رین اجیارا پرتو روہیلہ

 

Rain Ajyara By Parto Rohela Pdf Free Download


اردو ادب کے قارئین پرتو روہیلہ کے نام سے خوب واقف ہیں، مگر اب تک یہ نام زیادہ تر غالب شناسی اور تحقیقی کاموں کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ رین اجیارا ان کی وہ کتاب ہے جو ان کی شخصیت کے ایک بالکل مختلف اور دلکش رخ سے ہمیں روشناس کراتی ہے۔ یہ ان کا شعری مجموعہ ہے، جس میں وہ محقق اور مترجم کی کرسی سے اٹھ کر شاعر کے منصب پر جلوہ گر ہوتے ہیں، اور دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ تحقیق کی گہرائی نے ان کی شاعری کو بوجھل نہیں بنایا بلکہ اسے ایک نکھار عطا کیا ہے۔

کتاب کا نام ہی اپنے اندر ایک پوری فضا سموئے ہوئے ہے۔ رین کے معنی رات کے ہیں اور اجیارا اجالے کو کہتے ہیں، یوں رین اجیارا کا مطلب ہوا رات کا اجالا، یعنی چاندنی رات۔ شاعر نے اس نام کے انتخاب سے ہی اپنے مجموعے کا مزاج واضح کر دیا ہے۔ یہ راتوں کی شاعری ہے، تنہائی کی شاعری ہے، ان لمحوں کی شاعری ہے جب انسان اپنے آپ سے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔

پرتو روہیلہ کی علمی زندگی کا بڑا حصہ غالب کی فارسی اور اردو تحریروں کی تحقیق و تدوین میں گزرا ہے۔ ان کی مرتب کردہ متفرقاتِ غالب اس بات کی گواہ ہے کہ وہ کلاسیکی ادب کی روح سے کس قدر گہرا رشتہ رکھتے ہیں۔ یہی گہرا رشتہ رین اجیارا کی شاعری میں بھی جھلکتا ہے۔ ان کے اشعار میں روایت کی خوشبو ہے، لفظوں کا چناؤ سوچا سمجھا ہے، اور ہر شعر کے پیچھے مطالعے کی وہ وسعت محسوس ہوتی ہے جو صرف ایک سنجیدہ قاری اور محقق کے حصے میں آتی ہے۔

مجموعے کی نمایاں خوبی اس کے موضوعات کی وسعت ہے۔ محبت اور فراق، وصل کی تمنا اور ہجر کا کرب، فطرت کے مناظر اور چاندنی راتوں کی کیفیات، یہ سب اس مجموعے میں ایک فطری روانی کے ساتھ موجود ہیں۔ شاعر نے کہیں بھی جذبے کو مصنوعی بلندی دینے کی کوشش نہیں کی۔ ان کی غزلوں میں وہ سادگی ہے جو قاری کے دل میں اتر جاتی ہے، اور ان کی نظموں میں فکر کی وہ گہرائی ہے جو پڑھنے والے کو دیر تک سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

زبان کے حوالے سے رین اجیارا ایک خوشگوار تجربہ ہے۔ پرتو روہیلہ نے فارسی اور اردو کے کلاسیکی ذخیرے سے استفادہ تو کیا ہے مگر ان کی زبان کہیں بھی ثقیل یا بے جا مشکل نہیں ہونے پائی۔ یہی وہ توازن ہے جو ایک اچھے شاعر کی پہچان ہوتا ہے۔ پرانے لفظ نئے مفاہیم کے ساتھ اور نئے خیالات پرانی روایت کے سانچے میں ڈھل کر ایک ایسی شاعری تخلیق کرتے ہیں جو بیک وقت آشنا بھی لگتی ہے اور تازہ بھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ رات اور اس سے جڑی علامتیں پرتو روہیلہ کے ہاں ایک مستقل موضوع کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی ایک اور تصنیف انتہائے شب کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ شب کا تصور ان کے فکری اور تخلیقی نظام میں مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔ رین اجیارا میں بھی رات محض ایک وقت نہیں بلکہ ایک کیفیت ہے، ایک ایسی فضا ہے جس میں شاعر اپنے جذبات و خیالات کو پوری آزادی سے پروان چڑھاتا ہے۔

اردو شاعری کی روایت میں رات، چاند اور تنہائی کے موضوعات کو ہمیشہ مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ میر سے لے کر غالب تک اور اقبال سے لے کر جدید شاعروں تک، ہر دور کے شاعر نے ان کیفیات کو اپنے اپنے انداز میں برتا ہے۔ جو قاری کلاسیکی شاعری کے اس تسلسل کو سمجھنا چاہتا ہے، اس کے لیے دیوانِ میر فارسی جیسی کتابوں کے ساتھ ساتھ رین اجیارا کا مطالعہ بھی بے حد مفید ثابت ہوگا، کیونکہ اس مجموعے میں روایت اور جدت کا وہی حسین امتزاج ملتا ہے جو اردو شاعری کی اصل روح ہے۔

یہ کتاب کن لوگوں کے لیے ہے؟ سب سے پہلے تو ان تمام قارئین کے لیے جو اردو شاعری سے سچی محبت رکھتے ہیں اور نئے مگر سنجیدہ شاعروں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ پھر ان طلبہ اور محققین کے لیے جو پرتو روہیلہ کے تحقیقی کام سے واقف ہیں اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور پھر ان حساس دلوں کے لیے جو رات کی تنہائی میں شاعری پڑھنے کے عادی ہیں اور جن کے لیے ایک اچھا شعر رات بھر کی تنہائی کا ساتھی بن جاتا ہے۔

مختصر یہ کہ رین اجیارا صرف ایک شعری مجموعہ نہیں بلکہ ایک محقق کی شاعرانہ روح کا اظہار ہے۔ پرتو روہیلہ نے تحقیق کے میدان میں جو مقام بنایا تھا، اس مجموعے کے ذریعے انہوں نے شاعری کے میدان میں بھی اپنی ایک الگ پہچان قائم کر لی ہے۔ اردو شاعری کے ہر سچے قاری کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔ رین اجیارا کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں اور اس چاندنی رات کی سیر سے لطف اندوز ہوں۔

DOWNLOAD


OR


READ ONLINE

No comments: