تازگی بھی۔ ان کے استعارے، ان کی منظر کشی اور ان کے مکالمے — ان سب کا تجزیہ کتاب میں موجود ہے۔ زبان کے طالب علموں کے لیے یہ باب خاص طور پر مفید ہے۔

عورت کے مسائل قراۃ العین حیدر کی تحریروں کا ایک اہم موضوع ہیں۔ ان کی ہیروئنز مضبوط، خود مختار اور سوچنے والی عورتیں ہیں۔ ڈاکٹر ارتضیٰ کریم نے ان کے ہاں نسائی شعور کا جائزہ لیا ہے اور دکھایا ہے کہ وہ عورت کو کس نظر سے دیکھتی ہیں۔ یہ بحث آج کے دور میں خاصی اہم ہے۔

تاریخی شعور ان کی تحریروں کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔ وہ تاریخ کو محض پس منظر کے طور پر استعمال نہیں کرتیں بلکہ اسے کہانی کا حصہ بنا دیتی ہیں۔ مصنف نے اس پہلو کو بھی تفصیل سے بیان کیا ہے اور مثالوں سے واضح کیا ہے۔

تحقیق کے طالب علموں کے لیے یہ کتاب ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ اس میں حوالہ جات کی فراوانی ہے، مباحث مدلل ہیں اور اسلوب رواں ہے۔ ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ جو قراۃ العین حیدر پر کام کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ کتاب ایک بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔

مجھے اس کتاب کی ایک بات بہت اچھی لگی کہ مصنف نے تنقید میں توازن رکھا ہے۔ نہ تو بے جا تعریف کی ہے اور نہ ہی بے بنیاد تنقید۔ جہاں خوبی دیکھی، اسے سراہا، اور جہاں کمزوری محسوس کی، اس کی نشاندہی بھی کی۔ ایسی دیانت دار تنقید آج کل کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔

اگر آپ اردو ادب کے سنجیدہ قاری ہیں اور قراۃ العین حیدر کے فن کو گہرائی سے سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ کتاب آپ کے لیے ہے۔ اس کتاب کی پی ڈی ایف مفت ڈاؤن لوڈ کیجیے اور اس تحقیقی مطالعے سے استفادہ کیجیے۔ نیچے دیے گئے ڈاؤن لوڈ بٹن پر کلک کر کے آپ "قراۃ العین حیدر: ایک مطالعہ" کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ مفت کر سکتے ہیں۔ پڑھیے اور اپنے دوستوں کے ساتھ بھی شیئر کیجیے۔

 DOWNLOAD

No comments: